×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام جعفر صادق علیہ السلام کا امامت پر ایک عظیم خطبہ

مرداد 03, 1393 549

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں آئمہ علیہم السلام کاحال اور ان کی صفات کو بیان کیا ہے۔ اپ فرماتے ہیں: اللہ تعال نے

ہمارے اہلبیت پیغمبر کے لیے آئمہ ہدایت کے ذریعہ سے اپنے دین کو واضح کیا اور ان کی راہوں کو ان کے وجود سے روشن کیا اور اپنے علم کے چشموں کو ان کے لیے کھولا۔ پس امت محمد میں سے جس نے ان کو پہچانا اور ان کے حق امامت کو قبول کیا اس نے ایمان کا ذائقہ چکھا اور اسلام کی فضیلت کو جانا کیوںکہ اللہ تعالی نے امام کو مقرر کیا ہے ایک نشان اپنی مخلوق کے لیے اور حجت قرار دیا اھل اطاعت کے لیے اور تمام عوام کے لیے اور پہنایا اس کو تاج وقار اور ڈھانپ لیا اس کو ایسے نور سے جو نگاہ رکھنے والا ہے آسمان و زمین کا اور زیادہ ہوتا اس کا علم اس وسیلہ سے جو آسماں تک کھنیچا ہوا ہے تاکہ وحی الہی کا سلسلہ منقطع نہ ہو اور جو احکام من اللہ ہیں وہ نہیں حاصل ہوتے ہیں مگر بوسیلہ امام اور خدا اپنےبندوں کے اعمال کو قبول نہیں کرتا جب تک معرفت امام نہ ہو۔ وہ دفع کرنے والے ہے شکوک کی تاریکیوں اور فتنوں کے شبہات کو اور کھولنے والاہےسنت کی گتھیوں کو۔ اللہ نے اپنی مخلوق کی ھدایت کے لیے اولاد حسین سے انتخاب کیا اور ایک کے بعد دوسرے کو اصطفا اور اجتبا کیا اور راضی ہوا ان سے اپنی مخلوق کی ھدایت پر اور ان کو ان کے لیے چن لیا۔ جب ان میں سے کوئی امام دنیا سے گیا تو اس کے بعد ہی دوسرا امام معین کیا جو اس کی وحدانیت کا روشن نشان اور روشنی پھیلانے والا ہادی اور دین کو طاقت بخشنے والا امام تھا اور عالم حجت اللہ تھا جو آئمہ خدا کی طرف سے امام ہیں وہ حق کی طرف ہدایت کرتے ہیں اور معاملات میں عدل اور انصاف سے کام لیتے ہین وہ اللہ کی حجتیں ہیں اور اس کی مخلوق پر اس کی طرف سے نگہبان ہیں وہ اللہ کے بندوں کےلیے باعث ہدایت ہیں انکے نور سے شہروں میں روشنی ہے اور لوگوں کی اولاد انکی برکت سے نمو حاصل کرتی ہے۔ اللہ نے ان کو لوگوں کے لیے زندگی قرار دیا ہے وہ اندھیروں کی روشنیاں ہیں وہ کلام الہی کی کنجیاں ہیں وہ اسلام کے ستون ہیں ان کےلیے اللہ کا ارادہ انکے متعلق جاری ہوا ہے۔ امام خدا کا منتخب و پسندیدہ ہوتا ہے برگزیدہ اور مقبولِ خدا اور رسول (ص) ہے اور ایسا ہادی ہے جو محلِ اسرارِ الٰہیہ ہے اور قائم رہنے والی امیدگاہ ہے خدا کا منتخب بندہ ہے ان صفات کے ساتھ اور کمالِ نظر التفات سے خدا نے اس کو اپنے لئے بنایا جبکہ عالمِ ذر میں اس کو پیدا کیا اور خلق کے پیدا کرنے سے پہلے ان کو پیدا کیا اپنے عرش کے داہنی طرف اور ان