×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

زندگی میں مثالوں کی اہمیت

مرداد 01, 1393 389

خدا وندمتعال نے اعلی عقلی مفاہیم کو مثال کے ذریعہ بیان فرمایا ہے تاکہ عام لوگ ان مفاہیم کو اپنی عقل کے تناسب سے سمجھ سکیں ۔ بنابرایں

قرآنی مثالوں کا فلسفہ اعلی اور گہرے مسائل کو سادہ اور لوگوں کے عقل وفہم کے مطابق بیان کرنا ہے ۔
مثل یعنی حقائق علمی کو محسوس کی جانے والی چیزوں سے تشبیہ دینا ،اس تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے عقلی مسائل ہیں کہ اکثر لوگوں میں سمجھنے اور درک کرنے کی طاقت اور صلاحیت نہیں پائی جاتی ہے ۔ لیکن عادت کی وجہ سے محسوساتی اشیاء کو بہتر اور آسانی سے درک کرلیتے ہیں ۔ عقلی بحثوں میں توضیح وتفسیر کے سلسلے میں مثال کا کردار ناقابل انکار ہے اسی لئے حقائق کو واضح اور روشن اور انھیں ذھن سے نزدیک کرنے میں ہم ہمیشہ مثال کے محتاج ہیں کیونکہ کبھی ایک مثال دقیق اور مقصود سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور وہ وضاحت کے بارے میں ایک کتاب کا کام کرتی ہے اور مشکل مطالب کو سب کے لئے عام فہم بنا دیتی ہے ۔
مثل کےخوبصورت اورعام فہم ہونے کی وجہ سے تمام تہذیبوں نے استقبال کیا ہے اور ہر ایک قوم کے نزدیک قابل قبول ہے اور ہر قوم کی تہذیب کی طاقت کی علامت ہے ۔ فارسی ادب میں بھی بارہا اس ادبی صنعت سے استفادہ کیا گیا ہے تاکہ مخاطبین پر اس کا دہرا اثر پڑے ۔
مثال کبھی ایک عمل ہے اور کردار کی زبان سے اسے بیان کیا جاتا ہے اور عمل میں اس کے معنی پیدا ہوتے ہیں اور کبھی ایک لفظ ہے جو زبان پر جاری ہوتی ہے ،جیسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت علیہم السلام کی سیرت میں ، کبھی عملی مثالوں کو دیکھا جاتا ہے کہ فطری طور اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے ۔ بطور مثال ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم اپنے اصحاب وانصار کے ساتھ کہیں جا رہے تھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ان چھوٹے گناہوں کی طرف اصحاب کو متوجہ کر دیں جن کے خطرات کی طرف لوگوں کی توجہ بہت کم ہوتی ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بے آب وگیاہ اور خشک بیابان میں اصحاب وانصار کو حکم دیا کہ تھوڑی سی لکڑی جمع کریں ۔ اصحاب نے عرض کی یا رسول اللہ اس بے آب وگیاہ اور خشک بیابان میں دور دور تک لکڑی کا کہیں بھی وجود نہیں ہے! آپ نے فرمایا کا تلاش کرو ، تھوڑی ہی مقدار میں ہی کیوں نہ ہو کافی ہے ۔اصحاب لکڑی کی تلاش میں نکلے اور ہرایک نے تھوڑی دیر کے بعد مختصر اور تھوڑی بہت مقدار میں لکڑیاں جمع کیں اور لے آیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ لکڑیوں کو ایک جگہ ڈال دیں ، جب ان تھوڑی بہت لکڑیوں کو ایک جگہ لا کر ڈال دیا گیا تو لکڑیوں کی ایک بڑا ڈھیر دکھائی دینے لگا ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں آگ لگا دی ، آگ شعلہ ور ہوئی اور اس میں شدید حرارت پیدا ہوگئی اور اور اصحاب شدت حرارت کی وجہ سے وہاں سے دور ہوگئے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ گناہ بھی ان لکڑیوں کی طرح سے اکھٹا ہوجاتے ہیں ! بنابرایں چھوٹے گناہوں سے پرہیزکریں ۔
