×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام جعفر صادق علیه السلام کی چالیس حدیثیں

مرداد 03, 1393 644

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میری حدیث میرے والد کی حدیث ہے اور میرے والد کی حدیث میرے دادا کی حدیث ہے اور میرے دادا کی

حدیث امام حسین علیہ السلام کی حدیث ہے اور امام حسین علیہ السلام کی حدیث امام حسن علیہ السلام کی حدیث ہے اور امام حسن علیہ السلام کی حدیث امیرالمومنین علیہ السلام کی حدیث ہے اور امیر۔منین علیہ السلام کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و لہ و سلم کی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و لہ وسلم کی حدیث قول اللہ عز و جلّ ہے۔
بسم الله الرحمن الرحیم
1. قالَ الامامُ جَعْفَرُ بنُ محمّد الصّادقُ علیه السلام: حَدیثی حَدیثُ ابى وَ حَدیثُ ابى حَدیثُ جَدى وَ حَدیثُ جَدّى حَدیثُ الْحُسَیْنِ وَ حَدیثُ الْحُسَیْنِ حَدیثُ الْحَسَنِ وَ حَدیثُ الْحَسَنِ حَدیثُ امیرِالْمُوْمِنینَ وَ حَدیثُ امیرَ الْمُوْمِنینَ حَدیثُ رَسُولِ اللّهِ صلّى اللّه علیه و اله و سلّم وَ حَدیثُ رَسُولِ اللّهِ قَوْلُ اللّهِ عَزَّ وَ جَلَّ(1)
ترجمہ: میری حدیث میرے والد کی حدیث ہے اور میرے والد کی حدیث میرے دادا کی حدیث ہے اور میرے دادا کی حدیث امام حسین علیہ السلام کی حدیث ہے اور امام حسین علیہ السلام کی حدیث امام حسن علیہ السلام کی حدیث ہے اور امام حسن علیہ السلام کی حدیث امیرالمومنین علیہ السلام کی حدیث ہے اور امیرالمومنین علیہ السلام کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و لہ و سلم کی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و لہ وسلم کی حدیث قول اللہ عز و جلّ ہے۔
2. قالَ علیه السلام: مَنْ حَفِظَ مِنْ شیعَتِنا ارْبَعینَ حَدیثا بَعَثَهُ اللّهُ یَوْمَ الْقیامَةِ عالِما فَقیها وَلَمْ یُعَذِّبْهُ.(2)
ترجمہ: ہمارے شیعیان میں سے جو کوئی چالیس حدیثیں حفظ کرے خداوند متعال قیامت کے روز اس کو عالم اور فقیہ مبعوث فرمائے گااور اس کو عذاب میں مبتلانہیں کرے گا.
3. قالَ علیه السلام: قَضاءُ حاجَةِ الْمُوْمِنِ افْضَلُ مِنْ الْفِ حَجَّةٍ مُتَقَبَّلةٍ بِمَناسِكِها وَ عِتْقِ الْفِ رَقَبَةٍ لِوَجْهِ اللّهِ وَ حِمْلانِ الْفِ فَرَسٍ فى سَبیلِ اللّهِ بِسَرْجِها وَ لَحْمِها.(3)
ترجمہ: مومن کے حوائج اور ضروریات برلانا ایک ہزار مقبول حجوں، اور ہزار غلاموں کی ازادی اور ایک ہزار گھوڑے راہ خدامیں روانہ کرنے سے برتر و بالاتر ہے۔
4. قالَ علیه السلام: اوَّلُ مایُحاسَبُ بِهِ الْعَبْدُالصَّلاةُ، فَانْ قُبِلَتْ قُبِلَ سائِرُ عَمَلِهِ وَ اذارُدَّتْ، رُدَّ عَلَیْهِ سائِرُ عَمَلِهِ.(4) ترجمہ: خدا کی بارگاہ میں سب سے پہلے نماز کا احتساب ہوگا پس اگر انسان کی نماز قبول ہو اس کے دیگر اعمال بھی قبول ہونگے اور اگر نماز رد ہو جائے تو دیگر اعمال بھی رد ہونگے۔
حوالہ جات:
1۔ جامع الاحادیث الشیعه : ج 1 ص 127 ح 102، بحارالا نوار: ج 2، ص 178، ح 28.
