×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

انتظار قرآن کی نگاہ میں

مرداد 03, 1393 580

یہ سوال عام طور پر پوچھا جاتا ہے کہ کیا قرآن میں انتظار کا کوئی ذکر ہے؟ اور حقیقی منتظر کی علامت کیا ہے؟ جواباً یہ نکتہ مد نظر رہنا چاہئے

کہ انتظار ظہور کی جڑیں بھی قرآنی ہیں اور منتظرین کے فرائض بھی قرآن میں ضمنی طور پر بیان ہوئے ہیں۔ انتظار کا تفکر مستقبل کی نسبت حُسنِ ظنّ رکھنے اور پرامید رہنے کے عنصر اور باطل پر حق کی آخری فتح، صالحین کے قطعی غلبے اور جابروں و ظالموں کی قطعی شکست، کے تفکر پر استوار ہے اور یہ وعدے قرآن ہی میں دیئے گئے ہیں۔ نمونے کے طور پر یہاں ایک آیت کریمہ کا حوالہ دیا جاتا ہے جہاں ارشاد ربانی ہے:
{فَقُلْ إِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّهِ فَانْتَظِرُواْ إِنِّی مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِینَ}۔ (1)  
"پس کہہ دیجئے کہ غیب اللہ کے لئے مخصوص ہے تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں"۔  
حافظ قندوزی حنفی اپنے اسناد سے حضرت امام صادق (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں "غیب" سے مراد حجۃالقائم (عج) ہیں۔ (2)
کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم نے حقیقی منتظرین کی خصوصیات بیان کی ہیں؛ مثال کے طور پر ارشاد ربانی ہے:
{یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}۔ (3)
اے ایمان والو! صبر و استقامت سے کام لو اور (مقابلے کے وقت) ثابت قدمی کا ثبوت دو اور سرحدوں کا تحفظ کرو اور تقوائے الہی اختیار کرو شاید کہ تم دین و دنیا کی بہتری حاصل کرو۔
حضرت امام باقر (ع) فرماتے ہیں: واجبات و فرائض الہی پر صبر و استقامت کرو اور دشمنوں کے مقابلے میں ثابت قدم رہو اور ہمیشہ کے لئے اپنے موعود پیشوا (ع) کے محافظ رہو اور ان کے حریم کا تحفظ کرو۔ (4) واضح رہے کہ تفصیلی خصوصیات بیان کرنے کی توقع احادیث اور روایات سے رکھی جاسکتی ہے۔
رسول اللہ (ص) فرماتے ہیں:
"میری امت کا بہترین عمل خدائے عزّ و جلّ متعال کی جانب سے فراخی اور فَرَج کا انتظار رکھنا ہے"۔  (5)
حنفی قندوزی اپنے اسناد سے روایت کرتے ہیں کہ "رسول اللہ (ص) نے فرمایا: بہترین عمل انتظار فَرَج ہے اور انتظار فَرَج سے مراد حضرت مہدی (ع) کے ظہور کا انتظار ہے"۔ (6)
حوالہ جات:
1۔ سورہ یونس (10) آیت 20۔
2۔ ینابیع المودہ، قندوزی حنفی، ج 3 ص 240 و 241۔  
3۔ سورہ آل عمران (3) آیت 200۔
4۔ البرهان فى تفسیر القرآن ـ سید هاشم محدث البحرانی ـ  ج 1، ص 334. ینابیع المودہ ـ حنفی قندوزی ـ ج 3 ص 236۔
5۔ کمال الدین و تمام النعمہ ـ شیخ صدوق ـ ص 644۔  
6۔ ینابیع المودہ، قندوزی حنفی، ج 3 ص 397۔

Login to post comments