×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عورتیں جناب سیدہ (س) کی ہدایتوں پر عمل کریں

تیر 27, 1393 464

اگر عورتیں جناب سیدہ (س) کی ہدایت پر عمل کریں تو ہمارا معاشرہ قابل رشک، پاک و پاکیزہ اور صحت مند ہونا لازمی ٹھہرے گا۔ ساتھ ہی نسوانیت

آج کے افراتفری سے لبریز دور میں بھی عفت مآب اور قابل احترام حاصل کر لے گی۔
جناب سیدہ (س) کی حیات طیبہ اپنے دامن میں بے شمار گران قدر درس لیے اور وہ تمام اسباق جو ہمیں ان عظیم خاتون کی حیات طیبہ سے حاصل ہوئے ہیں اور ان میں سی ہر ایک پر اگر تفصیلی روشنی ڈالی جائے تو کئی ضخیم کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ مگر یہاں صرف اشارتا ہی بعض پہلوؤں کو ذکر کرنے پر اکتفا کی گئی ہے۔
حضرت فاطمہ (س) کے بارے میں پیغمبر اسلام (ص) کی بہت سی احادیث ملتی ہیں جن سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
* فاطمہ (س) میری پارہ جگر ہے، جس نے اسے غضبناک کیا مجھے غضبناک کیا۔
* فاطمہ (س) میرا جزو بدن ہے، جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت دی۔
* مریم (س) اپنے دور کی ساری عورتوں سے افضل تھیں البتہ فاطمہ (س) میری ہر دور کی عورتوں سے افضل ہے۔
* فاطمہ (س) جنت میں داخل ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔
* فاطمہ (س) جس سے ناراض ہوتی ہیں اس سے خدا ناراض ہوتا ہے۔ جس سے فاطمہ (س) خوش ہوتی ہیں اس سے خدا بھی خوش ہوتا ہے۔
* فاطمہ (س) کا کردار آیت تطھیر و آیت مباہلہ میں نمایان رہا ہے۔ ان کے مختلف القاب ہیں جو رسول خدا (ص) نے عطا کیے تھے مثلا راضیہ، مرضیہ، عابدہ، زاہدہ، ساجدہ، صابرہ، طاہرہ، خاتون جنت و غیرہ۔ ہر لقب اس وقت ملا جب عملا آپ اس پر کار بند رہیں۔ ظاہر ہے پہلے امتحان ہوتا ہے بعد میں سند ملتی ہے۔ بڑے اولعزم پیغمبروں کی بیویاں ایسے القاب سے محروم رہیں۔ اگر فاطمہ زہرا (س) کے مقابل حضرت حوا (س) یا حضرت مریم (س) کو لیں تو سخن فتح پوری کا یہ شعر یاد آتا ہے:
ایک ہوئیں جنت سے خارج ایک بیت اللہ سے
مریم (س) و حوا (س) سے کیا دوں تجھ کو نسبت فاطمہ (س)

Login to post comments