2۔ اءمالى الصدوق : ص 253.
3۔ أمالی الصدوق : ص 197.
4۔ وسائل الشیعه : ج 4 ص 34 ح 4442.
5. قالَ علیه السلام: اذا فَشَتْ ارْبَعَةٌ ظَهَرَتْ ارْبَعَةٌ: اذا فَشاالزِّناكَثُرَتِ الزَّلازِلُ وَ اذاامْسِكَتِ الزَّكاةُ هَلَكَتِ الْماشِیَةُ وَ اذاجارَ الْحُكّامُ فِى الْقَضاءِ امْسِكَ الْمَطَرُ مِنَ السَّماءِ وَ اذا ظَفَرَتِ الذِّمَةُ نُصِرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى الْمُسْلِمینَ.(5)
ترجمہ: جس معاشرے میں چار چیزیں عام اور اعلانیہ ہوجائیں چار مصیبتیں اور بلائیں اس معاشرے کو گھیر لیتی ہیں:
زنا عام ہوجائے، زلزلہ اور ناگہانی موت فراوان ہوگی.
زکواة اور خمس دینے سے امتناع کیاجائے، اہلی حیوانات تلف ہونگے.
حکام اور قضات ستم اور بے انصافی کی راہ اپنائیں، خدا کی رحمت کی بارشیں برسنا بند ہونگی.
اور ذمی کفار کو تقویت ملے تو مشرکین مسلمانوں پر غلبہ پائیں گے.
6. قالَ علیه السلام: مَنْ عابَ اخاهُ بِعَیْبٍ فَهُوَ مِنْ اهْلِ النّارِ.(6)
ترجمہ: جو شخص اپنے برادر مومن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا.
7. قالَ علیه السلام: الصَّمْتُ كَنْزٌ وافِرٌ وَ زَیْنُ الْحِلْمِ وَ سَتْرُالْجاهِلِ.(7)
ترجمہ:خاموشی ایک بیش بہاء خزانے کی مانند حلم اور بردباری کی زینت اور نادان شخص کے جہل و نادانی چھپانے کاوسیلہ ہے.
8. قالَ علیه السلام: إصْحَبْ مَنْ تَتَزَیَّنُ بِهِ وَ لاتَصْحَبْ مَنْ یَتَزَّیَنُ لَكَ.(8)
ترجمہ:ایسے شخص کے ساتھ دوستی اور مصاحبت کرو جو تمہاری عزت اور سربلندی کا باعث ہو اور ایسے شخص سے دوستی اور مصاحبت نہ کرو جو اپنے اپ کو تمہارے لئے نیک ظاہر کرتاہے اور تم سے استفادہ کرنا چاہتا ہے.
9. قالَ علیه السلام: كَمالُ الْمُوْمِنِ فى ثَلاثِ خِصالٍ: الْفِقْهُ فى دینِهِ وَ الصَّبْرُ عَلَى النّائِبَةِ وَالتَّقْدیرُ فِى الْمَعیشَةِ.(9)
ترجمہ: مومن کا کمال تین خصلتوں میں ہے: دین کے مسائل و احکام سے اگاہی، سختیوں اور مشکلات میں صبر و بردباری، اور زندگی کے معاملات میں منصوبہ بندی اور حساب و کتاب کی پابندی.
10. قالَ علیه السلام: عَلَیْكُمْ بِاتْیانِ الْمَساجِدِ، فَانَّها بُیُوتُ اللّهِ فِى الارْضِ، و مَنْ اتاها مُتَطِّهِراً طَهَّرَهُ اللّهُ مِنْ ذُنُوبِهِ وَ كَتَبَه مِنْ زُوّارِهِ.(10)
ترجمہ: تمہیں مساجد میں جانے کی سفارش کرتا ہوں کیوں مساجد روئے زمین پر خدا کے گھر ہیں اور جو شخص پاک و طاہر ہوکر مسجد میں وارد ہوگا خداوند متعال اس کو گناہوں سے پاک کردے گا اور اس کو اپنے زائرین کے زمرے میں قرار دے گا.
