Print this page

کیا پورا قرآن ماہ رمضان میں نازل ہوا

مرداد 01, 1393 630
Rate this item
(0 votes)

ارشاد ربانی ہے کہ {ماہ رمضان جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے} (1) اور سوال یہ ہے کہ کیا پورا قرآن ماہ رمضان میں نازل ہوا ہے؟ نزول قرآن کی کیفیت کے

بارے میں آیات کریمہ کو دو زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
ایک۔ وہ جو شب قدر میں نزول قرآن کے نزول پر دلالت کرتی ہیں جیسے: سورہ بقرہ کی آیت 185، سورہ دخان کی تیسری نیز سورہ قدر کی پہلی آیت۔
دو۔ وہ جو 20 سے 23 سال کے عرصے میں قرآن کے تدریجی نزول پر دلالت کرتی ہیں؛ جیسے: سورہ اسراء کی آیت 106 اور سورہ فرقان کی آیت 32۔
یہاں پوچھا جاسکتا ہے کہ "آیات کے ان زمروں کو کیونکر جمع کیا جاسکتا ہے اور 23 سال کے دوران قرآن کے نزول کو شب قدر میں نزول قرآن کے ساتھ کیونکر ہمآہنگ کیا جاسکتا ہے؟"
شیعہ ـ سنی کے جوابات کچھ یوں ہیں:
1۔ زیادہ تر سنی علماء اور بعض شیعہ علماء (منجملہ شیخ مفید، سید مرتضی، ابن شہرآشوب) نے جواب دیا ہے کہ: شب قدر نزول قرآن سے مراد، نزول کا آغاز ہے جو ماہ رمضان میں ہوا ہے؛ کیونکہ کسی بھی واقعے کو اس کے آغاز سے نسبت دی جاسکتی ہے؛ (2) چنانچہ شیعہ اور سنی علماء کی اس رائے کے مطابق آیات کا پہلا زمرہ دوسرے زمرے سے متصادم نہیں ہے۔
2۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ "رمضان" سے مراد ایک خاص رمضان نہیں ہے بلکہ رمضان کی نوع ہے؛ یعنی ہر سال کی ہر رات کو لوگوں کی ضرورت کے مطابق قرآنی آیات نازل ہوتی رہی ہیں اور جبرائیل ضرورت کے وقت بحکم خدا، رسول (ص) کے لئے پڑھتے رہے ہیں۔ فخررازی نے یہ امکان ظاہر کیا ہے۔ (3) ظاہر ہے کہ اس فرض کی روشنی میں بھی پہلا زمرہ دوسرے سے متصادم نہیں ہے۔
3۔ بعض علماء کہتے ہیں: آیات کے پہلے زمرے کے معنی یہ ہیں کہ قرآنی آیات ہر سال رمضان کے مہینوں میں نازل ہوتی رہی ہیں چنانچہ نزول قرآن کو رمضان سے منسوب کرنا صحیح ہے۔ (4)
4۔ شیخ صدوق سمیت بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ قرآن مجموعی طور پر ایک شب قدر میں بیت المعمور ـ یا بیت العزة ـ میں نازل ہوا ہے؛ اور پھر 20 یا 23 سالوں کے دوران پیغمبر اکرم (ص) پر تدریجاً نازل ہوتا رہا ہے۔ یہ رائے بعض روائی اور حدیثی شواہد سے ماخوذ ہے۔ مثال کے طور پر امام صادق (ع) فرماتے ہیں:  
"قرآن یکجا بیت المعمور پر نازل ہوا ہے اور اس کے بعد 20 سال کے عرصے کے دوران رسول اللہ (ص) کے قلب مبارک پر نازل ہوتا رہا ہے"۔ (5)
حوالہ جات :
1۔ سورہ بقره(2)، آیت 185۔
2۔ آیۃاللہ معرفت، التمهید، ج 1، ص 113۔
3۔  التفسیر الكبیر، ج 5، ص 85۔
4۔ سید قطب، فى ظلال القرآن، ج 2، ص 79۔
5 ۔ صدوق، الاعتقادات، ص 101۔ بحارالانوار، ج 18، ص 250۔

Login to post comments