×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

كس چیز پر سجدہ كرنا چاہیے

مرداد 04, 1393 548

مكتب اہلبیت(ع) كے پیروكاروں كا اس بات پر اتفاق ہے كہ زمین كے علاوہ كسى چیز پر سجدہ نہیں ہوسكتا ہے، ہاں البتہ جو چیزیں زمین سے

اُگتى ہیں اور كھانے و پہننے كے كام نہیں آتیں جیسے درختوں كے پتے اور لكڑى وغیرہ اسى طرح حصیر و بوریا و غیرہ۔ ان پر سجدہ كیا جاسكتا ہے۔ جبكہ علماء اہلسنت عام طور پر معتقد ہیں كہ ہر چیز پر سجدہ كیا جا سكتا ہے۔ ہاں ان میں سے صرف بعض علماء نے لباس كى آستین اور عمامہ وپگڑى كے گوشے كو مستثنى كیا ہے كہ اُن پر سجدہ كرنا جائز نہیں ہے۔
اس مسئلہ میں مكتب اہلبیت(ع) والوں كى دلیل، رسول خدا(ص) اور آئمہ اطہار(ع) سے نقل ہونے والى احادیث اور اصحاب كا عمل ہے۔ ان محكم ادلّہ كى وجہ سے وہ اس عقیدہ پر اصرار كرتے ہیں اور اس لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی(ص) میں اس بات كو ترجیح دیتے ہیں كہ قالین وغیرہ پر سجدہ نہ كریں بلكہ پتھر پر سجدہ كریں اور كبھى حصیر اور مصلى و غیرہ  اپنے ساتھ لاتے ہیں اور ا س پر سجدہ كرتے ہیں۔
ایران، عراق اور دیگر شیعہ نشین ممالك كى تمام مساجد میں چونكہ قالین بچھے ہوئے ہیں، اس لیے خاك سے ’’سجدہ گاہ‘‘ بنا كر اسے قالین پر ركھتے ہیں اور اس پر سجدہ كرتے ہیں تاكہ پیشانى كو كہ جو تمام اعضاء میں اشرف و افضل ہے اللہ تعالى كے حضور، خاك پر ركھا جا سكے۔ اور اس ذات احدیّت كى بارگاہ میں انتہائی تواضع و انكسارى كا مظاہرہ كیا جا سكے۔ كبھى یہ’’ سجدہ گاہ‘‘۔
شہداء كى تربت سے بنائی جاتى ہے تاكہ راہ خدا میں ان كى جانثارى كى یاد تازہ ہو اور نماز میں زیادہ سے زیادہ حضور قلب حاصل ہو سكے اور پھر شہدائے كربلا كى تربت كو دوسرى ہر قسم كى خاك پر ترجیح دى جاتى ہے لیكن شیعہ ہمیشہ اس تربت یا دوسرى خاك كے پابند نہیں ہیں بلكہ جیسا كہ بیان كیا گیا ہے مساجد كے صحنوں میں لگے ہوئے پتھروں ( جیسے مسجد الحرام اور مسجد نبوى كے صحن والے سنگ مرمر) پر بھى با آسانى سجدہ كر لیتے ہیں ( غور كیجئے)
بہرحال مكتب اہلبیت(ع) كے پاس زمین پر سجدہ كے وجوب كے بارے میں بہت سى ادلّہ ہیں من جملہ پیغمبر اكرم(ص) كى احادیث ، صحابہ كى سیرت جو آئندہ بحث میں بیان ہوگى اور آئمہ اطہار سے نقل ہونے والى روایات كہ جنہیں ہم عنقریب نقل كریں گے۔
ہمیں تعجب یہ ہے كہ بعض اہلسنت برادران ہمارے اس فتوى كے مقابلے میں كیوں اسقدر شدید ردّعمل كا مظاہرہ كرتے ہیںاور كبھى اسے بدعت سے تعبیر كرتے ہیں حتى بعض اوقات اسے كفر اور بُت پرستى شمار كرتے ہیں۔
اگر ہم خود ان كى اپنى كتابوں سے ثابت كردیں كہ رسولخدا(ص) اور انكے اصحاب، زمین پر سجدہ كرتے تھے تو كیا پھر بھى یہ عمل بدعت ہوگا؟
اگر ہم ثابت كردیں كہ آنحضرت(ص) كے بعض اصحاب جیسے جناب جابر ابن عبداللہ انصارى وغیرہ جب شدید گرمى كى وجہ سے پتھر اور ریت گرم ہوجاتى تھى تو وہ كچھ مقدار ریت كو ایك ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں تبدیل كرتے تھے تاكہ كچھ ٹھنڈى ہوجائے اور اس پر سجدہ كیا جا سكے(1) تو كیا اس صورت میں جناب جابر ابن عبداللہ كو بت پرست یا بدعت گزار شمار كریں گے؟
پس جو شخص حصیر پر سجدہ كرتا ہے یا ترجیح دیتا ہے كہ مسجد الحرام یا مسجد نبوی(ص) كے فرش پر سجدہ كرے تو كیا وہ حصیر كى پرستش كرتا ہے یا مسجد كے فرش كى پوجا كرتا ہے؟
كیا ضرورى نہیں ہے كہ یہ برادران اس موضوع پر مشتمل ہمارى ہزاروں فقہى كتابوں میں سے كم از كم ایك كتاب كا مطالعہ كریں تا كہ انہیں پتہ چل جائے كہ ان ناروا نسبتوں میں ذرّہ برابر بھى حقیقت كى جھلك نہیں ہے؟
