×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کلمہ انتظار فرج سے غلط مطلب نکالنا

تیر 25, 1393 565

امام زمانہ(عج) کا قیام اور دیگر امور معمول کے مطابق انجام پائیں گے ایسا نہیں ہے کہ یہ سب معجزہ کے ساتھ انجام پائے گا۔ جیسا کہ امام صادق (ع)

فرماتے ہیں:
جب ہمارے قائم (عج) قیام فرمائیں گے تو سب فقط زینوں (سواریوں )پر خون و پسینہ گرائیں گے اور نیند چھوڑ دیں گے یعنی ایسا نہیں کہ سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہیں گے اور امام معجزہ کے ساتھ جنگ کریں گے نہ بلکہ سب اس جنگ میں شریک ہونگے اپنا آرام و خون اس پر قربان کریں گے۔
* امام زمانہ (عج) کے قیام سے پہلے لوگ اس قیام کے اسباب فراہم کریں گے اور تیاری کریں گے جیسا کہ روایات ایک گروہ کے بارے میں ذکر ہوا ہے کہ وہ امام مہدی کی حکومت کےلیے تیاری کریں گے۔
غیبت کے زمانہ میں امام کی امامت کے قائل اور انکے ظہور کے منتظر ہر زمانے والوں سے افضل ہیں ۔ ۔ ۔ وہ حقیقی طور پر مخلص سچے شیعہ اور اللہ کے دین کی طرف علانیہ اور خفیہ دعوت دینے والے ہیں۔ –
* اگر انسان کسی امر میں مکمل طور پر اصلاح نہیں کرسکتا تو اپنی طاقت کے مطابق کرنا اس پر فرض ہے یہ اس سے ساقط نہیں ہوگا۔
* یہ نظریہ کہ جلد ظہور ہونے کیلئے گناہ کریں مکمل طور پر غلط ہے کیونکہ جس طرح امام مھدی (عج) کی حکومت ظلم و جور کو ختم کرنے والی اور عدل و انصاف کو قائم کرنے والی ہے اس حکومت تک پہنچنے کا راستہ بہی اسی طرح ہے کہ اس راستے میں نہ کسی پر ظلم ہے نہ شقاوت ہے نہ ریاکاری اور جھوٹ ہے کبھی بھی مقدس ھدف کی بنا پر گناہ جائز نہیں ہوتا کیونکہ گناہ سے گناہ پیدا ہوتا ہے اور ظلم سے کبھی عدل جنم نہیں لیتا۔
* واضح سی بات ہے کہ ایسا ضروری نہیں ہے کہ سب لوگ ظالم یا فاسد ہو جائیں تو پہر زمین کا ظلم سے بہر جانا ہوگا۔ نہ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں ظالم ہونگے اور مظلوم بہی ہونگے اور امام زمانہ کے محبین ہونگے جو مسلسل فعالیت اور کوشش سے آپکے ظہور کیلئے راہ ہموار کریں گے۔ جیسا کہ امام صادق نے فرمایا ہے !۔۔۔۔۔۔۔لا واللہ لایاتیکم حتی یشقی من مشقی و یسعد من سعد(کمال الدین ج 2 ص 346) یہ ظہور اس وقت تک بپا نہیں ہوگا جب تک ظالم اور نیک اپنے کام کاانجام نہ دیکہ لیں۔
پس معلوم ہوا کہ اس روز میں سب ظالم اور فاسد نہیں ہونگے بلکہ ظالموں کے ساتہ نیک بہی ہونگے البتہ ظالم اپنے ظلم کریں گے کہ معلوم ہوگا دنیا ظلم سے پرہوگئ ہے اور دنیا میں اب نیک لوگوں کے لئے اب جگہ نہیں رہی۔ دوسری بات یہ ہے کہ آیات اور روایات میں ہمیں ظلم و ستم سے جنگ کرنے کی دعوت دی گئ ہے جیسا کہ آنحضرتؐ فرماتے ہیں:
یکون فی آخر الزمان قوم یعملون المعاصی و یقولون ان اللہ قد قدرہا علیہمظ¬ الراد علیہم کشا ہر سیفہ فی سبیل اللہ(الطرائف ج 2 ص344)
آخری زمانہ میں ایک گروہ معصیت کرے گا اور کہیں گے کہ اللہ نے یہ انکی قسمت میں لکہا تہا (یعنی جبر کے قائل ہونگے) تو جو انکی باتوں کو رد کرے گا اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے اللہ کی راہ میں تلوار چلائی ہو۔
 یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ ظہور سے قبل پر علم اور پرچم باطل ہے اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کیلئے ہر تحریک اور قیام با طل ہے نہ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ قیام اور تحریک جو امام زمانہ کے نام سے شروع ہو (کوئ جھوٹا دعوی کرے) وہ باطل ہے ۔ اسی لیے آئمہ نے حضرت زید کے قیام اور انکی مانند اسی طرح کی دیگر کوششوں کی تائید کی مثلا امام کاظم (ص)  فرماتے ہیں:
اہل قم میں سے ایک شخص لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گا اس کے حامی محکم اور فولادی جذبوں والے ہونگے کہ جو جنگ سے تھکیں گے نہیں اور نہ دشمن سے خوف کھائیں گے فقط اللہ پر توکل کریں گے اور اچھی عاقبت ان کےلیے ہے کہ جو اھل تقوی ہوں۔
امام خمینی رہ فرماتے ہیں :
پوری دنیا کو عدالت سے بھرنا یہ ہم نہیں کرسکتے اگر کر سکتے تو ضرور کرتے لیکن چونکہ ایسا نہیں کرسکتے –اگر طاقت ہوتی تو ضرورت روکتے چونکہ ظلم روکنا ہمارا شرعی وظیفہ ہے لیکن یہ پوری دنیا کا ظلم چونکہ ہم نہیں روک سکتے تو ضروری ہے آپ (ص) تشریف لائیں لیکن ہم کو چاہیے کہ امام کی نصرت کے لیے کام کریں اس کام کے اسباب فراہم کریں اس طرح تیاری کریں کہ ان کے آنے کے تمام اسباب مہیا ہوں۔
یہ جو کہتے ہیں کہ ہر حکومت و علم انتطار فرج کے خلاف ہے یہ نہیں سمجھتے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں – یہ جو لوگوں کے ذہنوں میں یہ ڈال رہیں ہیں لیکن خود نہیں سمجھتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں حکومت صالح نہ ہو یعنی لوگ ایک دوسرے پر تجاوز کریں۔
ایک دوسرے کو قتل کریں اور مار دیں یہ سب قرآنی آیات کے خلاف بات ہے فرض کرو ایسی اگر 200 روایات بھی ہو پس سب کو دیوار پر دے مارتے چونکہ یہ روایات قرآنی آیات کےخلاف ہیں جو روایات یہ کہتی ہیں کہ نہی عن المنکر نہ کرو وہ قابل عمل نہیں ہے بلکہ آپ لوگ انکے تشریف لانے کے اسباب مہیا کریں اکٹھے ہوں مل جل کر کام کریں کہ انشاء اللہ حضرت ظہور فرمائیں ظ¬
اب جبکہ ہم زمانہ غیبت میں ہیں ضروری ہے اسلام کے حکومتی احکام باقی رہیں اور جاری ہوں تاکہ لوگوں میں فتنہ و فساد پیدا نہ ہو ضروری ہے اسلامی حکومت تشکیل پاۓ ظ¬ عقل بھی یہی کہتی ہے تاکہ اگر دشمنان اسلام ہم پر حملہ کریں ہم ان کو روک سکیں اگر مسلمانوں کی ناموس پر حملہ ہوگا تو ہم دفاع کرسکیں۔
غیبت صغری سے لیکر اب تک ہزار سال اور چند صدیاں گذر گئیں اور ممکن ہے لاکھوں سال اور گذر جائیں کبھی مصلحت پیدا نہ ہو کہ آپ (ص)  ظہور کریں تو اس مدت میں اسلامی احکام اسی طرح پڑے رہیں گے ظ¬جاری نہ ہو ظ¬جو بھی کچھ کرے کرتا رہے ظلم و فساد ہوتا رہے؟
ایسی باتوں پر عقیدہ رکھنا تو اسلام کے منسوخ ہونے کے عقیدہ سے بھی بد تر ہے –
اب جبکہ غیبت کا زمانے میں اللہ تعالی کی طرف سے کوئ خاص شخص اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے معین نہیں ہے تو ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟ آیا اسلام کو چھوڑ دیں آیا اسلام صرف دو سو سال تک تھا اب ہمارے لیے کوئ تکلیف نہیں یا یہ کہ حکومت بنانے کی کوئ ذمہ داری نہیں ہے اسلامی حکومت نہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کی کوئ حدود نہیں (نہ کوئ قانون نہ کوئ اجراء) ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں۔ وہ جو کریں کرلیں ہم خاموش رہیں ۔
بشکریہ :الحسنین ڈاٹ کام

Login to post comments