×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

خمس کے متعلق دلیلوں کا جواب

مرداد 01, 1393 463

اہل سنت کے مذکورہ استدلال کے جواب میں علمائے شیعہ کہتے ہیں : بسا اوقات غنائم جنگی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے یا غنائم جنگی میں

بے حد نفیس و قیمتی زر و جواہرات ہوتے ہیں جیسے صدر اسلام کی جنگوں کے غنائم یا جنگ ایران کے غنائم کہ جسے ایک انسان تنہا خرچ بھی نھیں کر سکتا ۔
اب اگر ان غنائم جنگی کی تقسیم کے دوران ، سھم خدا کو یہ کہہ کر نہ نکالاجائے کہ خدا کو اس کی ضرورت نہیںہے تو چونکہ پیغمبر اکرم کی زندگی نہایت سادہ اور معمولی زندگی ہے اور سارے غنائم کا پچیسواں حصہ ایک عظیم سرمایہ ہے جوآپ کی سادہ زندگی کی ضرورت سے بہت زیادہ ہے ، آپ کی جیسی سادہ و معمولی زندگی کی ضرورت کو مہیا کرنے کے لئے مال غنیمت میں ہاتھ آئے قیمتی زر و جواھرات کی یقینا ضرورت نھیں ہے لہٰذا خدا کی طرح رسول کو بھی مال غنیمت کی ضرورت نھیں ہے اور جب رسول کو ضرورت نہیں ہے تو سھم خدا کی طرح سھم پیغمبر کو بھی ختم کر دینا چاھئے ۔ پیغمبر ہی کی طرح ذو القربیٰ کی زندگی بھی نہایت سادہ و معمولی ہے لہٰذا انھیں بھی خمس کی ضرورت نھیں ہے ۔
مختصر یہ کہ اگر سھم نہ بننے کا معیار بے نیازی ہے تو سھم خدا کے ساتھ سھم پیغمبر اور سھم ذو القربیٰ کو بھی ختم ہونا چاہئے کیونکہ وہ بھی خمس کے محتاج نہیں ہیں ۔ اور اگر پیغمبر اکرم اور ذو القربیٰ کے بے نیاز ھونے کے باوجود انکا سھم بن سکتا ہےتو خدا وند متعال کا حصہ ( سھم ) بھی خمس میں ھونا چاھئے ۔
حقیقت امر یہ ہے کہ صرف خدا کا ہی نہیں بلکہ پیغمبر و ذو القربیٰ کا ذکر بھی صرف انکی عظمت کو اجاگر کرنے اور انکی منزلت کا اعلان کرنے کے لئے ہے اور خمس کے یہ تین سھام ، زمان پیغمبر میں پیغمبر کے اختیار میں، زمان امام میں امام کے اختیار میں اور نائب امام کے زمانے میں نائب امام کے اختیار میں ھوتا ہے جسے وہ اپنے ذاتی کاموں میں خرچ کرنے کے بجائے اسلام و مسلمین کے اصلاحی و ارتقائی امور میں خرچ کرتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ نھیں ہے کہ پیغمبر کو اپنے ذاتی امور میں سرف کرنے کا حق نھیں ہے بلکہ انھیں اسکی ضرورت نھیں ہوتی ۔
علاوہ برایں ، پیغمبر اکرم کو اگر مال دنیا کی ضرورت ہے تو صرف اس دنیا میں ہے ، بعد از وفات آپ کو ہرگز اسکی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں آپ کے حصّے کا خمس کیا ہو گا اور کسے دیا جائے گا؟
بعض علمائے اہل سنت کہتے ہیں کہ زمانہ وفات میں سہم پیغمبر بھی سہم خدا کی طرح ساقط ہو جانا چاہئے اور خمس بقیہ چارگروہوں میں تقسیم ہونا چاہئے ۔ یہ راہ حل آیت شریفہ کے اطلاق کے منافی ہے ، آیت میں موت یا حیات کی قید و شرط کا ذکر نہیں ہے ۔
