×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

روزہ، ایثار اور انسان دوستی

مرداد 01, 1393 480

انسان ایک سماجی موجود ہے اور انسان کامل وہ ہے جو اپنے وجود کے تمام پہلووں میں نشوونما کرے۔ روزہ، انسان کے دوسرے پہلووں کے

ساتھ ساتھ اس کے معاشرتی اور سماجی پہلو کو بھی پرورش دیتا ہے کیونکہ روزہ معاشرے کے افراد کے درمیان مساوات اور برابری کا درس دیتا ہے۔ جب ہم اس مذہبی حکم کی تعمیل کرتے ہیں، معاشرے کے مالدار اور صاحبان ثروت محرومین اور بھوکوں کی صورت حال کا واضح طور پر ادراک کرتے ہیں اور اس ادراک کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ غرباء اور مساکین اور محرومین کے مسائل کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر بھوکوں کی طرف توجہ کو حسی اور عینی جامہ پہنایا جائے تو روزہ زیادہ مؤثر ہوگا اور روزہ اس اہم سماجی موضوع کو حسی اور عینی صورت عطا کرتا ہے۔ اس معاشرتی پہلو کو پروان چڑھانے کے بعد انسان بنی نوع انسان کے مسائل سے بےرخی اختیار نہیں کرتا اور غربت اور بھوک و افلاس جیسے معاشرتی دکھوں کو محسوس کرتا ہے اور سعدی شیرازی کے اس کلام کا مصداق قرار پاتا ہے کہ:
  بنى‏آدم اعضاى یكدیگرند           كه در آفرینش ز یك گوهرند                                        
  چو عضوى به درد آورد روزگار          دگر عضوها را نماند قرار
بنی آدم ایک دوسرے کے جسم و جان کے اعضاء ہیں اور خلقت میں ایک ہی پیکر سے ہیں
جب زمانہ دکھ و درد دے ای عضو کو تو دوسرے اعضاء بھی چین سے نہ رہ سکیں گے
قابل توجہ ہے کہ اگر دنیا کے مالدار ممالک اور دولتمند افراد سال کے چند روز روزہ رکھیں اور بھوک کا ذائقہ چکھ لیں، تو کیا پھر بھی دنیا میں اتنے زیادہ بھوکے اور مفلس رہیں گے؟! کیا کروڑوں انسان اشیاء خورد و نوش کی قلت اور قحط کا شکار ہوسکیں گے؟!

Login to post comments