جی ہاں چھوٹے چھوٹے گناہ بھی ان لکڑیوں کی طرح جمع ہوجاتے ہیں اور اچانک آگ کے دریا میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، گناہان صغیرہ کے بارے میں سب سے بڑا خطرہ جے توجہی ہے جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملا اس مثال کے ذریعہ بیان فرمایا ہے۔
کیونکہ قرآن کریم ایک کتاب ہے اس لئے فطری بات ہے کہ اس کی مثالیں بھی لفظی ہیں ۔ قرآن کریم میں ضرب المثل کے بیان کی خاص علامت ہے جس سے سامعین بہت زیادہ متائثر ہوتے ہیں اور اس مؤثر عامل سے قرآن کریم کو بہت زیادہ فائدہ پہونچا ہے ، بنیادی طور پر قرآن کریم نے اپنی اعلی تعلمیات کو مثال ، تشبیہ اور استعارہ کے ذریعہ بیان کیا ہے اور کبھی اس سے بھی بالا تر تخیلاتی اور نفسیاتی صورت میں بیان کیا ہے ، دعوت کے لئے ادبی اور فنی روش مؤثر اور ممکن ترین وسیلہ شمار ہوتی ہے ،قرآن کریم کی ہرایک مثال ایسے خوبصورت بورڈ کی مانند ہے جو مخاطبین کے سامنے بڑی مہارت کے ساتھ حالات کے مطابق نقشہ کھنچ دیتا ہے تاکہ خود انسان اپنی حیات کے خوبصورت اور برے مناظر کو دیکھ کر اس کے بارے میں فیصلہ اور خدا کی مہارت کا تصور کرے تاکہ قرآن کریم کے اعجاز کے بارے میں اسے دلیل قرار دیا جا سکے ۔
خدا وندمتعال نے بعض اعلی عقلی مفاہیم کو مثال کے ذریعہ بیان فرمایا ہے تاکہ عام لوگ ان مفاہیم کو اپنے فہم وادراک کے مطابق سمجھ سکیں بنابرایں قرآن کریم میں بیان کی گئیں مثالوں کا فلسفہ اعلیٰ اورگہرے مفاہیم اور مسائل کو لوگوں کے فہم وادراک کے مطابق بیان کرنا ہے ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرما یا ہے کہ قرآن کریم پانچ چیزوں کی وجہ سے نازل ہوا ہے ۔: حلال ،حرام ۔ محکم ، متشابہ اور امثال کے لئے ، پس حلال پر عمل اور حرام سے پرہیز کریں ، محکم کی پیروی کریں اور متشابہ پر یقین رکھیں اور مثالوں سے عبرت حاصل کریں ۔
  مختلف اور گوناگوں مثالیں دی جاتی ہیں جو مختلف اہداف ومقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہیں ،قرآن کریم کے اعلی و ارفع اور فصیح کلام میں جو کچھ ذکر ہوا ہے وہ تعقل ، فکر تذکر ، یاد دھانی اور نصیحت وعبرت حاصل کرنے کے لئے ہیں ۔ خدا وندمتعال نے مختلف مثالوں کو بیان کرنے کے ہدف کو مختلف آیات میں بیان فرمایا ہے ،چنانچہ سورہ ابراہیم کی پچیسویں آیت میں مثال بیان کرنے کے ہدف کو تذکر اوریاد دھانی قرار دیا ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے یضرب اللہ الامثال للناس لعلہم یتذکروں ۔ خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے کہ شاید ہوش میں آجائیں ، سورہ حشر کی اکیسویں آیت میں بھی خدانے مثال بیان کرنے کے مقصد کو غور وفکر قرار دیا ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے { وتلک الامثال نضربہاللناس لعلہم یتفکرون } ہم ان مثالوں کو انسانوں کےلئے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ شاید وہ کچھ غور وفکر کرسکیں۔

 

Last modified on چهارشنبه, 01 مرداد 1393 15:35
Login to post comments