×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

روزہ، روح لطیف اور عزم صمیم

مرداد 01, 1393 498

روزے دنیا کے آسمانی ادیان میں ہی نہیں، مشرقی فلسفی ادیان میں بھی پائے جاتے ہیں اور جدید سائنس تو اب روزوں کو بعض بیماریوں کے نسخے

طور پر تجویز کرتی ہے۔
روزہ مختلف پہلوؤں کا حامل ہے اور مادی اور معنوی لحاظ سے انسان کے وجود پر بہت زیادہ اثرات مرتب کرتا ہے جن میں سب سے اہم اس کا "اخلاقی پہلو اور تربیتی فلسفہ" ہے۔
روزے کے تربیتی اثرات
روح کو لطافت بخشنا
انسانی روح ہر وقت اس کے جسم کی تدبیر و انتظام میں مصروف عمل ہے اور بدن روح کی تدبیر کے بغیر اس کشتی کی طرح ہے جس کا ناخدا و کشتی بان نہ ہو۔ ماہ رمضان میں کھانے اور پینے سے پرہیز و امساک ـ اور خورد و نوش کو خاص اوقات تک محدود کرنے نیز حواس (منجملہ آنکھوں، کانوں اور ذہن میں اطلاعات و معلومات کے داخلے کے تمام ذرائع) کو قابو میں رکھنے کی وجہ سے روح و نفس کی فراغت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مادی اور دنیاوی امور کے اہتمام کے حوالے سے روح کی فعالیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ نتیجے کے طور پر انسانی روح کی لطافت اور شفافیت بھی بڑھ جاتی ہے۔
عزم و ارادے کی تقویت
خداوند متعال نے روزوں کا پروگرام اس طرح سے مرتب کیا ہے کہ انسان کو خاص اور معینہ اوقات میں کھانے اور پینے سے پرہیز کرنا پڑتا ہے اور خاص اوقات میں آزادانہ طور پر کھا اور پی سکتا ہے اور حلال لذتوں سے استفادہ کرسکتا ہے۔
اس پروگرام پر صحیح اور دقیق عمل اور ایک مہینے کے دوران اس کو مسلسل دہرانا، بہت ہی مناسب تمرین ہے کہ انسان اپنے نفس کو ایسے امور کا عادی بنائے جو ان امور سے مختلف ہیں جن کا وہ دوسرے مہینوں میں عادی تھا۔ اور یہ امر انسان کے عزم و ارادے کو تقویت پہنچاتا ہے۔

Login to post comments