×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت زہرا کے وجود میں جنت کی طبیعت

تیر 31, 1393 373

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور باقی انسانوں کے مابین تفاوت یہ ہے کہ زہرا ء سلام اللہ علیہا کے جسمانی اور مادی وجود مبارک میں جنت کی طبیعت

پوشیدہ ہے یعنی زہرا کا وجود جنت کے میوہ یا پھل سے بنا ہے جبکہ باقی سارے انسانوں کا وجود دنیوی غذا اور مادی آثارکا نتیجہ ہے لہٰذا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے وجود اور باقی انسانوں کے وجود میں بہت بڑا فرق ہے۔ زہرا (س) کے وجود میں جنت کے آثار ہیں جب کہ باقی انسانوں کے وجود، ایسی خصوصیت سے محروم ہیں کہ اس مطلب کو مرحوم مجلسی نے اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ ایک دن حضرت پیغمبر اکرم ؐ اپنے مسند پر بیٹھے ہو ئے تھے کہ اتنے میں جبرئیل نازل ہو ئے اور کہا کہ خدا نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ چالیس دن آپ جناب خدیجہ سے الگ رہا کریں اور عبادت اور تہجد میں مشغول رہیں پیغمبر اکرم ؐ خدا کے حکم کے مطابق چالیس دن تک جناب خدیجہ کے گھر جانا چھوڑ دیا اور یہ مدت رات کو نماز اور عبادات میں گزاری جبکہ دن کو روزہ رکھتے تھے آپ نے عمار کے توسط سے جناب خدیجہ کو پیغام بھیجا کہ اے معزز خاتون تو خیال نہ کرنا کہ میرا تم سے کنارہ کشی کرنا کسی دشمنی اور کدورت کی وجہ سے ہے بلکہ یہ علیحدگی اور کنارہ گیری حکم خدا کی وجہ سے ہے کہ جس کی مصلحت سے خدا ہی آگاہ ہے اے خدیجہ تو بزرگوار خواتین میں سے ایک ہو اللہ تعالی تمہارے وجود پر روزانہ کئی مرتبہ فرشتوں سے ناز کرتا ہے لہٰذا رات کو گھر کے دروازے بند کرکے آرام فرمائے اور میرا انتظار نہ کیجئے۔( بحار الانوار ج 15 صفحہ 78)
میں خدا کی طرف سے دوبارہ دستور آنے کا منتظر ہوں میں اس مدت کو فاطمہ بنت اسد کے گھر میں گزاروں گا جناب خدیجہ بھی حضرت پیغمبر اکرم ؐ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اس مدت میں اپنے محبوب کی جدائی میں روتی ہوئی گذاری ۔
 جب چالیس دن کی مدت ختم ہو گئی تو اللہ تعالی کی طرف سے فرشتے نازل ہو ئے اور جنت سے غذا لائے کہا کہ آج رات اس جنتی غذا کو تناول فرمائیں جناب رسول خدا نے اس روحانی اور بہشتی غذا سے افطار کیا اورجب آپ کھانے کے بعد دوبارہ نماز اور عبادت کیلئے کھڑے ہوئے تو جبرئیل نازل ہو ئے اور کہا اے خدا کے حبیب آج رات مستحبی نمازوں کو چھوڑ دو اور جناب خدیجہ کے پاس تشریف لے جائے کیونکہ خداوند کا (اس عبادت اورجنتی غذا کے نتیجے میں ) یہ ا رادہ ہے کہ آپ کے صلب مطہر سے ایک پاکیزہ بچی کا نور کائنات میں طلوع ہو، تاکہ کائنات کی سعادتمندی کا باعث بنے پیغمبر اکر م ؐ نے جونہی جبرئیل کا یہ دستور سنا فوراً خدیجہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے جناب خدیجہ کا بیان ہے کہ میں حسب معمول اس رات کو بھی دروازہ بند کرکے اپنے بستر پر آرام کر رہی تھی کہ اتنے میں دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی میں نے کہا کو ن ہے ؟اتنے میں پیغمبر کی دلنشین آواز میرے کانو ں میں آئی آپ فرما رہے تھے کہ دروازہ کھولو کہ میں محمدؐ ہوں میں نے فوراً دروازہ کھولا آپ خندہ پیشانی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور حکم خدا کے مطابق فاطمہ کا نور پیغمبر اکرم ؐکے صلب مطہرسے خدیجہ کے رحم میں منتقل ہوا۔( بحار ج 16ص 78 چاپ بیروت)
اگرچہ کچھ دوسر ی روایات میں اس طرح بیان ہو ا ہے کہ جب پیغمبر اکرم معراج پر تشریف لے گئے تو خدا نے اپنے حبیب کی خدمت میں جبرئیل کے ہاتھوں جنت کا ایک سیب بھیجا اور فرمایا اے جبرئیل رسول سے کہہ دو کہ آج رات اس سیب کو تناول فرمائیں پھر خدیجہ کے ساتھ سو جائیں آپ نے خدا کے حکم کے مطابق سیب کو تناول فرمایا اور زہرا کا وجود آپ کے صلب سے مادر کے شکم میں منتقل ہوا کہ اس روایت کو علماء شیعہ میں سے صدو ق نے علل الشرائع میں جناب علی ابن ابراہیم نے تفسیر قمی میں نقل کیا ہے اور سنی علماء میں سے بھی افراد ذیل نے نقل کیا ہے مثلاً رشید الدین طبری ، بغدادی ، نیشاپوری، ذہبی (مستدرک حاکم ،ذخائر العقبی، طبری ،تاریخ بغداد، مناقب ،میزان 1لاعتدال) ۔
لہٰذا یہ بات فریقین کے ہاں مسلم ہے کہ زہرا سلام اللہ علیہا کا وجود جنت کے سیب یا غذا سے بنا ہے ۔

Login to post comments