×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امامت پر بحث

تیر 27, 1393 464

مسئلہ امامت بہت اہم مسائل میں سے ایک ہے اور یہ عقائد کی بنیاد ہے ۔ ہمارے عقائد کے مطابق وہ لوگ جو علم کے حقیقی منبع سے

متصل ہیں وہ آئمہ اطہارعلیہم الصلاة و السلام ہیں ، اگر انسان پوری دنیا میں تلاش کرے کہ ان کے علاوہ کسی ایسےشخص کو ڈھونڈ نکالے کہ علم واقعی کے سرچشمہ سے متصل ہو تو ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا۔
ہمارے والد محترم کہا کرتے تھے،اگریہ جاننا چاہیں کہ حضرت علی ع نے کس کے پاس درس پڑھا ہے ؟ اور امام حسن مجتبی ع،امام حسین ع اور امام محمد باقر ع اور جعفرصادق ع تک کے علم کے پروان چڑھنے کا دور تھا انھوں نے کس کے پاس درس پڑھا ہے ؟ آپ کسی آدمی کو تلاش نہیں کر پایئں گے اور کسی بھی تاریخی کتاب کو دکھا نہیں پایئں گے کہ جس میں یہ لکھا ہوکہ ان افراد نے فلاں کے پاس علم حاصل کیا ہے ۔
اہل سنت کے علماء کے بارے میں صاف لکھا ہے کہ انھوں نے علم صرف و نحو کو کہاں سے حاصل کیا ہے، قرآن کو کہاں سے سیکھا ہے ، تفسیر کو کس سے پڑھا ہے یہاں تک کہ انکے اساتید کے نام بھی موجود ہیں لیکن ہمارے آئمہ ع کے بارے میں ایسا کسی بھی صور ت میں نہیں مل سکتا ہے ۔
اس بناء پر جس بنیادی نکتہ کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر ہم علم حاصل کرنا چاہیں تو انہی کے در پہ جانا چاہیے اور اگریہ سیکھنا چاہیں کہ کون سے کام اچھے یا برے ہیں یا،سعادت ، شفاعت ، فضیلت جیسی سب چیزوں کو سمجھنا چاہیں تو انہی کی طر ف رجوع کرنا چاہیے ۔ ہمییں چاہیے کہ اخلاقی مسائل میں جتنا ہو سکے ان سے قریب ہونے کی کوشش کریں ۔اب آشنائی اس صورت میں کہ ہم انکی احادیث کی طرف رجوع کریں اور ان سے درس حاصل کریں اور اسی طرح قلبی اور باطنی طور پر بھی ہمیں ان سے رابطہ رکھنا چاہیے اور ہمیشہ انھیں سے مدد مانگنا چاہیے اور ان افراد کو چھوڑ دیں کہ جو توسل اور شفاعت کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں اور ہم پر اعتراض کرتے ہیں ۔ جو لوگ کسی چیز کو سمجھتے نہیں ہیں ان کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہیے اس لئے کہ ان کا اس بات کو قبول نہ کرنا کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہوتا ہے ۔ اب یہاں پر ایک موازنہ کرتے ہیں کہ جو نمازیں ہم قربةًالی اللہ پڑھتے ہیں کس حد تک خدا کے ولی کی اس پر نظر ہے اور پروردگار کی اس پرنظر تو دوسرا مرحلہ ہے جس طرح ائمہ اطہار (ع)نماز پڑھتے تھے ویسی نماز ہمارے لئے محال ہے ۔

Login to post comments