بعض دیگر کہتے ہیں کہ بعد وفات بہی سہم رسول باقی ہے اور اسے خلیفہ وقت تک پہونچنا چاہئے ۔ یہ راہ حل خود انہیں کے بنائے ہوئے معیار پر پورا نہیں اترتا، کیونکہ بعد از وفات یقینا رسول کسی چیز کے محتاج نہیں ہیں ۔
اور اگر بعد از وفات ، رسول کے محتاج و ضرورت مند نہ ہونے کے باوجود آپ کا سہم باقی ہے تو پھر آپ سہم خدا کے منکر کیوں ہیں؟ اور اگر بے نیاز ہونے کے سبب سہم خدا ساقط ہو جاتا ہے تو سہم پیغمبر بہی کم از کم زمانہ وفات میں ساقط ہو جانا چاہئے ۔
اس مختصر بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مذہب شیعہ کا نظریہ بر حق و قرآن مجید کے مطابق ہے جبکہ اہل سنت کا قول کتاب خدا کے صریح احکام کے خلاف ہے ، مزیدیہ کہ ان کا ایجاد کردہ معیار بھی ثابت نہیں ہے ۔
سورہ انفال کی پہلی آیت یہ ہے :”‌ یسئلونک عن الانفال ، قل الانفال للّہ و الرسول “ (7)”‌ پیغمبر ! یہ لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ انفال سب اللہ اور رسول کے لئے ہیں ۔
انفا ل کیا ہے ؟ اہل سنت کہتے ہیں کہ انفال سے مراد جنگی غنائم ہیں اور آیہ انفال جنگی سے مربوط ہے ۔تعجب اس پر ہے کہ بعض حضرات نے قرآن کے فارسی ترجمہ میں سورہ انفال کا نام سورہ غنائم ( یا جنگی غنائم ) رکھا ہے جبکہ یہ غلط ہے ۔ ہمارے ائمہ علیہم السلام نے فرمایا ہے کہ انفال صرف جنگی غنائم سے مخصوص نہیں بلکہ انفال ہر اس سرمایہ کو کہتے ہیں جو بغیر زحمت اور کام کے ، مفت ہاتھ لگ جائے جیسے وہ چیزیں جو خود بخود پیدا ہوئی ہیں مثلا جنگل اور پہاڑوں کے دامن میں زرخیز زمین وغیرہ ۔یہ سب اللہ اور رسول کا مال ہے اور رسول اور امام علیہ السلامہر ایک اپنے دور میں حاکم مسلمین ہونے کی حیثیت سے راہ خدامیں جہاں مصلحت سمجھیں خرچ کرتے ہیںاور انہیں انفال میں ایک جنگی غنائم ہیں۔ لہذا آیت میں جنگی غنائم کو انفال کا جزء قرار دیا گیا ہے ۔ اور آیہ خمس میں خدا وند عالم نے پیغمبر کو یہ اذن دیا ہے کہ اس عمومی مال کا چار حصہ فوجیوں میں تقسیم کریں ۔جو در حقیقت فوجیوں کا مال نہیں ہے اور فوجیوں کو یہ حق بہی نہیں ہے کہ وہ یہ کہیں کہ جنگ ہم نے کی ہے لہذا یہ ہمارا مال ہے ۔ اسی لئے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے غنیمت کے لئے جنگ لڑی ہے تو تمہارا جہاد سرے سے باطل ہے اور اگر خدا کے لئے جنگ کی ہے تو خدا چاہے گا تو تمہیں کچھ عطا کر دے گا ۔ شیعوں کی نگاہ میں جنگی غنائم انفال کا حصہ ہیں اور یہیں سے ہمیں ایک دوسرے قانون کا سراغ ملتا ہے کہ جو چیزیں پہاڑوں کی چوٹیوں اور گھاٹیوں میں ملتی ہیں ۔وہ بھی انفال کا حصہ ہیں ، اور اس پر خدا اور رسول کا اختیارہے یعنی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے ۔

Last modified on پنج شنبه, 02 مرداد 1393 10:48
Login to post comments