×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

جناب فاطمہ الزہرا

تیر 26, 1393 393

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت خدیجہ الکبری کی الکوتی بیٹی تھیں۔ آپ کی مشہور کنیت ام الائمہ اور مشہور لقب

سیدہ النساء ہے۔ یہی وہ سند افضلیت ہے جو انہیں ازل سے ابد تک آنے والی تمام عورتوں سے سرفراز و ممتاز اور لائق احترام بناتی ہے۔
اس موقع پر یہ امر لائق اظہار ہے کہ اکثر کوتاہ بینوں نے رسول خدا (ص) کی تین اور بیٹیوں زینب (س)، رقیہ ام کلثوم کا بھی ذکر کیا ہے۔ حالانکہ یہ امر مسلمہ ہے کہ جناب خدیجہ الکبری آنحضرت (ص) سے عقد کے وقت باکرہ یعنی کنواری تھیں۔ نیز یہ کہ قاسم و عبداللہ (طیب و طاہر) اور جناب فاطمہ (س) حضرت خدیجہ کے بطن سے رسول اللہ صلعم کی اولادیں تھیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مصدقہ ہے کہ اعلان نبوت سے قبل یہ لڑکیاں پسران ابولہب اور ابوالعاص سے منسوب ہوچکی تھیں۔ (مروج الذہب مسعودی جلد 2 صفحہ 298 طبع مصر) غور طلب یہ امر ہے کہ 25 سال کی عمر میں آپ (ص) نے حضرت خدیجہ سے نکاح کیا تھا۔ پانچ سال تک کسی اولاد کا ظہور نہیں ہوا۔ چالیس سال کی عمر تک پہنچ کر آپ (ص) کے بیٹے بھی ہوئے اور تین بیٹیاں بھی اور اس مدت میں اس عمر کو پہنچ گئیں کہ رسول خدا (ص) نے بغیر سوچ سمجھے کافروں کے ساتھ انہیں بیاہ بھی دیا۔ یہ خیال کسی شدید بدحواسی کا مفروضہ ہے اور پیغمبر (ص) پر کتنا زبردست اتہام ہے ان عقائد کا واضح مقصد جناب فاطمہ (س) کے مدارج و مناسک کو مجروح کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہ لڑکیاں جناب جناب خدیجہ کی نہیں بلکہ ہمشیرہ خدیجہ ہالہ بنت خویلد کی تھیں۔ اپنی والدہ اور والد ابوالہند کی ناچاقیوں کی بنا پر اپنی خالہ جناب خدیجہ کے زیر کفالت رہیں۔ یہی لڑکیاں حضرت خدیجہ کے رسول اللہ (ص) کے ساتھ ازواج منسلک ہونے کی بعد رسول اللہ (ص) کی بیٹیاں کہی جانے لگیں۔ حالانکہ در اصل دو بیٹیاں نہیں تھیں۔

Login to post comments