×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عقیدہ توحید کے بارے میں آئمہ کرام کے فرامین

تیر 31, 1393 552

عمر بن علی (ع) نے اپنے بابا امیرالمومنین علیہ السلام سے اور انہوں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ

صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
التَّوْحِیدُ ظَاهِرُهُ فِی بَاطِنِهِ وَ بَاطِنُهُ فِی ظَاهِرِهِ ظَاهِرُهُ مَوْصُوفٌ لَا یُرَى وَ بَاطِنُهُ مَوْجُودٌ لَا یَخْفَى یُطْلَبُ بِكُلِّ مَكَانٍ وَ لَمْ یَخْلُ مِنْهُ مَكَانٌ طَرْفَةَ عَیْنٍ حَاضِرٌ غَیْرُ مَحْدُودٍ وَ غَائِبٌ غَیْرُ مَفْقُود.
توحید، یعنی اس چیز کا قائل ہونا کہ خدا نہ باطن رکھتا ہے اور نہ ظاہر، اس کا ظاہر اس کے باطن میں اور اس کا باطن اس کے ظاہر میں ہے، اس کا ظاہر ایسا موصوف ہے کہ جسے دیکھا نہیں جا سکتا اور اس کا باطن ایسا موجود ہے کہ جو مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے، اسے ہر جگہ پر پایا جا سکتا ہے اور کوئی بھی جگہ (حتی کہ) پلک جھپکنے کی مقدار کے برابر بھی اس سے خالی نہیں ہے وہ ایسا حاضر ہے کہ جسے محدود نہیں کیا سکتا اور ایسا غائب ہے کہ غیر مفقود ہے (یعنی ظاہری آنکھوں سے دور ہے درحالیکہ کہ ناپید اور غائب نہیں ہے)-
امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام  نے فرمایا: میں نے پیغمبر اکرم (ص) سے سنا ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا:
التَّوْحِیدُ ثَمَنُ الْجَنَّةِ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَفَاءُ شُكْرِ كُلِّ نِعْمَةٍ وَ خَشْیَةُ اللَّهِ مِفْتَاحُ كُلِّ حِكْمَةٍ وَ الْإِخْلَاصُ مِلَاكُ كُلِّ طَاعَةٍ.
توحید (یعنی خدا کی وحدانیت کا اقرار کرنا) جنت کی قیمت ہے، اور خدا کی حمد و ثناء بجالانا ہر نعمت کے شکر کی وفا ہے اور خدا سے ڈرنا ہر حکمت کی چابی ہے اور اخلاص (یعنی خدا کے لیے اپنی نیت کو خالص کر لینا) ہر طاعت کے قبول ہونے کا ملاک اور سبب ہے-
  رسول خدا (ص) فرماتے ہیں:
إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى وَعَدَنِی وَ أَهْلَ بَیْتِی خَاصَّةً مَنْ أَقَرَّ مِنْهُمْ بِالتَّوْحِیدِ فَلَهُ الْجَنَّةُ قَالَ وَ مَا جَزَاءُ مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَیْهِ بِالتَّوْحِیدِ إِلَّا الْجَنَّة.
بیشک خداوند نے مجھ سے اور فقط میرے اہل بیت علیہم السلام  وعدہ کیا ہے کہ ان میں سے جو بھی خدا کی توحید اور وحدانیت کا اقرار کرے اس کا اجر جنت ہے، اور فرمایا ہے کہ جس شخص پر خدا نے توحید کے سبب انعام کیا اس کی جزاء نہیں ہے مگر بہشت-
فضل بن شاذان سے مروی ہے کہ امام رضا علیہ السلام  نے فرمایا:
مَنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِیدِ وَ نَفَى التَّشْبِیهَ إِلَى أَنْ قَالَ وَ أَقَرَّ بِالرَّجْعَةِ بِالْیَقِینِ وَ اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ فَهُوَ مُۆْمِنٌ حَقّاً وَ هُوَ مِنْ شِیعَتِنَا أَهْلَ الْبَیْت.
جو شخص توحید کا اقرار کرتا ہو اور خدا کے لیے تشبیہ کا قائل نہ ہو یہاں تک آپ علیہ السلام  نے فرمایا: اور پورے یقین کے ساتھ رجعت کا اعتقاد رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو ، وہ سچا مومن اور ہمارے شیعوں میں سے ہے-
ابو بصیر نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
 إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى حَرَّمَ أَجْسَادَ الْمُوَحِّدِینَ عَلَى النَّار.
خداوند متعال نے موحدین اور خدا پرستوں کے اجسام کو آتش جہنم پر حرام کر دیا ہے-

Login to post comments