×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قرآن سے انسیت كے مرتبے

تیر 27, 1393 606

معاشرے میں قرآنی تعلیمات کو عام کرنا نہایت ضروری ہے ۔ ابھی تک اس بارے میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا ہے ۔ اس لئے ضرورت اس

امر کی ہے کہ اس شعبۂ میں زیادہ سے زیادہ کام کیا جائے تاکہ ہمارا معاشرہ قرآن کی شفاعت سے بہرہ مند ہو سکے ۔ ہمارے عوام قرآن سیکھیں، حفظ قرآن کا رواج ہونا چاہئے، ہمارے گھروں میں ہمیشہ تلاوت قرآن ہونی چاہئے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اسلام قرآت قرآن کے سلسلے میں کیا کہتا ہے؟
’’اشرف امتی اصحاب اللیل و حملہ القرآن‘‘
میری امت کے معززین شب زندہ دار اور حاملات قرآن افراد ہیں۔
حمل قرآن کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ ہم قرآنی تعلیمات و قوانین پر عمل کرتے ہیں بلکہ قرآن سے انسیت ضروری ہے۔ قرآن کی تلاوت کی جائے، قرآن کو حفظ کیا جائے، گھروں سے تلاوت قرآن کی دلنواز صدائیں بلند ہوں، نسل جوان قرآن پڑھے، بچے قرآن سیکھیں۔
مائیں اپنے بچوں کولازمی  طور پر تلاوت قرآن کی تعلیم دیں۔ باپ اپنے بچوں کو تلاوت قرآن کی نصیحت کرنا ایک فریضہ سمجھیں۔ ذکر قرآن سے معاشرے کو معمور کر دیجئے، ہماری زندگی کو قرآن سے معطر ہونا چاہئے، اس کے بغیر نجات ناممکن ہے۔ صدر اسلام میں قرآن عوام کے درمیان رائج تھا، جو شخص قرآن لکھتا تھا،یاد کرتا تھا، اس کی تلاوت کرتا تھا اسے معاشرے میں عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، وہ پیغمبر^ؐکی نگاہوں میں محبوب سمجھا جاتا تھا۔
پیغمبرؐاسلام نے عظمت قرآن کا جو سکہ بٹھایا تھا، عوام کے درمیان الفت قرآن کی جو موج ایجاد کی تھی وہ ایک عرصہ تک باقی رہی، عوام قرآن سے وابستہ رہے۔ اور قرآن زندہ تھا۔ اسلامی حکومت اس وقت اپنی حقیقت کھو بیٹھی جب قرآن معاشرے سے رخصت کر دیا گیا۔
جب تک عوام میں قرآن سے انس باقی تھا عیاش وشہوت پرست بادشاہوں کے لئے ممکن نہ تھا کہ اعلانیہ فسق و فجور کے بھی مرتکب ہوں اور عوام پر حکومت بھی کرتے رہیں۔ تاریخ میں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ عوام نے خلیفہ کے مقابلے میں قرآن کے ذریعے مبارزہ و مجادلہ کرکے اسے عاجز و لاجواب کر دیا۔ یہ سلسلہ خلفائے بنی امیہ اور کسی حد تک خلفائے بنی عباس کے دور تک باقی رہا۔ قرآن مجید معیار و فرقان سمجھا جاتا تھا۔ عوام اس کے معتقد تھے۔ جب خلیفہ کے رفتار وکردار اس معیارو فرقان سے میل نہ کھاتے تو عوام ان سے جواب طلب کرتے تھے۔ لہٰذا قرآن مجید کو عوامی زندگی سے دور کرنے کوششیں شروع کردیں۔ حتی کہ اموی خلفائ نے قرآن مجید کو تیروں سے چھلنی کردیا۔ ہماری تاریخ ایسے حوادث سے دوچار ہوئی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پھر سے قرآن کی محبت ہمارے دلوں میں بیدار ہو تاکہ پھر سے اسلامی معاشرے میں وہی پرانی اقدار کو رائج کیا جائے جو اسلامی معاشرے کا شیوہ ہے ۔