کو اپنی حکمت کی نعمت عطا فرمائی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے غیب کے علم میں امام کا انتخاب کیا اور اس کو طہارت سے مخصوص کیا وہ بقیہ اولادِ آدم اور ذُریتِ نوح سے ہے اور آل ابراھیم کا بر گزیدہ ہے اور آل اسماعیل کا خلاصہ ہے اور محمد کا جگر پارہ ہے ھمیشہ اللہ کی آنکھ اس کی حفاطت کرتی ہے { تاکہ اس کی عصمت برقرار ہے } اور اپنے پردہ میں اس کی نگہبانی کرتا ہے اور شیطان اور اس کے لشکر کے جال سے اس کو دور رکھتی ہے اور شبہات کی تاریکیوں سے بچاتا ہے ہر فاسق کی سر کشی سے محفوظ رکھتا ہے اور ہر برائی کے ارتکاب سے دور رکھتا ہے مصیبوتوں سے دور رکھتا ہے آفات سے بچاتا ہے لغزشوں سے حفاظت کرتا ہے فواحش سے محفوظ رکھتا ہے اول عمر سے حلم اور نیکی سے متصف ھوتا ہے اور آخرعمر تک عفت علم اور فضل سے تعلق رکھتا ہے اپنے باپ کے امر پر قائم رہتاہے اور باپ کی زندگی میں گویائی سے خاموش رہتا ہے جب اس کے باپ کی مدت حیات ختم ھوتی ہے اور اس کی امانت کا زمانہ آتا ہے اور ارادہ الہی اس کے حجت قرار دینے سے متعلق ھوتا ہے اور اس کے باپ کی مدت حیات انتہا کو پہنج جاتی ہے تو اس کے بعد امر الہی اس سے متعلق ہوتا ہے اور دین کے معاملات میں اس س رجوع کیاجاتا ہے اللہ اسکو اپنے بندوں پر حجت قرار دیتا ہے اور اپنے شہروں میں اس سے اپنے دین کو قائم کیا اور اپنی روح سے اسکی تائید کی اور اپنا علم اسکو عطا کیا اور حق و باطل میں فیصل کرنے والے بیان سے اگاہ کیا اور اپنا راز اس کے سپرد کیا اس اسکو امر عظیم انجام دینے کے لیے بلایا اور اس بیان کی فضیلت سے اس کو آگاہ کیا اور اپنی مخلوق کےلیے اس کو اپنا نشان قرار دیا اور اہل علم پر اس کو حجت قرار دیا اور اہل دین کے لیے اس روشنی بنایا اور اپنے بندوں پر اسکو رکن مستحکم قرار دیا اور اللہ نے لوگوں کے لیے اسکا امام ہونا پسند کیا اپنا راز اس کے سپرد کیا اور اپنے علم کا اسے محافظ بنایا اور اپنی حکمت کو اس کے اندر پوشیدہ رکھا اور نگاہ رکھا اور اس کو اپنے دین کے لیے بلایا اس کو امر عظیم کے لیے اور اپنے دین کے طریقوں کو اس سے زندہ کیا اپنے فرائض و حدود کو اس سے باقی رکھا پس امام نے عدل سے اس وقت کام لیا جب صاحبان جہالت حیرت میں تھے اور جھگڑا کرنے والے لوگ حیران تھے یہ ھدایت ایک چمکدار نورسے کی اور یہ بیان امراض قلبی کو شفا دینے والا ہے اور حق واضح اور بیان روشن ہے اور ہدایت اسی نہج پر تھی اور طریقہ ان کے آباء طاہرین و صادقین کا ہے پس ایسے عالم کے حق سے جاہل نہ ہوگا مگر شقی اور نہ انکار کرے گا مگر گمرا اور نہ روگردانی کریگا اسے مگر اللہ پر جرات کرنے والا . (الكافی، ج1، ص203)  (ختم شد)

Login to post comments