×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

منجی عالم کا ظہور

تیر 31, 1393 416

اسلام کی اعلی اورمستغنی ثقافت پر مبنی حضرت امام مہدی (عج) کی حکومت اس صلاحیت کی حامل ہوگی کہ واحد ثقافتی اصول ، انسانوں کی

ضروریات کے مطابق دنیا پر حکم فرما ہوں گے اور اس مستغنی ثقافت کےسائے میں انسانوں کو ، عقلی و روحانی کمالات کی اعلی منزل تک پہونچائیں گے ۔ اس وقت علم کو فروغ حاصل ہوگا اور معنوی سعادت اور مادی رفاہ وبہبود کے لئے حالات سازگار ہوں گے ۔
دین اسلام انفرادی و اجتماعی احکام کا حامل ہے کہ جس کے عملی ہونےکے لئے ایک مضبوط ضمانت کی ضرورت ہے ۔ وہ چیز جو اسلامی تعلیم سے اخذ کی جاتی ہے یہ ہے کہ یہ دین الہی صرف عرفان و اخلاق اور اپنے اور خدا کےفرائض کو بیان نہیں کرتا بلکہ اس نے انسان کے دوسروں سے روابط اور ان روابط کی کیفیت کے بارے میں احکام و فرائض کا بھی تعین کیا ہے ۔ یہ مسلم امر ہے کہ عوام کے درمیان سماجی تعلقات کو منظم کرنے کے لئے تدوین شدہ قانون اور حکومت کی ضرورت ہے ۔ اسلامی معاشرے میں بھی اگرچہ ممکن ہے کہ بعض زمانوں میں اسلامی حکومت کا قیام ممکن نہ ہو لیکن اس کے عملی ہونے کے لئے کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ یہ امر فرد اور معاشرے کی پیشرفت کےلئے ضروری ہے ۔
خداوند عالم نے قرآن میں انبیاء کی بعثت کا ایک مقصد عوام کے درمیان اختلافات کو ختم کرنا ذکر کیا ہے ۔ واضح ہےکہ صرف وعظ و نصیحت سے ہی عوام کےتمام اختلافات کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ اسی بناء پر ہم حکومت کی ضرورت کا جائزہ لیتے ہیں ۔ قرآن کریم میں بعثت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقصد کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں ۔
" وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق کے آئین کے ساتھ مبعوث کیا ہے تاکہ اپنے دین کو سب پر غالب کردے اگرچہ مشرکین پر گراں ہی کیوں نہ گذرے ۔ ( توبہ ، 33 )
 اس رو سے پیغمبر اسلام (ص) دو کام کے لئے بھیجے گئے ، لوگوں کی ہدایت اور تعلیم و قانون پیش کرنے  نیز ظلم وستم اور ناانصافی کی بساط لپیٹنے کے لئے۔ یہ اہداف ، حکومت کی ضرورت اور سیاست کو ، دین کے پروگراموں کے عملی ہونے میں ایک آلہ کار کے طور پر معین کرتے ہیں ۔
دین کے معتبر منابع اور مآخذ میں اسلامی حکومت کے بارے میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہےکہ اسلام نے سیاسی نظام کے ڈھانچے اور اسکی تفصیلات پر زور نہیں دیا ہے بلکہ حکومت کی تشکیل کے لئے کوئی خاص شکل  متعارف کرنے سے بالا تر ہوکر ، اپنے ناقابل تغیر اور ثابت احکام کے تناسب سے ایک مجموعی اور عظیم دائرہ اس کے لئے بیان کیا ہے کہ جس دائرے سے حکومت کو خارج نہیں ہونا چاہیے ۔ اسلام میں حکومت کےڈھانچے پر حکمراں جملہ اصولوں میں سے ، احکام اسلام کا اجراء کرنے والوں کو خدا کی جانب سے قانونی حیثیت حاصل ہونا ، اسلامی اصولوں سے قوانین کا مطابق ہونا ، اجرائی اور مشاورتی شعبوں میں عوام کے اہم مقام و منزلت پر توجہ نیز حکمرانوں کا ظلم وستم سے اجتناب اور عدل و انصاف کے قیام اور کارکردگی پر نگرانی کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
