×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

خمس کے بارے میں

مرداد 03, 1393 491

عصر حاضر میں ہم دیکھتے ہیں کہ مراجع کرام جن کی تقلید ہوتی ہے سید ہیں ۔ البتہ گذشتہ زمانہ میں غیر سید مراجع تھے لیکن انکی تعداد بہت

ہی کم تھی ۔ آپ جانتے ہیں کہ سید جمال الدین اسد آبادی ایک بزرگ اسلامی مصلح تھے، انکے زمانہ میں اور آج کے زمانہ میں بڑا فرق ہے یعنی ملت اسلام ان کے زمانہ میں اس وقت سے بہت اچھی تھی اور اب بھی اچھی ہے انہوں نے زیادہ تر اسلامی ملکوں کا دورہ کیا اور ہر جگہ سر گرم عمل رہے انہوں نے اپنی قومیت کو چھپائے رکھا اور کبھی اس کا اظہار نہیں کیا کہ میں کس ملک کا رہنے والا ہوں ،جیسا کہ ایرانی محققین نے تحقیق کی ہے او ر ظاہر ا درست بھی ہے کہ وہ ایرانی تھے لیکن جہاں جاتے تھے یہ نہیں بتاتے تہے کہ میں ایرانی ہوں اس لئے کہ اگر وہ یہ کہتے کہ میں ایرانی ہوں تو عرب اور افغانی حساس ہو جاتے اور کہتے کہ ہم ایک ایرانی کی بات کیوں مانیں ؟ خاص طور سے اگر سنیوں کے درمیان یہ کہتے کہ میں ایرانی اور شیعہ ہوں تو ہرگز کامیاب نہ ہوتے ۔ اس لئے کہ ایک شخص ایران سے اٹھے اور مصر میں جا کر کہے کہ میں ایرانی اور شیعہ ہوں پہر تمام مصری علماء اسکی خدمت میں حاضر ہوں اور انکے سامنے زانوئے ادب تہہ کریں اور انکی شاگردی اختیار کریں ، یہ کام نا ممکن تہا ۔ وہ اکثر فرماتے تھے کہ میں افغانی ہوں کیونکہ ایک عرصہ تک افغانستان میں رہے اور چونکہ اکثر افغانی سنی تھے ۔ اور وہ احساس ضدیت نہیں کرتے تھے ۔یا کم از کم انکے بارے میں بد بین نہیں تھے کہ یہ کہیں کہ یہ شخص یہاں اس لئے آیا ہے کہ ہم کو ہمارے مذہب سے منحرف کر دے ۔ وہ اپنی دستخطوں کو کبہی ایک طرح سے نہیں کرتے تھے ،جس زمانے میں مصر میں تہے مصریوں کی طرح دستخط کی اور جب افغانستان میں تہے تو افغانیوں کی طرح ، لیکن جیسا کہ انکے بارے میں ملتا ہے ہمیشہ ایک چیز اپنے نام یا دستخط کے ساتہ ضرور لکہتے تھے وہ کلمہ ”‌حسینی “ہے، وہ ہمیشہ جمال الدین حسینی کے نام سے دستخط کرتے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ اولاد حسین بن علی علیہ السلام سے ہیں اور حقیقت بہی ہے کہ وہ سید تھے اور اپنے اندر اس طرح کا احساس کرتے تھے کہ جیسے خون حسین بن علی علیہ السلام میں سے کوئی چیز انکی رگوں میں موجود ہے ۔
ہم نے خمس کے بارے میں موجود تمام احکامات اور قوانین اسلام کے ذریعے استدلال پیش کیا ،اب اگر ہم آیہ انفال اور آیہ خمس کو ایک ساتھ رکھ کردیکھیں تو اس نتیجے تک پہونچتے ہیں کہ مسئلہ خمس کا دائرہ بہت وسیع ہے جیسا کہ شیعوں نے کہا ہے ،نہ یہ کہ خمس جہاد کے فرعی مسائل میں سے ایک مختصر اور محدود مسئلہ ہے جیسا کہ اہل سنت کا کہنا ہے ۔ اور فقہ اسلام کسی طرح کا اقتصادی امتیاز سادات کو نہیں دیتا بلکہ صرف اسلئے کہ ایک روحی حالت انکے اندر باقی رہے اور انکا نسب محفوظ رہے یہ کام انکے بارے میں کیا ہے ،جیسا کہ انہوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور انکی اکثریت اپنے نسب کے سلسلہ کو جانتی ہے کہ کس طرح سے انکا سلسلہ پیغمبر تک پہونچتا ہے اور اسلام چاہتا ہے کہ انکے اس نفسیاتی حالت سے فائدہ اٹھائے اور یہ نتیجہ نکالے جیسا کہ اسنے نتیجہ بہی نکالا ہے ۔
”‌ و اعلموا انما غنمتم من شئی فان للّہ خمسہ “ ”‌اور یہ جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بہی فائدہ حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ ”¤”¤”¤”¤”¤”¤”¤“ وہ خدا ، پیغمبر اورذوی القربیٰ کا حق ہے اور شیعہ سنی سب کے نزدیک یہ حکم زمان ِپیغمبر اور زندگی پیغمبر سے مخصوص نہیں ہے بلکہ انکے بعد بہی خمس ہے اور چونکہ وہ دنیا سے چلے گئے لہذا اس سے پتہ چلتا ہے کہ خمس صرف پیغمبر سے مخصوص نہیں ہے ،بلکہ انکے اہل بیت علیہم السلام کو بہی شامل ہے ۔ قرآن میں”‌ ذی القربیٰ “یعنی تمام رشتہ داروں کا لفظ نہیں آیا ہے بلکہ رشتہ دار یعنی کلمہ ذی القربیٰ آیا ہے جیسا کہ ہماری روایات نے یھی تفسیر کی ہے یعنی اس سے معصومین علیہم السلام مراد ہیں ۔ اور قرآن میں ان کا مرتبہ ہے ۔”‌ و الیتامیٰ و المساکین و ابن السبیل “ یعنی ، سادات تییموں ، مسکینوں اور ابن سبیل پر یہ رقم خرچ ہونی چاہئے، نہ یہ کہ جو بھی خمس ملے صرف انہیں پر خرچ ہو ۔
حوالہ جات :
1۔سورہ انفال/ 41
2۔ الجامع لاحکام القرآن ، ابو عبد اللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی، ج8، ص 1
3۔کافی ج 1 ،ص 545،باب الفی و الانفال
4۔سورہ انفال /41
5۔سورہ انفال /69
6۔سورہ نساء /94
7۔سورہ انفال / 1
(ختم شد)

Login to post comments