الف) قرآن گھروں میں ركھنا
پرانے زمانے سے كسی مخصوص چیز كو متبرك جاننا اور اسے گھروں میں ركھنا ھمارے معاشرہ میں مرسوم ھے۔ قرآن كو گھروں میں ركھنے كی جو سفارش ھماری روایتوں میں ملتی ھے شاید اس كی ایك علت یہ ھوكہ كسی خرافاتی چیز كو متبرك جاننے كے بجائے لوگ كلام الھی سے متبرك ھوں اس لئے امام صادق(ع) فرماتے ھیں:
"انہ لیعجبنی ان یكون فی البیت مصحف یطرد اللہ عزوجل بہ الشیاطین"۔ 20 مجھے تعجب ھوتاھے كہ گھر میں قرآن ھو اور اس كے ذریعے خداوند شیاطین كو دور كرتاھے۔
قرآن سے انسیت كا سب سے نچلا درجہ جیساكہ بیان كیا جا چكا یہ ھے كہ اس كو گھروں میں ركھا جائے تا كہ اگر كوئی اپنے آپ كو كسی بھی طرح سے قرآن سے مرتبط نھیں ركھ سكتاھے توحداقل اسے گھر میں ركھے۔حتی اگر یہ معنی بھی امام كے ملحوظ نظرنہ ھو تو تب بھی قرآن كا گھروں میں ركھنا انسان كی مصلحت كے تحت ھے جیسا كہ روایت میں اشارہ ھواھے۔
بعض روایتیں ایسی بھی پائی جاتی ھیں جواس روایت سے تعارض ركھتی ھیں جس میں قرآن كو دیكھے بغیریا اس كی تلاوت كئے بغیر گھروں میں ركھنے سے مذمت كی گئی ھے۔ لیكن جیسا كہ بیان كیا جا چكا هی اس تعارض كا حل لوگوں كے مراتب مختلف ھونے كی وجہ سے ھے۔ مشخص ھے اگر كوئی شخص قرآن كو دیكھنے یا اس كی تلاوت كی قدرت نھیں ركھتا تو حداقل جو كام وہ كرسكتاھے وہ یہ ھے كہ اس كو گھر میں ركھے اور اس طرح كے نمونہ معاشرہ میں پائے جاتے ھیں عین نماز كی طرح كہ اگر كوئی پڑھنے سے عاجز ھے تو كم سے كم اشارہ كے ذریعہ بجالائے۔
ب) قرآن كی طرف دیكھنا
قرآن كی طرف دیكھنے كے سلسلہ میں بعض ایسی روایتیں پائی جاتی ھیں جو اسے ایك طرح كی عبادت شمار كرتی ھیں ۔حضرت ابوذر(رح) رسول خدا(ص) سے نقل كرتے ھیں كہ آپ نے فرمایا: "قرآن مجید كی طرف دیكھنا عبادت ھے" 21
پیغمبر اكرم(ص) سے منقول دوسری روایتوں میں ملتا ھے "اعطوا اعینكم حظھا من العبادة قالوا: و ماحظھا من العبادة؟ قال: النظر فی المصحف و التفكر فیہ و الاعتبار عند عجائبہ" 22
تمھاری آنكھیں عبادت میں كچھ حصہ ركھتی ھیں اسے ادا كرو سوال كیا گیا: عبادت میں ان كا حصہ كیا ھے؟ فرمایا: قرآن كی طرف دیكھنا اس مین تدبر كرنا اور اس كے عجائب سے عبرت حاصل كرنا۔ البتہ دوسری روایت میں قرآن میں غور و خوض پر بھی دلالت كرتی ھے جو مراحل بالاتر میں سے ھے لیكن روایت ابوذر(رح) كے پیش نظر اگر كوئی صرف قرآن كی طرف دیكھے بھی تو ایك طرح كی عبادت ھے اور دوسری روایت پہلی روایت كے اطلاق كو مقیدنہیں كر رہی ہے، چونكہ خارجی موجود ھے۔جب قرآن كو گھر میں رکھنے كی سفارش كی گئی ہے تو لامحالہ اسكی آیات كی طرف دیكھنا بھی اہمیت فراواں ركھتا ہے۔

Login to post comments