اس بنیاد پر امام معصوم (ع) کے زمانے میں ، جو خطا اور گناہ سے محفوظ ہوتا ہے ، الہی حکومت میں ایسی معصوم فرد ہے جو سیاسی اقتدار کی بھی حامل ہوتی ہے اور اس کو اختیارات بھی براہ راست خدا سے حاصل ہوتے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اجرائی اورمشاورتی شعبوں میں عوام کی رائے پر توجہ ، ایک اہم اصول ہے جسے اسلامی مطالب میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے ان آیات و رویات کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے جو شورا ، عوام کی بیعت ، مسلمانوں پر عام نظارت اور عوام کے فرائض کے سلسلے میں موجود ہیں ۔
روایات اس امر کی غماز ہیں کہ حضرت امام مہدی (عج)کی حکومتی روش ، روش و سیرت پیغمبر اور امام علی (ع)کی مانند ہے ۔ البتہ اسے بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ پیغمبر اکرم (ص) اور اھل بیت اطہار علیہم السلام ، مسلط کردہ رکاوٹوں اور پابندیوں کے سبب ، اپنے تمام اہداف کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے ۔ لیکن معصومین علیہم السلام کے خطابات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ تمام رکاوٹیں اور پابندیاں ، جو ایک جامع اور عالمی حکومت کے قیام میں سد راہ بنی ہوئی تھیں وہ سب امام مہدی (عج) کی حکومت کے راستے سے اٹھالی جائیں گی۔
حضرت امام مہدی (عج) کے حکومتی پروگراموں کے بارے میں ،ان کی حکومت سے متعلق بعض آیات اور بہت سی روایات کی روشنی میں پیشنگوئی کی جا سکتی ہے ۔ چنانچہ روایات سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ حضرت امام مہدی (عج) کی عدالت ، زمانۂ ظہور میں اہم کردار کی حامل ہوگی اور دیگر حکومتوں ، اور حضرت امام مہدی (عج) کی عالمی حکومت میں ایک اہم ترین فرق یہ ہوگا کہ وہ پوری کائنات میں مکمل عدل و انصاف کو نافذ کریگی ۔
فرزند رسول خدا حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہیں خدا کی قسم اس کا عدل انصاف عوام کو ان کےگھروں میں ملے گا جس طرح سے کہ سردی اور گرمی ان کے گھروں مین رسوخ پیدا کرتی ہے ۔
حضرت امام جعفر صادق (ع)  تمام شعبوں میں امام مہدی (عج) کے ہمہ گیر عدل و انصاف کے نفاذ کے بارے میں فرماتے ہیں : حضرت کا پہلا عادلانہ حکم یہ ہوگا کہ آپ کے نمائندے اعلان کریں گے جو افراد بھی مستحبی طواف اور حجرالاسود کا بوسہ دینے میں مشغول ہیں وہ حج واجب انجام دینے والے افراد کےلئے طواف کی جگہ خالی کر دیں " اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ عدل امام ، زمانۂ ظہور میں معاشی اور سماجی انصاف میں ہی منحصر نہیں ہے بلکہ مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہے اور حتی انسانوں کے امور زندگی کے معمولی اورجزئی مسائل کو بھی مد نظر قرار دیتا ہے ۔
حکومت مہدی (عج) کی دیگر خصوصیات میں سے سرحدی حدود کا ختم کرنا اور ایک ہمہ گیر حکومت تشکیل دینا ہے ۔ البتہ وہی حکومت عالمی ہوسکتی ہے جو مستغنی ثقافت اورتفکر کی حامل ہو اور تمام حکومتی نمونوں اور فکروں پر اثر انداز ہو۔ اسی طرح اس کی ثقافتی قابلیت ہمہ گیر اور عالمی ہو جو محکم اصولوں پر استوار ہو اس طرح سے کہ اس کے مقابلے میں تمام لوگ اپنی ثقافت کے نقائص کا اندازہ لگا سکیں اور اشتیاق کے ساتھ اسے قبول کر لیں ۔