11. قالَ علیه السلام: مَن قالَ بَعْدَ صَلوةِالصُّبْحِ قَبْلَ انْ یَتَكَلَّمَ: ((بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ وَ لاحَوْلَ وَ لا قُوَّةَ الا بِاللّهِ الْعَلىٍّّ الْعَظیمِ یُعیدُهاسَبْعَ مَرّاتٍ، دَفَعَ اللّهُ عَنْهُ سَبْعینَ نَوْعاً مِنْ انْواعِ الْبَلاءِ، اهْوَنُهَا الْجُذامُ وَ الْبَرَصُ.(11)
ترجمہ: جو شخص نماز فجر کے بعد کوئی بھی بات کئے بغیر 7 مرتبه «بسم اللّه الرّحمن الرّحیم، لاحول و لاقوّة الاباللّه العلیّ العظیم » کی تلاوت کرے گا خداوند متعال ستر قسم کی آفتیں اور بلائیں اس سے دور فرمائے گا جن میں سب سے ساده اور کمترین آفت برص اور جذام ہے.
12. قالَ علیه السلام: مَنْ تَوَضَّأ وَ تَمَنْدَلَ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ وَ مَنْ تَوَضَّأ وَ لَمْ یَتَمَنْدَلْ حَتّى یَجُفَّ وُضُوئُهُ، كُتِبَ لَهُ ثَلاثُونَ حَسَنَةً.(12)
ترجمہ: جو شخص وضو کرے اور اسے تولئے کے ذریعے خشک کردے اس کے لئے صرف ایک حسنه ہے اور اگر خشک نه کرے اس کے لئے 30 حسنات ہونگے ۔
حوالہ جات:
5۔ وسائل الشیعة : ج 8 ص 13.
6۔ اختصاص : ص 240، بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58.
7۔ مستدرك الوسائل : ج 9 ص 16 ح 4.
8۔ وسائل الشیعه : ج 11 ص 412.
9۔ أمالی طوسى : ج 2 ص 279.
10۔ وسائل الشیعة : ج 1 ص 380 ح 2.
11۔ امالى طوسى : ج 2 ص 343.
12۔ وسائل الشیعة : ج 1 ص 474 ح 5.
13. قالَ علیه السلام: لَاِفْطارُكَ فى مَنْزِلِ اخیكَ افْضَلُ مِنْ صِیامِكَ سَبْعینَ ضِعْفا.(13)
ترجمہ: اگر روزے کاافطار اپنے مومن کے منزل میں کروگے اس کاثواب روزے کے ثواب سے ستر گنازیاده ہوگا.
14. قالَ علیه السلام: اذا افْطَرَ الرَّجُلُ عَلَى الْماءِ الْفاتِرِ نَقى كَبِدُهُ وَ غَسَلَ الذُّنُوبَ مِنَ الْقَلْبِ وَ قَوىَّ الْبَصَرَ وَالْحَدَقَ.(14)
ترجمہ: اگر انسان ابلے ہوئے پانی سے افطار کرے اس کاجگر پاک او سالم رہے گااور اس کاقلب کدورتوں سے پاک هوگا اور اس کی آنکھوں کا نور بڑھے گا اور انکھیں روشن ہونگی.
15. قالَ علیه السلام: مَنْ قَرَءَ الْقُرْانَ فِى الْمُصْحَفِ مُتِّعَ بِبَصَرِهِ وَ خُنِّفَ عَلى والِدَیْهِ وَ انْ كانا كافِرَیْنِ.(15)
ترجمہ: جو شخص قران مجید کو سامنے رکھ کر اس کی تلاوت کرے گا اس کی انکھوں کی روشنی میں اضافہ ہوگا؛ نیز اس کے والدین کے گناہوں کابوجھ ہلکا ہوگا خواه وه کافر ہی کیوں نہ ہوں.
16. قالَ علیه السلام: مَنْ قَرَءَ قُلْ هُوَاللّهُ احَدٌ مَرَّةً واحِدَةً فَكَانَّما قَرَءَ ثُلْثَ الْقُرانِ وَ ثُلْثَ التُّوراةِ وَ ثُلْثَ الانْجیلِ وَ ثُلْثَ الزَّبُورِ.(16)
ترجمہ: جو شخص ایک مرتبہ سورہ توحید (قل هو الله احد ... کی تلاوت کرے وه اس شخص کی مانند ہے جس نے ایک تہائی قران اور تورات اور انجیل کی تلاوت کی ہو.
