Print this page

اپنے غصّے پر قابو پائیں

مرداد 01, 1393 469
Rate this item
(0 votes)

جب کبھی سڑک پر کسی کی غلطی کے باعث ٹریفک کا ہجوم لگ جائے تو آپ کو غصّہ آ جاتا ہے جب آپ کا بچہ آپ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا ہے تب

بھی آپ غصے میں آ جاتے ہونگے ؟ غصّہ آنا ایک قدرتی عمل ہے اور اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کو قابو میں رکھنا چاہئے تاکہ کسی بھی قسم کے برے اثر سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے ۔ اس بات کی بھی بہت اہمیت ہے کہ غصے کو ایک مثبت طریقے سے کنٹرول کیا جائے۔
جب کبھی آپ اپنے غصے کو قابو کرنے سے قاصر ہوتے ہیں تب آپ کو بعض وجوہات کی بنا پر مختلف طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جو غصّہ ناقابل کنٹرول ہو وہ آپ کی سلامتی کے لئے اور آپ کے  معاشرتی روابط کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
ہماری زندگی پر غصّے کے بہت سے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں مثلا
* غصّہ ہمارے اندر پائی جانے والی خوشیوں کی صلاحتیوں اور توانائیوں کو کھا جاتا ہے کیونکہ غصہ اور خوشی ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔
* غصّے کی وجہ سے باہمی روابط اور خاندانی روابط تلخ بن جاتے ہیں ۔
*غصّے کی وجہ سے اجتماعی طرز کی مہارتیں نقصان اٹھاتی ہیں اور سازگار ماحول درھم برھم ہو جاتا ہے۔
* غصّے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے شغل کو کھو دیں کیونکہ پیشہ ورانہ روابط اس سے خطرے میں پڑ جاتے ہیں ۔
* غصّے کا مطلب آپ کی کسی بھی کام میں شکست ہے کہ اگر آپ کے اندر غصہ نہ ہو تو بڑی آسانی کے ساتھ اسی کام کو آپ خوش اسلوبی سے انجام دے سکتے ہیں ۔
 * غصّے کی حالت میں انسان کو ذھنی پریشانیوں کا سامنا پڑ جاتا ہے اور انسان ذھنی تناؤ کا شکار رہتا ہے ۔
* غصے کی حالت میں ہم سے بہت ساری غلطیاں سرزد ہوتی ہیں کیونکہ اس وقت ہم اپنے ذہن کا کنٹرول کھو دیتے ہیں اور ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ ہم اپنا کس قدر نقصان کر رہے ہیں ۔
غصے پر قابو پانے کا ہنر جان لیں تاکہ آسانی سے ذھنی تناؤ کو کم کرنے کے قابل ہو جائیں ۔ یہ درست ہے کہ غصے پر قابو پانا اور اس حالت میں اپنے ہوش حواس میں رہنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے لیکن آپ چند باتوں کا خیال رکھتے ہوئے غصے پر قابو پانے کی مہارت کو سیکھ سکتے ہیں ۔
مندرجہ ذیل دس نکات کا خیال رکھیں :
1۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ آپ غصّے کی حالت میں کوئی جوابی عمل کرنے لگیں تو وہاں پر صبر کا مظاہر کریں اور ایک وقفہ دیں اور سوچیں کہ آپ کونسا عمل انجام دینے جا رہے ہیں ۔ گہرے سانس لیں اور دس تک گنتی گنیں ۔  اگر عکس العمل کو تھوڑا کند کر دیں تو یہ آپ کے غصے کو کنٹرول کرنے میں نہایت احسن طریقے سے معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔ اگر لازم ہو تو تھوڑی دیر کے لئے مطلوبہ فرد یا اس موقع سے دور چلے جائیں تاکہ غصّے میں تھوڑی کمی آئے ۔
