×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اہل بیت اور ترویج اذان كی كیفیت

تیر 31, 1393 424

جب ہم اذان كی مشروعیت كے بارے میں اہل بیت علیہم السلام كی روایتوں كو دیكھتے ہیں تو وہ مقام و منزلت نبوت سے سازگار نظر آتی ہیں۔ جب

كہ گذشتہ احادیث، مقام رسالت سے میل نہیں كھاتی تھیں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "جب جبرئیل علیہ السلام اذان لے كر نازل ہوئے تو نبی اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كا سر اقدس علی علیہ السلام كی آغوش میں تھا۔ جبرئیل نے اذان اور اقامت کہی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متوجہ ہوئے تو امیر المومنین علیہ السلام سے فرمایا: "اے علی (ع)! تم نے سنا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، یا رسول اللہ! رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: كیا تم نے حفظ كرلیا؟ فرمایا: جی ہاں۔ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال (رض) كو بلاؤ اور ان كو سكھاؤ۔ آپ نے بلال (رض) كو بلایا اور اذان و اقامت كی تعلیم دی۔" 37
مذكورہ روایت اور وسائل الشیعہ كی پہلی روایت (عن ابی جعفر علیہ السلام قال لما اسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الی السماء فبلغ البیت المعمور و حضرت الصلاة فاذن جبرئیل علیہ السلام واقام فتقدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصف الملائكة والنبیون خلف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 38 میں اختلاف صرف یہ ہے كہ پہلی روایت میں جبرئیل علیہ السلام نافلہ بجا لانا چاہتے تھے لیكن دوسری روایت كے مطابق جبرئیل علیہ السلام نافلہ، رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان كرنا چاہتے تھے۔ اسی لئے ہم دیكھتے ہیں كہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا كہ بلال كو بلاؤ اور اذان و اقامت كی تعلیم دو۔
اس نظریہ كی تائید وہ روایتیں بھی كرتی ہیں جن كو عسقلانی نے ذكر كیاہے۔ اور ان كی سندوں كے بارے میں مناقشہ كیا ہے۔ وہ کہتا ہے: ان احادیث كے مطابق، اذان مكہ میں ھجرت سےپہلے شروع ہوئی۔ انھیں روایتوں میں سے طبرانی كی روایت بھی ہے جو سالم بن عبداللہ بن عمر بن ابیہ كی سند سے مروی ہے۔ انھوں نے کہا: جب رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو معراج ہوئی تو خدا نے آپ (ص) پر كلمات اذان كی وحی كی۔ جب آپ (ص) معراج سے واپس آئے تو بلال كو اس كی تعلیم دی۔ اس كی سند میں طلحہ بن زید ہے جو كہ متروك ہے۔ وہ روایات جنھیں عسقلانی نے نقل كیا ہے، اذان كی تشریع كے سلسلہ میں اھل بیت علیہم السلام كے موقف (نظریہ) كے صحیح ہونے اور اذان كی بنیاد عبداللہ بن زید یا عمر بن خطاب كے خواب كو قرار دیئے جانے كے نادرست ہونے پر دلالت كرتی ہیں۔ جیسا كہ چھٹے امام علیہ السلام سے روایت ہے كہ آپ (ع) نے ان لوگوں پر لعنت كی ہے جو یہ خیال كرتے ہیں كہ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان عبداللہ بن زید سے لی۔ آپ (ع) نے فرمایا كہ وحی، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتی تھی پھر بھی تم یہ گمان كرتے ہوكہ آپ (ص) نے اذان كو عبداللہ بن زید سے لیا ھے؟ 39
الف) عسقلانی نے بزار كے حوالہ سے حضرت علی علیہ السلام سے روایت كی ہے كہ آپ (ع) نے فرمایا: جس وقت خداوند عالم نے یہ ارادہ كیا كہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو اذان كی تعلیم دے تو جناب جبرئیل علیہ السلام ایك سواری كے ذریعہ آپ (ص) كے پاس آئے، جس كو براق كھا جاتا ہے۔ آپ (ص) اس پر سوار ھوئے… ۔ 40
ب) ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام سے حدیث معراج كے سلسلہ میں روایت ہے كہ۔۔۔ پھر آپ نے جبرئیل علیہ السلام كو حكم دیا اور انھوں نے اذان اقامت كھی۔ اور اذان میں "حی علٰی خیر العمل" پڑھا۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور قوم كے ساتھ نماز پڑھی۔ 41
ج) امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو معراج ہوئی اور اذان كا وقت ہوا تو جناب جبرئیل علیہ السلام نے اذان کہی۔ 42
د) عبد الرزاق نے معمر سے، انھوں نے ابن حماد سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے اپنے دادا سے اور انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث معراج كے سلسلہ میں روایت كی ہے كہ… پھر جبرئیل كھڑے ہوئے اور اپنے داہنےہاتھ كی انگشت شہادت كو اپنے كان پر ركھ كر دو دو فقرے كر كے اذان کہی۔ آخر میں دوبار "حی علیٰ خیر العمل" کہا۔ 43
حوالہ جات :
37. وسائل الشیعہ، حر عاملی: 4/ 612، باب اذان و اقامت، حدیث نمبر: 2
38. وسائل الشیعہ، حر عاملی: 5/ 369، ابواب الاذان والاقامة، حدیث نمبر: 1 مترجم
39. وسائل الشیعہ، حر عاملی: ج4، ابواب الاذان والاقامہ، حدیث نمبر /3
40. فتح الباری فی شرح البخاری: 2/ 87، مطبع: دار المعرفہ لبنان
41. وسائل الشیعہ، حر عاملی: ج4، باب اذان و اقامت، باب /9، ص/3
42. مصدر سابق، ج10
43. سعد السعود: 100، بحار الانوار: 81/ 107، جامع الاحادیث الشیعہ: ج/2، ص

Login to post comments