×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فاطمہؐ اپنے والد کی وفات کے بعد زیادہ دن زندہ نہ رہیں

تیر 27, 1393 424

بہت سے قرائن موجود ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی یہ مثالی خاتون اپنے والد کی وفات کے بعد زیادہ دن زندہ نہ رہیں، نہ صرف یہ

کہ آپ کو آرام و سکون ہی نصیب نہیں ہوا بلکہ نہایت ہی رنج و محسن کے ساتھ زندگی بسر کی۔
آخر کار روحی و جسمی مصائب و آلام نے آپ کی جان لے لی۔
خایفہ دوم ایک گروہ کے ساتھ در فاطمہ (س) پر پہنچے اور چلا کر کہا:
جو لوگ گھر کے اندر ہیں باہر نکل آئیں ورنہ میں گھر کو اس کے مکینوں کے ساتھ جلا دوں گا۔ بعض لوگوں نے اسے ظلم سے باز رکھنے کے لیے کہا: اس گھر میں فاطمہ (س) بھی ہیں۔
لیکن خلیفہ دوم نے چلا کر کہا : کوئی بھی ہو۔ ابھی رسول اکرم (ص) کا کفن بھی میلا نہیں ہوا تھا کہ حالات نے فاطمہ کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ میں نے تم سے زیادہ بد خو کونی مرد نہیں دیکھا۔ رسول (ص) کا جنازہ تم نے ہمارے پاس چھوڑا اور خود اپنے کام کے چکر میں چلے گئے۔ آخر تم ہمارے در پے کیوں ہو؟ اور ہمارا حق ہمیں کیوں نہیں دیتے؟ عمر بجائے اس کے فاطمہ (س) کے کلام سے عبرت حاصل کرتے، ابوبکر کے پاس گئے اور ان سے کہا : علی کو حاضر کئے جانے کا حکم صادر کرو۔ اب قنفذ کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ علی (ع) مسجد میں آئیں، لیکن علی (ع) مسجد میں نہ آئے تو عمر دوبارہ در فاطمہ (س) پر آئے دروازہ کھٹکٹھایا۔ فاطمہ (س) باہر نکلیں اور شکوہ آمیز لہجہ میں فرمایا:
بابا! اے اللہ کے رسول (ص)! آپ کے بعد ہم ابن خطاب اور ابن قحافہ سے کیا ستم دیکھ رہے ہیں!؟

Last modified on جمعه, 27 تیر 1393 12:07
Login to post comments