17. قالَ علیه السلام: انَّ لِكُلِّ ثَمَرَةٍ سَمّا، فَاذا أَتَیْتُمْ بِها فامسُّوهَ الْماء وَاغْمِسُوهافِى الْماءِ.(17)
ترجمہ: ہر قسم کاپهل اپنے خاص قسم کے زہر اور جراثیموں سے الوده ہے ہر وقت پهل کهاناچاہو پہلے پانی مین بهگو کر دہو لو.
18. قالَ علیه السلام: عَلَیْكُمْ بِالشَّلْجَمِ، فَكُلُوهُ وَادیمُوااكْلَهُ وَاكْتُمُوهُ الاعَنْ اهْلِهِ، فَمامِنْ احَدٍ الاوَ بِهِ عِرْقٌ مِنَ الْجُذامِ، فَاذیبُوهُ بِاكْلِهِ.(18)
ترجمہ:  شلجم کو اہمیّت دو اور مسلسل کهاتے رہو اور اہل انسانوں کے سوادوسروں سے چهپائے رکھو؛ اور ہر شخص میں جذام کی رگ موجود ہے پس شلجم کهاکر اس کاخاتمہ کردو.
19. قالَ علیه السلام: یُسْتَجابُ الدُّعاءُ فى ارْبَعَةِ مَواطِنَ: فِى الْوِتْرِ وَ بَعْدَ الْفَجْرِ وَ بَعْدَالظُّهْرِ وَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ.(19)
ترجمہ: چار اوقات میں دعامستجاب ہوتی ہے: نماز وتر کے وقت (تہجد میں، نماز فجر کے بعد، نماز ظہر کے بعد، نماز مغرب کے بعد.
20. قالَ علیه السلام: مَنْ دَعالِعَشْرَةٍ مِنْ اخْوانِهِ الْمَوْتى لَیْلَةَ الْجُمُعَةِ اوْجَبَ اللّهُ لَهُ الْجَنَّةَ.(20)
ترجمہ: جو شخص شب جمعہ دنیاسے رخصت ہونے والے 10 مۆمن بهائیوں کے لئے مغفرت کی دعاکرے خداوند متعال اس کو اہل بہشت میں سے قرار دے گا.
21. قالَ علیه السلام: مِشْطُ الرَّاسِ یَذْهَبُ بِالْوَباءِ وَ مِشْطُ اللِّحْیَةِ یُشَدِّدُ الاضْراسَ.(21)
ترجمہ: سر کے بالوں کو کنگهی کرناوباکی نابودی کاسبب ہے، بالوں کو گرنے سے بچاتاہے اور داڑھی کو کنگھی کرنے سے دانتوں کی جڑیں مضبوط ہوجاتی ہیں.
22. قالَ علیه السلام ایُّمامُوْمِنٍ سَئَلَ اخاهُ الْمُوْمِنَ حاجَةً وَ هُوَ یَقْدِرُ عَلى قَض ائِهافَرَدَّهُ عَنْها، سَلَّطَ اللّهُ عَلَیْهِ شُجاعافى قَبْرِهِ، یَنْهَشُ مِنْ اصابِعِهِ.(22)
ترجمہ: اگر کوئی مومن اپنے مومن بهائی سے حاجت طلب کرے اور وه حاجب براری کی توانائی رکھنے کے باوجود منع کرے، خداوند متعال قبر میں اس پر ایک افعی (بالشتیاسانپ مسلط فرمائے گاجو اس کو هر وقت ازار پهنچاتارہے گا)۔
حوالہ جات:
13۔ من لایَحضره الفقیه : ج 2 ص 51 ح 13.
14۔ وسائل الشیعه : ج 10 ص 157 ح 3.
15۔ وسائل الشیعه : ج 6 ص 204 ح 1.
16۔ وسائل الشیعه : ج 25 ص 147 ح 2.
17۔ وسائل الشیعه : ج 25 ص 208 ح 4.
18۔ جامع احادیث الشیعة : ج 5 ص 358 ح 12.
19۔ جامع احادیث الشیعة : ج 6 ص 178 ح 78.
20۔ وسائل الشیعة : ج 2 ص 124 ح 1.
21۔ أمالی طوسى : ج 2، ص 278، س 9، وسائل الشیعة : ج 16، ص 360، ح 10.
22۔ بحارالا نوار: ج 79 ص 116 ح 7 و ح 8، و ص 123 ح 16.

Login to post comments