×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

روزہ کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں چند احادیث

تیر 31, 1393 526

ماہ رمضان کی اہمیت: قال رسول الله صلى الله علیه و آله و سلم:لو یعلم العبد ما فى رمضان لود ان یكون رمضان السنة رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ و سلم

نے فرمایا: اگر بنده «خدا» کو معلوم ہوتا کہ رمضان کا مہینہ کیا ہے، (اور یہ کن برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے) وه چاہتا کہ پورا سال ہی روزہ رمضان ہوتا.[1]
رمضان رحمت کا مہینہ:
قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلمو هو شهر اوله رحمة و اوسطه مغفرة و اخرہ عتق من النار۔
رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:رمضان وہ مہینہ ہے جس کا آغاز رحمت، درمیانے ایام مغفرت اور انتہا دوزخ کی آگ سے آزادی ہے[2]
قرآن اور ماه مبارک رمضان
قال الرضا علیه السلام
من قرا فى شهر رمضان ایة من كتاب الله كان كمن ختم القران فى غیره من الشهور.
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
جو شخص رمضان کے مہینے مین قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے گویا اس نے دوسرے مہینوں میں پورے قرآن کی تلاوت کی ہے[3]
روزه کی اہمیت
قال رسول الله صلى الله علیه و آله وسلم :الصوم فى الحَرِّ جہاد
رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: گرمی میں روزه رکهنا جہاد ہے[4]
مومنوں کی بہار
قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم: الشتاء ربیع المومن یطول فیه لیلہه فیستعین به على قیامه و یقصر فیه نهارہ فیستعین به على صیامه.
رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: سردیوں کا موسم مومن کی بہار ہے جس کی طویل راتوں سے وہ عبادت کے لئے استفادہ کرتا ہے اور اس کے چھوٹے دنوں مین روزے رکھتا ہے[5]
روزه بدن کی زكواة
قال رسول الله صلى الله علیه و آله وسلم :لكل شیئى زكاة و زكاة الابدان الصیام۔
رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہر چیز کے لئے زکواة ہے اور بدن کی زکاة روزه ہے[6]
روزه آتش دوزخ کی ڈهال
قال رسول الله صلى الله علیه و آله وسلم :الصوم جنة من النار.
رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزه جہنم کی آگ کے مقابلے میں ڈهال کی حیثیت رکھتا ہے. «یعنى روزه رکھنے کے واسطے سے انسان آتش جہنم سے محفوظ ہو جاتا ہے[7].»
روزے کی جزا
قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم: قال اللہ تعالى الصوم لى و انا اجزى به
رسول خدا نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: روزہ میرے لئے ہے (اور میرا ہے) اور اس کی جزا میں ہی دیتا ہوں[8]
خوشا بحال صائمین
قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم :طوبى لمن ظما او جاع للہ اولئك الذین یشبعون یوم القیامة
رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: خوش بخت ہیں وہ لوگ جو خدا کے لئے بھوکے اور پیاسے ہوئے ہیں یہ لوگ قیامت کی روز سیر و سیراب ہونگے[9]
طعام و شرابِ جنت نوش کرنے والے
قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم:من منعه الصوم من طعام یشتهیه كان حقا على اللہ ان یطعمه من طعام الجنة و یسقیه من شرابها.
رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جس شخص کو روزہ اس کی مطلوبہ غذاؤں سے منع کرکے رکھے خدا کی ذمہ داری ہے کہ اس کو جنت کی غذائیں کهلائے اور انہیں جنتی شراب پلا دے[10]
جنت اور روزہ‏داروں کا دروازہ
قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم :ان للجنة بابا یدعى الریان لا یدخل منه الا الصائمون.
رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے اور اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہونگے[11]
ماہ رمضان کی فضیلت
قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم:ان ابواب السماء تفتح فى اول لیلة من شهر رمضان و لا تغلق الى اخر لیلة منه
رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ و سلم فرمود: آسمان کے دروازے ماه رمضان کے پہلی رات کو کھلتے ہیں اور آخری رات تک بند نہیں ہوتے[12]
روزه اور قیامت کی یاد دہانی
قال الرضا علیه السلام:انما امروا بالصوم لكى یعرفوا الم الجوع و العطش فیستدلوا على فقر الآخر.
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:لوگوں کو روزہ رکھنے کا امر ہوا ہے تا کہ وه بھوک اور پیاس کے دکھ کو جان لیں اور اس طرح آخرت کی ناداری اور حاجت مندی کا ادراک کریں[13]
اعضا و جوارح کا روزه
عن فاطم ‍ ‍ ة الزهرا سلام الله علیها:ما یصنع الصائم بصیامه اذا لم یصن لسانه و سمعه و بصره و جوارحه.
حضرت زهرا سلام اللہ علیھا نے فرمایا:وه روزه دار جس نے اپنی زبان، کان، آنکھ اور اعضاء و جوارح کو (گناہوں سے) محفوظ نہیں رکھا ہے اس کا روزه کس کام کا ، جس کی کوئی قیمت نہیں[14]
شب قدر کا احیاء
عن فضیل بن یسار قال:كان ابو جعفر علیه السلام اذا كان لیلة احدى و عشرین و لیلة ثلاث و عشرین اخذ فى الدعاء حتى یزول اللیل فاذا زال اللیل صلى.
فضیل بن یسار کہتے ہیں:امام باقر (علیہ السلام) ماہ رمضان کے اکیسیویں اور تئیسویں کی راتوں کو دعا اور عبادت میں مصروف ہوجایا کرتے تھے حتی کہ صبح ہوجاتی اور جب رات گزرجاتی نماز فجر ادا فرمایا کرتے[15]
حوالہ جات :
[1]بحار الانوار، ج 93، ص 346
[2]بحار الانوار، ج 93، ص 342
[3]بحار الانوار ج 93، ص 346
[4]بحار الانوار، ج 96، ص 257
[5]وسائل الشیعة، ج 7 ص 302، ح 3
[6]الكافى، ج 4، ص 62، ح 3
[7]الكافى، ج 4 ص 162
[8]وسائل الشیعة ج 7 ص 294، ح 15 و 16 ; 27 و 30
[9]وسائل الشیعة، ج 7 ص 299، ح‏2
[10]بحار الانوار ج 93 ص 331
[11]وسائل الشیعة، ج 7 ص 295، ح‏31. معانى الاخبار ص 116
[12]بحار الانوار، ج 93، ص 344
[13]وسائل الشیعة، ج 4 ص 4 ح 5 علل الشرایع، ص 10
[14]بحار، ج 93 ص 295
[15]وسائل الشیعة، ج 7، ص 260، ح 4

Login to post comments