×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

خدا کی وحدانیت کا اثبات

مرداد 03, 1393 603

تاہم گذشتہ، حال اور مستقبل کے موجودات کے درمیان کے درمیان ربط و تعلق کچھ یوں ہے کہ گذشتہ (ماضی کے) موجودات نے موجودہ (یاحال کے)

موجودات کے معرض وجود میں آنے اور تخلیق ہونے کے اسباب فراہم کرتے ہیں اور موجودہ (یاحال کے) موجودات آئندہ (یا مستقبل کے) موجودات کی تخلیق ہونے اور وجود میں آنے کے اسباب و موجودات فراہم کرتے ہیں۔ اگر عِلّی اور إعدادی (Causal) تعلقات موجوداتِ عالم سے ختم کئے جائیں تو یہ عالم باقی نہیں رہے گا اور کوئی بھی دوسرا موجود، وجود میں نہیں آئے گا؛ جیسا کہ اگر وجودِ انسان کے درمیان کا ارتباط ہوا، روشنی، پانی اور اشیائے خورد و نوش سے ختم کیا جائے تو وہ اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکے گا اور دوسرے انسانوں یا دوسرے موجودات کی تخلیق کا امکان فراہم نہیں کرسکے گا۔
ان دو مقدمات کو ملا کر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس دنیا کا نظام ـ جو ماضی، حال اور مستقبل کے بے شمار موجودات پر مشتمل ہے ـ ایک ہی خالق کی تخلیق کردہ ہے اور اس کا انتظام و انصرام اسی کی حکیمانہ تدبیر کے تحت چلتا ہے کیونکہ اگر اس کے سوا ایک یا ایک سے زیادہ خالق اور بھی ہوتے تو مخلوقات کے درمیان کسی قسم کا تعلق و ارتباط وجود میں نہ آتا اور سب پر واحد نظام حاکم نہ ہوتا بلکہ ہر مخلوق کا اپنا خالق ہوتا اور اسی خالق کے تخلیق کردہ موجودات کی مدد سے پروان چڑھتا؛ نتیجے کے طور پر متعدد اور مستقل نظامات معرض وجود میں آتے اور ان کے درمیان کوئی ربط و تعلق برقرار نہ ہوتا؛ حالانکہ دنیا میں موجودہ نظام ایک منظم اور یک جہت نظام ہے جس کے تمام اجزاء دوسروں سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ پیوستگی مشہود اور نمایاں ہے۔ (1)
حوالے جات:
 (1) محمدتقى مصباح یزدى ، آموزش فلسفه، ج 2، ص 359 و 360 زیادہ معلومات کے لئے دیکھیں: سیدمحمدحسین طباطبایى ، اصول فلسفه و روش رئالیسم، ج 5، صص 111۔ 123.
  منبع: خداشناسی ؛محمد رضا کاشفی ؛نهادنمایندگی مقام معظم رهبری در دانشگاه ها

Login to post comments