×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

خدا کی وحدانیت

تیر 31, 1393 412

اس کائنات میں اللہ تعالی نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے اور ان تمام انبیاء نے انسان کو اللہ کی پہچان کرائی اور انسان کو اللہ کی وحدانیت سے

آگاہ کیا ۔ تمام انبیاء کی تعلیمات کا بنیادی محور  عقیدہ توحید ہی  رہا ؛ توحید کا مطلب صرف ایک اللہ کو رب ماننا ، اسی کی عبادت کرنا اور اسکے اسماء وصفات میں کسی کو شریک نہ سمجھتے ہوئے ان تمام ناموں اور صفتوں کو اکیلے اللہ کے لیے ثابت کرنا ہے ۔ توحید سب سے بڑی نیکی ہے، اسی لیے اس کو اپنانے سے سارے گناہ دھل جاتے ہیں ۔ شرک سب سے بڑا گناہ ہے جو انسان کی تمام نیکیوں کو برباد کر دیتا ہے، اللہ تعالی نے اس بات کی وضاحت یوں فرمائی ہے:
 ”‌یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں )کی طرف بھی یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلا شبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا، بلکہ تو اللہ کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا “۔ (سورة الزمر آیت 65۔ 66)
یہی نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی اور ناکامی توحید اور شرک پر موقوف رکھی گئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ”‌جو شخص شرک سے پاک ہو کر اللہ تعالی سے ملے گا، وہ جنت میں جائے گا اور جو شرک کی حالت میں اللہ تعالی سے ملے گا، جہنم میں داخل ہوگا “۔( مسلم) شرک توحید کی ضد ہے اور اس کا مطلب ہے ربوبیت یا عبادت میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ، نیز اللہ کے ناموں اور صفتو ں میں کسی کو ساجھی بنانا بھی شرک ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ عدل اور توحید کیا ہے؟ آپ علیہ السلام  نے فرمایا:
التَّوْحِیدُ أَنْ لَا تُجَوِّزَ عَلَى رَبِّكَ مَا جَازَ عَلَیْكَ وَ الْعَدْلُ أَنْ لَا تَنْسُبَ إِلَى خَالِقِكَ مَا لَامَكَ عَلَیْه.
توحید ، یہ ہے کہ تم اپنے پروردگار کے لیے اس چیز کو جائز اور روا   نہ جانو کہ جس چیز کو تم اپنے لیے جائز جانتے ہو،  اور عدل یہ ہے کہ تم اپنے خالق کی طرف اس چیز کی نسبت نہ دو کہ جس چیز کے سلسلے میں تم خود مورد ملامت قرار پاتے ہو۔
امام رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
التَّوْحِیدُ نِصْفُ الدِّینِ۔ وَ اسْتَنْزِلُوا الرِّزْقَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ بِالصَّدَقَةِ.
توحید، آدھا دین ہے، اور صدقہ (دینے کے وسیلہ) سے رزق کو (اپنے) پروردگار کی بارگاہ سے طلب کرو۔

Login to post comments