2۔ جب آپ سکون کی حالت میں چلے جائیں ، اپنے غصے کو ظاہر کریں اور اپنے اعتراضات کو بیان کریں ۔ یہ سب کچھ بیان کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے اس عمل سے کسی دوسرے کی دل آزاری نہ ہو ۔
3۔ ورزش کریں : اگر آپ فیزیکل طور پر خود کو فعال رکھیں گے تو آپ کے احساسات میں بہتری آئے گی اور غصّے کے آثار آہستہ آہستہ کم ہو جائیں گے ۔ اگر آپ کو یہ احساس ہو رہا ہو کہ آپ شدید غصے کی حالت میں ہیں تب پیدل چلنا شروع کر دیں ۔ ورزش سے آپ کے جسم میں خارج ہونے والے مادے آپ کے دماغ میں آرام بخش احساس پیدا کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔
4۔ زبان سے کوئی لفظ نکالنے سے پہلے اس پر غور کریں ۔ عموما غصے کی حالت میں انسان زبان سے جو بہت کچھ کہہ جاتا ہے اس پر بعد میں انسان کو پشیمانی ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے کہ کوئی بات منہ سے نکالیں کچھ دیر کے لئے صبر کریں اور سوچنے کے لئے خود کو وقت دیں اور دوسروں کو بھی موقع فراہم کریں کہ وہ اس عمل کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔
5۔ ممکنہ راستوں پر غور کریں ۔ اس بات پر غور نہ کریں کہ کس بات نے آپ کو غصہ دلایا ہے بلکہ اس بات پر غور کریں کہ کونسا راستہ اختیار کریں کہ آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے ۔ کیا آپ کو آپ کے بیٹے کے نامرتب کمرے نے غصہ دلایا ہے؟ اسے فوری طور پر بند کر دیں ۔ کیا آپ کا شوہر ہر روز دیر سے ڈنر پر گھر پہنچتا ہے ؟ رات کے کھانے کا ٹائم ٹیبل تبدیل کر دیں یا اس بات پر راضی ہو جائیں کہ چند روز آپ اکیلی رات کا کھانا کھا لیں گی ۔ اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ غصّہ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور ممکن ہے کہ تمام کی تمام چیزوں کو بدتر کر دے ۔
6۔ کسی کو قصور وار ٹھہرانے سے بہتر ہے کہ ساری ذمہ داری کو بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کریں ۔ بات کرتے ہوئے دوسرے کو احترام دیں اور بڑے ادب کے ساتھ دوسرے سے بات کریں ۔ اس طرح سے نہ بولیں کہ تو نے مجھے گھر کے کاموں میں کبھی بھی مدد نہیں دی ہے بلکہ اس طرح سے بات کریں کہ میں دکھی ہوں کہ بجائے اس کے کہ آپ مجھے برتن جمع کرنے میں مدد دیں آپ میز سے اٹھ کر چلے گئے ہیں ۔
7۔ دل میں کسی کے لئے بغض نہ رکھیں ۔ کسی کو بخش دینا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے ۔ اگر آپ اس بات کی اجازت دیں تو آپ کے اندر پائے جانے والے مثبت احساسات آپ کے منفی اثرات کو ختم کر دیں گے ۔ اگر کسی نے آپ کی دل آزاری کی ہو تو اسے بخش دیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ بھی اس سے سبق حاصل کرے ۔ اس بات کی بھی توقع مت کریں کہ جس طرح سے آپ دوسروں سے پیش آ رہے ہیں دوسرے بھی اسی طرح آپ سے پیش آئیں ۔
8۔ منفی طور پر وجود میں آنے والے ذہنی دباؤ کو ختم کرنے کے لئےہنسی مذاق کریں لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ مذاق کے دوران کسی کا تمسخر مت اڑائیں کیونکہ اس سے کسی کی دل آزاری ہو سکتی ہے ۔
تحریر: عروج فاطمہ
ترجمہ : امیر رضا آفتابی

Login to post comments