×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قرآن اور ماہ رمضان کی فضیلت

مرداد 01, 1393 472

جب انسان روزہ کی حالت میں ہوتا ہے تب وہ اس بھوک کو محسوس کرتا ہے جس کا سامنا ایک مفلس انسان ہر روز کرتا ہے ۔ اس لئے روزے کی حالت

میں غنی و فقیر ایک ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے اپنی مخلوق کے درمیان ایک مساوات برقرار کی اور غنی کو یہ احساس دلایا کہ غریبوں کی مفلسی کیا ہے ۔ روزہ کی حالت میں ایک امیر انسان بھوک کو محسوس کرتا ہے اور اسے غریب کی حالت کا اندازہ ہوتا ہے کہ بھوک کی حالت میں ایک غریب پر کیا گزرتی ہے ۔ اس طرح غریب کے لئے امیر کے دل میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور یوں وہ بھوکے پر رحم کرتا ہے اور غریبوں کی امداد کرنے لگ جاتا ہے ۔
امام رضاعلیہ السلام فرماتے ہیں :
( من قرء فی شھر رمضان آیة من کتاب اللہ کان کمن ختم القرآن فی غیرہ من الشّھور ))
 جو شخص ماہ مبارک میں قرآن کی ایک آیت پڑھے تو اس کا اجر اتنا ہی هے جتنا دوسرے مہینوں میں پورا قرآن پڑھنے کا هے ۔
 کسی شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا :
 ((یا رسول اللہ ! ثواب رجب اءبلغ اءم ثواب شھر رمضان ؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : لیس علی ثواب رمضان قیاس))
یا رسول اللہ! رجب کا ثواب زیادہ هے یا ماہ رمضان کا؟ تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ماہ رمضان کے ثواب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔گویا خدا وند متعال بہانہ طلب کر رہا هے کہ کسی طرح میرا بندہ میرے سامنے آ کر جھکے تو سہی۔ کسی طرح آکر مجھ سے راز و نیاز کرے تو سہی تا کہ میں اس کو بخشش دوں ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ مبارک کی فضیلت بیان فرماتے ہیں :
 ((انّ شھر رمضان ، شھر عظیم یضاعف اللہ فیہ الحسنات و یمحو فیہ السیئات و یرفع فیہ الدرجات .))
ماہ مبارک عظیم مہینہ هے جس میں خداوند متعال نیکیوں کو دو برابرکر دیتا هے۔ گناهوں کو مٹادیتا اور درجات کوبلند کرتا هے۔
  امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :((اذا اءسلم شھر رمضان سلّمت السّنة وراءس السّنة شھر رمضان ))
اگر کوئی شخص ماہ مبارک میں سالم رهے تو پورا سال صحیح و سالم رهے گا اور ماہ مبارک کو سال کا آغاز شمار کیا جاتا هے۔اب یہ حدیث مطلق هے جسم کی سلامتی کو بھی شامل هے اور اسی طرح روح کی بھی۔ یعنی اگر کوئی  شخص اس مہینہ میں نفس امارہ پر کنٹرول کرتے هوئے اپنی روح کو سالم غذا دے تو خدا وند متعال کی مدد اس کے شامل حال هوگی اور وہ اسے اپنی رحمت سے پورا سال گانهوں سے محفوظ رکھے گا۔ اسی لئے تو علمائے اخلاق فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک خود سازی کا مہینہ هے تہذیب نفس کا مہینہ هے ۔ اس ما ہ میں انسان اپنے نفس کا تزکیہ کر سکتا هے۔
اور اگر وہ پورے مہنیہ کے روزے صحیح آداب کے ساتھ بجا لاتا هے تو اسے اپنے نفس پر قابو پانے کا ملکہ حاصل هو جائے گا اور پھر شیطان آسانی سے اسے گمراہ نہیں کرپائے گا ۔
  عزیزان گرامی ! جو نیکی کرنی هے وہ اس مہینہ میں کر لیں ، جو صدقات و خیرات دینا چاہتے ہیں وہ اس مہینہ میں حقدار تک پہنچائیں اس میں سستی مت کریں ۔مولائے کائنات امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں اے انسان تیرے پاس تین ہی تو دن ہیں ایک کل کا دن جو گذر چکا اور اس پر تیرا قابو نہیں چلتا اس لئے کہ جو اس میں تو نے انجام دینا تھا دے دیا۔ اس کے دوبارہ آنے کی امید نہیں اور ایک آنے والے کل کا دن هے جس کے آنے کی تیرے پاس ضمانت نہیں ، ممکن هے زندہ رهے، ممکن هے اس دنیا سے جانا پڑ جائے، تو بس ایک ہی دن تیرے پاس رہ جاتا هے اور وہ آج کا دن هے جو کچھ بجا لانا چاہتا هے اس دن میں بجا لا۔اگر کسی غریب کی مدد کرنا هے تو اس دن میں کر لے ، اگر کسی یتیم کو کھانا کھلانا هے تو آج کے دن میں کھلا لے ، اگر کسی کو صدقہ دینا هے توآج کے دن میں دے ، اگر خمس نہیں نکالا تو آج ہی کے اپنا حساب کر لے ، اگر کسی ماں یا بہن نے آج تک پردہ کی رعایت نہیں کی تو جناب زینب سلام اللہ علیھا کاواسطہ دے کر توبہ کرلے، اگر آج تک نماز سے بھاگتا رہا تو آج اس مبارک مہینہ میں اپنے ربّ کی بارگاہ میںسرجھکا لے خدارحیم هے تیری توبہ قبول کر لے گا۔ اس لئے کہ اس نے خود فرمایا هے : (( اءدعونی اءستجب لکم ))
اے میرے بندے مجھے پکار میں تیری دعا قبول کروں گا ۔
عزیزان گرامی! یہ مہینہ دعاؤں کا مہینہ هے بخشش کامہینہ هے اور پھر خود رسول مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
((انّما سمّی رمضان لاءنّہ یرمض الذّنوب))
رمضا ن المبارک کو رمضان اس لئے کہا جاتاهے چونکہ وہ گناهوں کو مٹا دیتا هے .
  آئیں مل کر دعاکریں کہ اے پالنے والے تجھے اس مقدس مہینہ کی عظمت کا واسطہ ہم سب کو اس ما ہ میں اپنے اپنے نفس کی تہذیب واصلاح اور اسے اس طرح گناهوں سے پاک کرنے کی توفیق عطا فرما جس طرح تو چاہتا هے اس لئے کہ تیری مدد کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں هے۔ آمین

Login to post comments