×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت فاطمہ (س) انتہائی صاحب عصمت و طہارت تھیں

تیر 27, 1393 442

ایک مرتبہ پیغمبر اسلام (ص) خانہ کعبہ کے نزدیک نماز میں مشغول تھے۔ ابوجہل اور اس کے کچھ ساتھیوں نے دیکھ لیا۔ ابوجہل نے اونٹ کی

اوجھڑی منگوائی۔ پیغمبر (ص) جب سجدے میں گئے تو ان لوگوں نے اوجھڑی کو آنحضرت (ص) کے سر پر ڈال دیا۔ اس میں اتنا وزن تھا کہ آنحضرت (ص) سجدے سے سر نہ اٹھا سکتے تھے۔ کسی نے آپ کے گھر اطلاع دی۔ حضرت فاطمہ (س) دوڑی ہوئی تشریف لائیں اور بابا جان کی مدد کی۔ پیغمبر اسلام (ص) کو کفار کے شر سے کبھی زخم آ جاتا تھا تو آپ اپنے ہاتھوں سے دھو کر مرہم پٹی کرتی تھی۔
حضرت فاطمہ (س) انتہائی صاحب عصمت و طہارت تھیں۔ وہ صفات فاضلہ اور اسرار نبوت کی حامل تھیں۔ پیغمبر اسلام (ص) اپنی بیٹی کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ جب کبھی فاطمہ (س) پیغمبر (ص) کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں، بیٹی کو پیار کرتے اور انہیں اپنی جگہ بٹھا دیتے تھے۔ یہ اس لئے نہیں کہ وہ آپ کی چہیتی بیٹی تھیں بلکہ حضرت فاطمہ (س) کی قدر و منزلت ان کی عفت و عظمت کے سبب تھی۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) سن (رشد) کو پہنچیں تو قریش کے صاحب ثروت و شہرت افراد نے پیغمبر اسلام (ص) کے حضور جا کر نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ آپ فاطمہ (س) سے ایک ایک نام لے کر ان کی رائے معلوم کرتے تھے۔ حضرت فاطمہ (س) نام سن کر اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے منہ پھیر لیتی تھیں۔ پیغمبر اسلام (ص) خود سمجھتے تھے کہ ان میں فاطمہ (س) کا (کفو) ایک بھی نہیں ہے تا ہم دنیا والوں کو تعلیم دینی تھی کہ بیٹی کی رائے کے خلاف اس کی شادی نہ کرو۔
حضرت علی (ع) کو بعض افراد نے مشورہ دیا کہ " آپ فاطمہ (س) سے نکاح کے لیے پیغمبر (ص) عرض کیجیے۔"

Login to post comments