×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

جناب فاطمہ زہراء (س) کا بچپن تنگی اور مصائب میں گزرا

تیر 26, 1393 482

جناب فاطمہ زہراء (س) کا بچپن تنگی اور مصائب میں گزرا آپ کی تربیت جناب خدیجہ الکبری، جناب فاطمہ بنت اسد حضرت رسول خدا (ص)

ام ہانی، ام افضل زوجہ عباس، ام ایمن، صفیہ بنت حمزہ کے زیر نگرانی ہوئی۔
جناب فاطمہ کی فضیلت اور ان کے مدارج کے ثبوت آیات قرآنی اور ان گنت احادیث مستند موجود ہیں آپ (ص) نے فرمایا الفاطمة بضعة منی فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جو اسے اذیت دے گا گویا مجھے اذیت دے گا اور جو مجھے اذیت پنچائے گا وہ خدا کو اذیت پہنچائے گا۔ ترمذی جلد 2 صفحہ 249 طبع مصر میں ہے کہ جب جناب فاطمہ (س) آتی تھیں تو آپ (ص) ان کی تعظیم میں کھڑے ہوتے تھے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔ آپ (ص) اکثر فرمایا کرتے تھے، مردوں میں تو بہت سے لوگ کامل گذرے ہیں اور عورتوں میں مریم، آسیہ، خدیجہ اور فاطمہ ہیں۔ اور ان سب میں فاطمہ (س) کا سب سے بڑا درجہ ہے۔
پیغمبر خدا (ص) کے عین حیات جناب فاطمہ کی قدر و منزلت عزت و توقیر کی کوئی خد نہیں تھی۔ انسان تو درکنار ملائکہ زمین پر اتر کر ان کی خدمت کرتے کبھی جنت سے طبق لاتے۔ اگر انہوں نے حضرات حسنین (ع) سے عید کے موقع پر یہ کہہ دیا " بچو! تمہارے کپڑے درزی لائے گا" چنانچہ حکم خدا سے خازن بہشت کو درزی بن کر حلہ بہشت لانا پڑا۔ انتہا یہ ہے کہ ملک الموت تک بغیر اذن جناب فاطمہ گھر میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ علامہ عبد المومن حنفی لکھتے ہیں " سرور کائنات کے بوقت آخر فاطمہ (س) کے زانو پر سر تھا ملک الموت نے دروازے پر دستک دی اور داخلہ کی اجازت چاہی۔ جناب فاطمہ (س) کے انکار پر وہ ہیں رک گئے۔ لیکن بار بار دستک دیتے اور اذن جناب فاطمہ (س) کے طلبگار رہے اور آپ (ص) برابر منع کرتی رہیں۔ جناب فاطمہ (س) کسی خطرے کا اندازہ کر کے گلوگیر ہوگئیں قطرات رخسار جناب رسول خدا (ص) پر پڑے۔ آپ نے پوچھا فاطمہ کیا بات ہے؟ جناب فاطمہ (س) نے سارا واقعہ بیان کردیا۔

Login to post comments