×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اہل سنت کی نظر میں خمس

تیر 31, 1393 449

علمائے اہل سنت کا نظریہ یہ ہے کہ خمس کا تعلق ہر طرح کی در آمد و منفعت سے نھیں بلکہ ایک خاص منفعت سے ہے جسے جنگی غنائم کہتے ہیں ۔

صاحب تفسیر ”‌ الجامعِ لاَحکام القرآن “ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ سارے علماء کا اتفاق اس بات پر ہے کہ غنیمت سے مراد صرف جنگی غنیمت ہے ۔
”‌واعلم ان الانفاق حاصل علی ان المراد بقولہ تعالیٰ ”‌غنتم من شئی”¤”¤”¤”¤”¤“ مال الکفار و اذا ظفر بہ المسلمون علی وجہ الغلبة و القھر “ (2)
علماء شیعہ و اہل سنت کے درمیان اختلافی موارد
1۔ متعلق خمس
2۔ تقسیم خمس
3۔ مصارف خمس
متعلق خمس : ( وہ اشیاء جن پر خمس واجب ہوتا ہے )
اہل سنت علماء کاکہنا ہے کہ : خمس فقط غنائم جنگی سے نکلتا ہے ، اسکے سوا دوسری چیزوں میں خمس نہیں ہے جبکہ علمائے شیعہ کا نظریہ یہ ہے کہ خمس غنائم جنگی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اسکا تعلق ہر قسم کی زائد منفعت سے ہے خواہ اسے میدان جنگ میں حاصل کیا جائے یا زندگی کے دیگر میدانوں میں ۔
اہل سنت ”‌خمس “ کو دار الحرب ا و رایام جنگ سے مخصوص جانتے ہیں جو ایک وقتی امرہے ، کبھی ہے اور کبھی نھیں ہے ۔ لیکن شیعہ مذھب میں ”‌خمس “ زمان جنگ سے مخصوص نہ ہونے کے سبب دائمی ہے اور مسلمانوں کی پوری اقتصادی زندگی کو شامل ہوتا ہے ۔
اختلاف کی وجہ
دونوں مذھب میں نظر یاتی اختلاف کا سبب لفظ ”‌غنمتم “ ہے ۔ شیعہ کہتے ہیں کہ ہمارے اماموں نے فرمایا ہے :”‌ غنمتم “ سے مراد ہر وہ منفعت ہے جو سالانہ خرچ سے زیادہ ہو جبکہ اہل سنت اس کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ آیت ایام جنگ سے مربوط ہے لہٰذا صرف غنائم جنگی میں خمس ہونا چاھئے ۔
دلایل مذھب شیعہ
دلیل اول : روایت
”‌ عن علی ابراھیم عن ابیہ عن ابن ابی عمیر عن الحسین عثمان عن سماعة قال : سمعت ابا الحسن علیہ السلام عن الخمس فقال علیہ السلام : فی کل ما افاد الناس من قلیل او کثیر “ (3)
”‌ امام علیہ السلام فرماتےہیں : ”‌خمس ہر طرح کی منفعت میں ہے خواہ وہ کم ہو یا زیادہ “ ہمارے لئے ائمہ علیھم السلام کے اقوال کافی ہیں ،لیکن اہل سنت ائمہ علیھم السلام کی عصمت کے قائل نہیںہیں لہٰذا ان کو قانع کرنے کے لئے استعمالات قرآن ا ور روایات و عربی لغت کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا کہتی ھے ۔ اگر لفظ ”‌غنمتم “ ( غنم ، یغنم ،غانم و مغنوم ) میدان جنگ میں ہاتھ آنے والے مال کے معنی میں استعمال ھوتا ہے اور غنائم جنگی سے مخصوص ہے تو اس صورت میں اھل سنت کا نظریہ صحیح ھو گا ، لیکن اگر لفظ ”‌غنمتم “ اور اسکے دیگر مشتقات ، تمام منفعت و فائدہ کے معنی میں استعمال ہوئے ہوں ، اور غنائم جنگی سے مخصوص نھیںہیں تو اس صورت میں اہلسنت کے پذیرفتہ قواعد کے مطابق بھی شیعوں کا نظریہ درست ھو گا ۔

Login to post comments