حضرت امام مہدی (عج) کی حکومت بھی اسی عظیم و برتر دین اور مقبول قوانین کی بنیادوں پر قائم ہوگی کہ جس کا نام اسلام ہے ۔ اس سلسلے میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ تمام قومیں ایک قوم ہوجائیں گی اور وہ مسلم قوم ہے ۔
ہر حکومت کے قیام کے بعد اس کی تشویش ، عوام کے درمیان اس کی مقبولیت کے بارے میں ہوتی ہے ۔ اس لحاظ سے کہ عام انسانوں کی حکومتیں ، صرف فرد یا کسی خاص گروہ کے مفادات کو مد نظر قرار دیتی ہیں اور عوام کی حقیقی مصلحت اور فائدے کو سمجھنے میں ناتوان ہوتی ہیں اس لئے خطا اور غلطی سے محفوظ نہیں رہ پاتیں اور مقبول عام بھی نہیں ہوپاتیں ۔ لیکن ایسی حکومت جو مقبول عام ہو وہ صرف حضرت امام زمانہ (عج) کی الہی حکومت ہے کہ جس کا رہبر خدا کی جانب سے معین ہوتا ہے ۔ اس طرح سے کہ اہل زمین اور اہل آسمان بھی اس حکومت سے راضی رہیں گے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں تمہیں بشارت دیتا ہوں  امام مہدی (عج) کی ، جن کی حکومت سے اہل زمین اور اہل آسمان راضی ہوں گے ۔بحارالانوار ، ج 1 ص 591
علامہ طباطبائی صاحب تفسیر المیزان پیغمبر خدا کے اس بیان کی توضیح مین لکھتے ہیں :‏کیسے ممکن ہے کہ کوئی مہدی (عج) کی حکومت سے خوش نہ ہو جبکہ ساری اقوام عالم پر یہ واضح ہو جائیگا کہ مادی و معنوی تمام پہلوؤں میں انسان کی سعادت و خوشبختی صرف امام زمانہ (عج) کی الہی حکومت کے زیر سایہ ہی ممکن ہے ۔
امام کے ظہور کے ساتھ ہی نہ صرف عدل و انصاف کا قیام عمل میں آئیگا بلکہ زمین ، انواع و اقسام کی برکتوں سے سرشار ہوجائے گی ۔ جیسا کہ حضرت علی (ع) فرماتے ہیں : جب میرا قائم قیام کریگا تو اس کی عدالت و ولایت کے واسطے سے آسمان کو جس طرح سے پانی برسانا چاہیے پانی برسائے گا اور زمین بھی سبزہ زار ہو جا‏ئے گی اور بندوں کے دلوں سے سب کینے نکل جائیں گے ۔ تحف العقول – ص 110
ان روایتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت مہدی (عج) میں عدالت ہمہ گیر اور عالمی ہوگی اور آسمان و زمین کے خزانوں اور چیزوں سے سبھی یکساں فائدہ حاصل کریں گے جیسا کہ سید الشہدا حضرت امام حسین (ع) اپنے ایک اہم خطاب مین فرماتے ہیں جب ہمارا قائم قیام کریگا تو عدل وانصاف پھیل جائیگا اور اس کی وسعت اتنی ہوگی کہ اس میں کافر فاجر سب شامل ہوجائیں گے ۔ بحارالانوار  ج 27 ص 90۔
امام مہدی کی حکومت کی دیگر علامات مین سے ایک ، بیت المال اور عام مشترکہ اموال کی  برابر اور صحیح تقسیم کا ہونا ہے جیسا کہ امام باقر (ع) نے فرمایا ہے ۔ جب ہمارا قائم قیام کریگا تو بیت المال کو مساوی تقسیم کریگا اور عوام کے ساتھ عدل وانصاف سے پیش آئیگا پس جو بھی اسکی اطاعت کریگا گویا اس نے خدا کی اطاعت کی ہے اور اس کے حکم سے عدولی خدا کے حکم سے عدولی اور سرکشی کےمتراف ہوگی ۔بحارالانوار۔ ج 52  ص350
واضح ہےکہ حضرت مہدی(عج) کی عدل و انصاف کی وسعت ، خود ان کی حکومت کی تقویت اور پایندگی کے لئے حالات فراہم کریگی اور عوام کے دلوں کو موہ لے گی ۔ عدل و انصاف اور امن و سلامتی کا قیام  ، زمین کے باشندوں کی دیرینہ آرزو اور انبیاء کرام کی دعوت کا سرچشمہ رہی ہے اور آخر کار امام عصر (ع) اس آرزو کو باذن خداعملی شکل دیں گے اور انسانوں میں سے ہر کوئی کسی تفریق یا امتیاز کے بغیر امام زمانہ کے عدل و انصاف اور امن کی چاشنی سے محظوظ ہوگا ۔

Login to post comments