×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اللہ کی صفات سلبیہ

مرداد 02, 1393 558

ہم اپنی عقل کے مطابق اللہ کے اوصاف کو سمجھتے ہیں لیکن صرف اس لئے کہ اللہ کی نسبت یہ مفاہیم، حقیقی اور ہماری فہم سے برتر، معانی

کے حامل ہوں، صفات سلبیہ سے استفادہ کرتے ہیں اور یوں اوصاف الٰہیہ کی نسبت اپنی قلّت فہم کا ازالہ کرتے ہیں؛ ہم بیک وقت کہتے ہیں کہ "خداوند عالم، قادر اور حىّ ۔۔۔ ہے"، یہ بھی کہتے ہیں کہ "خداوند وصف میں نہیں آتا اور اس سے کہیں زیادہ عظیم ہے کہ اوصاف کی چار دیواریوں میں محصور ہوجائے، اور یہ ہمیں حقیقت امر سے قریب تر کردیتا ہے۔ (1)
چنانچہ ہمارا عقیدہ ہے کہ: یہ مفاہیم ان ہی مفاہیم میں سے ہیں جن کو ہم سمجھتے ہیں۔۔۔ جب کہا جاتا ہے کہ "زید جان گیا" اور "خدا جان گیا"، ہم دونوں سے ایک ہی چیز سمجھتے ہیں اور وہ یہ کہ عالم معلوم کو جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ "زید" کا علم صرف اس صورت (یا تصویر) کے توسط سے حاصل ہوتا ہے جو اس کے ذہن میں ہے اور یہ صورت اللہ کےلئے ممتنع ہے؛ کیونکہ وہاں کوئی ذہن نہیں ہے؛ تا ہم یہ خصوصیت علم کے مصداق سے تعلق رکھتی ہے اور مفہوم میں کسی تبدیلی کا سبب نہیں بنتی۔ پس مفہوم ایک ہی مفہوم ہے اور مصداقی خصوصیات مفہوم میں عمل دخل نہیں رکھتیں۔ چنانچہ صفات خداوندی بیان کرنے کا عمومی ضابطہ یہ ہے کہ ان کے مفاہیم کو مصداقی خصوصیات سے خالی کریں؛ بالفاظ دیگر صفات سلبیہ کو بروئے کار لاکر ان مفاہیم کو دیگر عدمی پہلووں اور نقائص سے خالی کریں۔ (2)
چنانچہ ہم خدا کی صفات سے ان ہی معانی کو سمجھتے ہیں جو ہم انسان کی صفات سے سمجھتے ہیں۔ اور جس طرح کہ عقل، انسان کے بارے میں ان صفات کا ادراک کرسکتی ہے خداوند متعال کی صفات کے بارے میں اسی قسم کے ادراک پر قدرت رکھتی ہے تاہم انسان اور خدا کے درمیان مصداق کا اختلاف ہے اسی وجہ سے صفات الہیہ میں نقص کا شائبہ وجود میں آتا ہے چنانچہ صفات سلبیہ سے کام لےکر یہ شائبہ ختم ہوجاتا ہے۔ یوں ہم ایجابی اور سلبی صفات کی مدد سے نہ صرف مفہوم میں کوئی تبدیلی نہیں لاتے بلکہ اس (مفہوم) کو حقیقی مصداق کی طرف لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں: "اللہ موجود ہے لیکن اس کا وجود مخلوقات جیسا نہیں ہے؛ اللہ صاحب علم ہے لیکن علمِ موجودات کی طرح نہیں؛ اللہ صاحب قدرت ہے لیکن مخلوقات کی قدرت کی مانند نہیں ہے؛ اللہ صاحب حیات ہے لیکن اس کی حیات مخلوقات کی حیات کی مانند نہیں ہے۔ (3)
حوالے جات:
1۔ المیزان، ج 8، ص 57 و ج 6، ص 102۔ 100 مجموعه رسائل، صص 224۔ 226 ؛و اصول فلسفه و روش رئالیسم، ج 5، ص 125 و.... .
2۔ علامہ طباطبایى ، رسائل توحیدى، ترجمه و تحقیق على شیروانى، ص 54 و 55.
3۔ اصول فلسفه و روش رئالیسم، ج 5، صص 105۔ 110.
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments