×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اپنے دل کے دائمی بتوں کو توڑ ڈالو

مرداد 03, 1393 457

کیا آپ جانتے ہیں کہ بت کی کلی سی تعریف کیا ہے ؟ بت ہر اس شخص یا چیز کا نام ہے کہ جس کو دنیاوی کام کاج کے حل میں آپ مؤثر جانتے ہیں

اور ایک لمحہ کے لئے یا مسلسل اس فکر میں رہتے ہیں کہ وہ آپ کے کام آ سکتا ہے ۔ ایک انسان اس وقت ہمارے لئے بت بن جاتا ہے جب ہم یہ سوچیں کہ یہ انسان خدا کی مانند ہمارے لئے کام انجام دے گا ۔ یعنی اس شخص سے بھی ہمیں وہ کچھ ملتا ہے جو خدا ہمیں عطا کرتا ہے ۔
جس بت کو بھی ہم اپنے ذہن میں پالیں اور اس کی پوجا کرنے لگ جائیں وہ بہت جلد ہمارے لئے وبال جان بن جاتا ہے اور ہمارے ایمان کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن کر ہماری دنیاوی اور اخروی زندگی کو ویران کرکے رکھ دیتا ہے ۔ اس سارے معاملے میں بدقسمتی کی بات یہ ہوتی ہے کہ اس گناہ کبیرہ کو ہم نے خود جنم دیا ہوتا ہے اور اس میں کوئی حکمت بھی شامل نہیں ہوتی ہے ۔
اس موضوع پر مزید بحث کرتے ہوئے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں کن شرک آلود پرستش کو جگہ دے رکھی کہ جن کے بارے میں ہم خود بھی آگاہ نہیں ہیں ۔
بت پرستی کی علامات
شرک اور بت پرستی ایسے باطل افعال میں سے ہیں کہ انسان ایک تسلسل کے ساتھ جن کا مرتکب ہوتا ہے اور ان میں سرگرم ہونے سے دنیا اور آخرت میں خدا کی سعادت اور نعمتوں سے خود کو محروم کرتا ہے ۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ بات ہمارے سامنے روشن ہے کہ تمام انبیاء کرام اور رہبران الہی کی ذمہ داری ، عوام الناس کو ایک خدا کی پہنچان کراتے ہوئے ، یکتاپرستی کی دعوت اور بت پرستی سے مبارزہ تھی ۔ تمام کے تمام انبیاء نے ہر دور کے انسان کو ایک خدا کی عبادت کی تلقین کی ۔ خدا تعالی کی ہی ذات ہے جو تمام کائنات کی مالک ہے اور انسان کو اپنی ہر مشکل میں صرف اور صرف اسی ذات سے رجوع کرنا چاہئے ۔
یہ روح کی بیماری ہے جو اس حد تک خطرناک ہے کہ اس کا علاج صرف اور صرف توحید کی پیروری اور ایک خدا کی طرف لوٹ آنے میں پوشیدہ ہے ۔ اسلام نے شرک کو ایک ظلم عظیم کے نام سے پکارا ہے اور شرک کرنے والے کے لئے کوئی بخشش نہیں ہے ۔ قرآن میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں بارہا اس بات کی طرف تاکید کی گئی ہے کہ اپنے رب کی ذات کے متعلق شناخت پیدا کرو ، صرف اسی ذات کی عبادت کرو ، اسی سے مانگو اور اس کی ذات ، صفات اور صفات کی خوبیوں میں کسی بھی دوسرے کو شریک مت بناؤ ۔ اگر خدا کی ذات میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہراؤ گے تب تم مشرکین میں شامل ہو جاؤ گے اور مشرکین کا ٹھکانا جہنم ہے ۔
شرک کیا ہے ؟
عربی زبان میں شرک کے معنی بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ
«الشِّرْكُ أَنْ یَجْعَلَ لِلَّهِ شَرِیكاً فِی ربوبیّته»
شرک ، خدا کی حاکمیت اور ربوبیّت میں کسی دوسرے کو شریک کرنے کا نام ہے یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کسی اور کو شریک کرنے کا نام شرک ہے ۔
دوسرے الفاظ میں شرک یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج اور مسائل کے حل کے لئے خدا کے علاوہ کسی اور کی مدد کے منتظر رہیں ۔ انسان کو جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہو تو اسے خدا سے مدد مانگنی چاہئے ۔ جب انسان کسی اور کی مدد کا طلب گار ہوتا ہے اور اپنے دل میں دوسرے کو حاکم سمجھتا ہے اور اس شخص کے ساتھ ایسے انداز میں پیش آتا ہے کہ جیسے وہ اس کی پرستش کر رہا ہو تب وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے ۔
جو شخص جس بھی چیز کی اطاعت کرتا ہے ، حقیقت میں وہ اس کی عبادت کرتا ہے اور اسے اپنا معبود تصور کر لیتا ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کی ذات کو پہچان لے اور اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ اس دنیا کا خالق اور تمام جہانوں کا حکمران خدا ہے اور وہی ذات ہے جو اس کی تمام پریشانیوں کو دور کرنے والی ہے اور اسی ذات کی نعمتوں کو انسان دنیا میں استعمال کر رہا ہوتا ہے ۔
بت پرستی
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو خدا کو خالق یکتا تو تصور کرتے ہیں مگر صرف خدا کی ذات کو رب اور دنیا کا مدبر تصور نہیں کرتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں نے خدا کے شریک بنا رکھے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ یہ چیزیں خدا کا ظاہری وجود ہوتی ہیں اور دنیا کو چلانے میں یہ خدا کی مدد کرتی ہیں ۔ ایسے افراد مختلف شکلوں کے پتھروں ، لکڑیوں اور مختلف طرح کی چیزوں کے ظاہری بت بنا کر ان کی پوجا کرتے ہیں ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خدا کی ذات کو تو مانتے ہیں مگر اس ذات کی وحدانیت کا انکار کرتے ہوئے ، اس کے شریک بھی تلاش کرتے ہیں ۔ مشرکین یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کی عبادت کرتے ہیں مگر ان بتوں کو ایک ظاہری صورت کے طور پر اپنے سامنے رکھتے ہیں اور انہیں ایک قبلہ اور وسیلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں مگر بعض ایسے بھی مشرکین ہوتے ہیں جو انہی بتوں کو پوجتے ہیں اور انہیں ہی اپنا معبود تصور کرتے ہیں ۔
جب کوئی انسان اللہ کے حکم سے کسی دوسرے شخص کی اطاعت قبول کرتا ہے تب ہو شرک کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔ مثال کے طور پر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ علیھم السلام کی اطاعت ۔ اس کے برعکس اگر یہی کام خدا کے حکم کے بغیر ہو وہ اس خاص شخص کی عبادت تصور ہو گی جو کہ شرک ہے ۔
انسان پرستی یا نفس پرستی
سورہ توبہ کی آیت نمبر 31  اس بات کی وضاحت یوں کرتی ہے ۔
اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِیَعْبُدُواْ إِلَـهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا یُشْرِكُونَ :
ترجمہ : " انہوں نے اللہ کے علاوہ اپنے علماء اور راہبوں کو اپنا رب بنا لیا ہے اور مسیح بن مریم کو بھی، حالانکہ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ذات ان کے شرک سے پاک ہے" ۔ (ختم شد)
تحریر : سیدہ عروج فاطمہ

Login to post comments