×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قرآن فصاحت و بلاغت کی عمدہ مثال

مرداد 01, 1393 818

قرآن مجید جس دور میں نازل ہوا وہ فصاحت و بلاغت اورمنطق و حکمت کا دور تھا چنانچہ جب اسے فصیح وبلیغ ادبیوں ' عالموں اور شاعروں کے سامنے

پیش کیا گیا تو وہ بے ساختہ پکار اُٹھے کہ:
’’ خدا کی قسم یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام نہیں ہے ۔‘‘
قرآن مجید ایسی فصیح وبلیغ زبان میں نازل ہوا جس کی نظیر پیش کرنے سے انسان قاصر تھے،قاصر ہیں اور قاصر رہیں گے!مثلاًقرآن مجید نے جب اپنی فصاحت وبلاغت کا دعویٰ کیا تو عربوں نے انتہائی غورفکر کے بعد تین الفاظ پر اعتراض کیا کہ وہ عربی محاورے کے خلاف ہیں۔ یہ الفاظ کُبَّار،ہُذُوًااور عُجَاب تھے۔معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔آپ نے معترضین کے مشورے سے ایک بوڑھے شخص کو منصف بنایا۔
جبب وہ شخص آیا اور بیٹھنے لگا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ادھر بیٹھ جائیں‘‘۔ وہ اس طرف بیٹھنے لگا تو آپ نے فرمایا :’’ اُدھر بیٹھ جائیں‘‘۔جب وہ اُدھر بیٹھنے لگا تو پھر اشارہ کرکے فرمایا :’’اِدھر بیٹھ جائیں ‘‘۔اس پر اس شخص کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا :
(( اءَنَا شَیْخ کُبَّار اءَتَتَّخِذُنِی ھُذُوًا ھٰذَا شَیئ عُجَاب ))
’’ میں نہایت بوڑھا ہوں ۔ کیا آپ مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں؟یہ بڑی عجیب بات ہے ‘‘۔
یوں اس نے تینوں الفاظ تین جملوں میں کہہ ڈالے۔اس پر معترضین اپنا سامنہ لے کر رہ گئے۔
ایک مصری عالم لکھتے ہیں کہ وہ ایک مجلس میں اپنے جرمن مستشرق دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے ۔مستشرقین نےان سے پوچھا :کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن جیسی فصیح وبلیغ عربی میں کبھی کسی نے گفتگو کی ہے نہ کوئی ایسی زبان لکھ سکا ہے ۔علامہ نے کہا :ہاں میرا ایمان ہے کہ قرآن جیسی فصیح و بلیغ عربی میں کسی نے کبھی گفتگو کی ہے نہ ایسی زبان لکھی ہے۔انھوں نے مثال مانگی تو علامہ نے ایک جملہ دیا کہ اس کا عربی میں ترجمہ کریں:
’’جہنم بہت وسیع ہے ‘‘
جرمن مستشرقین سب عربی کے فاضل تھے ،انہوں نے بہت زور مارا۔ جہنم واسعة ،جہنم وسیعة جیسے جملے بنائے مگر بات نہ بنی اورعاجز آ گئے تو علامہ طنطاوی نے کہا :’’لو اب سنو قرآن کیا کہتا ہے‘‘:
(( یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَھَنَّمَ ھَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّذِیْدٍ))
’’ جس دن ہم دوزخ سے کہیں گے : کیا تو بھر گئی ؟ اوروہ کہے گی :کیا کچھ اور بھی ہے ؟‘‘
اس پر جرمن مستشرقین اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوے اور قرآن کے اعجاز بیان پر مارے حیرت کے اپنی چھاتیاں پیٹنے لگے۔

Login to post comments