×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

خمس پر بحث

مرداد 01, 1393 416

3۔ لغت :علمائے لغت میں صاحب ”‌ المنجد“ ایسے صاحب لغت ہیں جو عرب تو ہیں لیکن نہ شیعہ ہیں نہ سنی بلکہ وہ ایک لبنانی مسیحی ہیں

جو اپنی کتاب المنجد میں ”‌غنم یغنم “ کے یوں معنی کرتے ہیں ” من غنم مالا “ یعنی جو مفت اور بغیر عوض کے کوئی مال حاصل کرے ،مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :غنم و غنیمت کے معنی غنائم جنگی میں منحصرنہیں ہے بلکہ غنم و غنیمت کے مصادیق میں سے ایک غنائم جنگی ہے یعنی عرب کے اس مسیحی لغت شناس نے بھی مذکورہ لفظ کے وہی معنی کیئے ہیں جو معنی شیعہ علماء نے آئمہ معصومین علیھم السلام کے اقوال کی روشنی میں کئے ہیں ۔
اب انصاف کا تقاضا ہے کہ ہمارے آئمہ علیھم السلام کی جانب سے بیان شدہ ”‌غنمتم “ کے معنی صرف ہمارے لئے ہی نہیں بلکہ اہل سنت کے لئے بھی لازم الاتباع ہونا چاہئے ۔کیونکہ ہمارے آئمہ علیھم السلام کی روایات میں جو معنی بیان کئے گئے ہیں وہی معنی ، استعمالات قرآنی اور روائی و لغوی معنی کے مطابق ہیں ۔
ایک مثال : عرب کا دستور ہے کہ جب مسافر وطن واپس آتا ہے تو اسے سلام کے بعد ایک دعائیہ جملہ ”‌خیر مقدم “ کہتے ہیں، یعنی خوش آمدید ۔ اسی طرح سفر پر جانے والے کو ” سالما غانما “ کہہ کر رخصت کرتے ہیں ۔”‌سالما “ کے معنی ہیںکہ سلامتی کے ساتھ واپس آئے اور ”‌غانما “ یعنی غنیمت اور فائدہ کے ساتھ واپس آئے اگر ”‌غانما “ کے معنی غنائم جنگی سے مخصوص ہوتے تو فقط میدان جنگ کی جانب سفر کرنے والوں کے لئے اس لفظ کا استعمال ہونا چاہئے تھا ۔جبکہ عرب ہر مسافر کےلئے اس لفظ کا استعمال کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ لفظ ”‌غانم “ کے معنی غنائم جنگی میں منحصرنہیں ہیں بلکہ عربی زبان میں ہر قسم کی منفعت و فائدہ کو مغنم و غنیمت کہتے ہیں۔
دلیل سوم: اطلاق آیت شریفہ
اگر آیت شریفہ اس طرح ہوتی کہ ”‌و اعلموا انما غنمتم من شئی (فی دار الحرب”¤”¤”¤”¤”¤)“ تو اہل سنت کا کہنا صحیح تھا کہ غنیمت سے مراد فقط غنائم جنگی ہے۔ لیکن آیت شریفہ میں لفظ ”‌غنمتم “ مطلق ہے یعنی جو کچھ بھی تمہیں فائدہ پہونچے خواہ میدان جنگ میںیا زندگی کے دیگر میدانوں میں ”¤”¤”¤”¤اور جب لفظ ”‌غنمتم “ کے ساتھ خدا وند عالم نے کسی قسم کی کوئی قید و شرط نہیں لگائی تو پھرہمیں بھی اسکے معنی میں جنگ و حرب کی قید نھیں لگانی چاہئے ۔

Login to post comments