Print this page

رسول اللہ (ص) اور صالحین سے تبرک و توسل

مرداد 01, 1393 471
Rate this item
(0 votes)

اہل تشیع اور اہل سنت کے برعکس، وہابی اصولی طور پر توسل اور تبرک سے ہر حال میں نہی کرتے ہیں اور اس سنت حسنۂ الہیہ کے معتقدین کو

مشرک، مرتد اور کافر سمجھتے ہیں حالانکہ اہل سنت کے منابع حدیث میں اس مہم پر تاکید اور توسل و تبرک کی تائید ہوئی ہے:
{انّ حُرمةَ النبی میتاً كحرمته حیاً}1
پیغمبر اکرم (ص) کا احترام وصال کے بعد، زمانۂ حیات کی طرح، ہے۔
چنانچہ ہم ان توہین آمیز اور نہایت بے بنیاد وہابی شبہات کے جواب میں ابتداء میں تاریخی مستندات کا حوالہ دیتے ہیں اور بعض صحابہ اور اہل سنت کے اکابرین کی روش اور عمل سے استناد کرتے ہیں۔
رسول اللہ (ص) سے صحابہ کا تبرک اور توسل اور آپ (ص) کی قبر شریف کا احترام شعائر اللہ کی تعظیم کا مصداق ہے اور آیات کریمہ اس عمل کی تائید کرتی ہیں۔ خداوند متعال نے فرمایا:
{وَمَن یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ} ؛2.
اور جو بھی اللہ کے (شعائر) کی تعظیم کرے یہ تعظیم اس کے دلوں کی پرہیزگاری کا نتیجہ ہے۔
1۔ فتح شام کے بعد مدینہ واپسی پر عمر بن خطاب کا سب سے پہلا عمل یہ تھا کہ وہ مسجدالنبی (ص) پہنچے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو پر سلام بھیجا۔ 3
2۔ ابن عساکر نقل کرتا ہے: عمر بن خطاب بیت المقدس سے واپسی پر "جابیہ" کے علاقے میں پہنچے تو بلال نے عمر سے درخواست کی "مجھے شام میں رہنے دیں"، چنانچہ عمر نے ایسا ہی کیا اور انہیں شام میں چھوڑ کر گئے۔ بلال جو رسول اللہ (ص) کے موذن تھے، کو خواب میں دیدار رسول (ص) کا شرف حاصل ہوا اور رسول خدا (ص) نے فرمایا: اے بلال! یہ کیا جفا ہے؟ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ میری زیارت کے لئے آئے؟ بلال جاگے تو بہت غمگین اور خائف ہوئے۔ اپنے مرکب پر سوار ہوئے اور قبر رسول (ص) کی زیارت کے لئے مدینہ منورہ مشرف ہوئے اور رو رو کر اپنا چہرے سے قبر مطہر کو مَس کرنا شروع کیا؛ جب حسن و حسین (علیہما السلام) آئے تو انہیں گلے لگایا اور دونوں کو چوما۔ 4  (جاری ہے)
حوالہ جات:
1۔ سبل الهدى و الارشاد،ج 11،ص 439
2۔ سوره حج (22) آیه 32
3۔ شفاءالسقام ص 44
4۔ اسد الغابة ج1 ص 208
 ترجمہ و تحریر: محمد حسین حسینی

Login to post comments