آیا كسى پر بدعت یا كفر و بت پرستى كى تہمت لگنا،كم گناہ ہے اور قیامت كے دن اللہ تعالى اسے آسانى سے معاف كر دیگا؟
اس بات كو جاننے كے لیے كہ كیوں شیعہ زمین پر سجدہ كرتے ہیں، امام صادق ۔ كى اس حدیث كى طرف توجہ كافى ہے۔ ہشام بن حكم نے كہ جو امام كے خصوصى اصحاب میں سے تھے سوال كیا، كہ كس چیز پر سجدہ كیا جا سكتا ہے اور كسى چیز پر سجدہ كرنا جائز نہیں ہے؟ امام (ع) نے جواب میں فرمایا’’ السجود لا یجوز الا على الارض او ما انبتت الارض الا ما أكل اَو لبس‘‘ كسى چیز پر سجدہ كرنا جائز نہیں ہے مگر صرف زمین پر یا ان چیزوں پر جو زمین سے اگتى ہیں اور كھانے اور پہننے كے كام نہیں آتیں ہشام كہتا ہے میں نے عرض كى آپ(ع) پر قربان ہوجاؤں اس كى حكمت كیا ہے ؟
آپ(ع) نے فرمایا:’’لانّ السّجُودَ ہُو الخضوع للّہ عزّوجل فلا ینبغى أن یكونَ على ما یُوكَلُ و یُلبس لانّ أَبناء الدُّنیا عَبید ما یا كلون و یلبسون و الساجدُ فى سُجودہ فى عبادة الله فلا ینبغى أن یَضَعَ جَبہَتَہُ فى سُجودہ على معبود أبناء الدُّنیا الذین اغتَرُّ وا بغرورہا كیونكہ سجدہ اللہ تعالى كے سامنے خضوع اور انكسارى ہے اس لیے مناسب نہیں ہے كہ انسان كھانے اور پہننے كى چیزوں پر سجدہ كرے۔
كیونكہ دنیا پرست لوگ كھانے اور پہننے والى چیزوںكے بندے ہوتے ہیں۔ جبكہ وہ شخص جو سجدہ كر رہا ہے سجدہ كى حالت میں اللہ تعالى كى عبادت میں مشغول ہے پس مناسب نہیں ہے كہ انسان اپنى پیشانى كو سجدہ كى حالت میں ایسى چیزوں پر ركھے جو دنیا پرستوں كے معبود ہیں اور انكى زرق و برق كے وہ فریفتہ ہیں۔
اس كے بعد امام ۔ نے اضافہ فرمایا: ’’و السّجودُعلى الارض أفضلُ لانّہ أبلغ للتواضع و الخُضوع للّہ عزوجل ‘‘كہ زمین پر سجدہ كرنا افضل ہے كیونكہ یہ اللہ تعالى كے حضور بہتر طور پرخضوع وتواضع اور انكسارى كى علامت ہے۔(2)
حوالہ جات :
1) مسند احمد ، ج 3، ص 327و سنن بیہقى جلد 1ص 239۔
2)علل الشرائع، جلد 2، ص 341۔
اس حدیث كو شیعہ و اہل سنت نے پیغمبر اكرم(ص) سے نقل كیا ہے كہ آپ(ص) نے فرمایا’’جُعلت لى الارضُ مسجداً و طہوراً‘‘ كہ زمین میرے لیے محل سجدہ اور طہارت ( تیمم) قرار دى گئی ہے۔(1)
بعض علماء نے یہ خیال كیا ہے كہ حدیث كا معنى یہ ہے كہ پورى روئے زمین اللہ كى عبادت كا مقام ہے۔ پس عبادت كا انجام دینا كسى معیّن مقام كے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا كہ یہود و نصارى گمان كرتے تھے كہ عبادت كو حتماً كلیساؤں اور عبادت خانوں میں انجام دینا چاہیے۔
لیكن اگر غور كیا جائے تو معلوم ہوتا ہے كہ یہ تفسیر حدیث كے حقیقى معنى كے ساتھ سازگار نہیں ہے كیونكہ پیغمبر اكرم(ص) نے فرمایا’’ زمین طہور بھى ہے اور مسجد بھی‘‘ اور ہم جانتے ہیں كہ جو چیز طہور ہے اور جس پر تیمّم كیا جا سكتا ہے وہ زمین كى خاك اور پتھر ہیں پس سجدہ گاہ كو بھى وہى خاك اور پتھر ہونا چاہیے۔
اگر پیغمبر اكرم(ص) اس معنى كو بیان كرنا چاہتے كہ جسكا بعض اہلسنت كے علماء نے استفادہ كیا ہے تو یوں كہنا چاہیے تھا كہ ’’ جُعلت لى الارض مسجداً و ترابُہا طہوراً‘‘ پورى سرزمین كو میرے لیے مسجد قرار دیا گیا اور اس كى خاك كو طہارت یعنى تیمم كا وسیلہ قرار دیا گیا ہے لیكن آپ(ص) نے یوں نہیں فرمایا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے كہ یہاں مسجد سے مراد جائے سجدہ ہے لہذا سجدہ گاہ كو بھى اسى چیز سے ہونا چاہیے جس پر تیمم ہو سكتا ہے۔
پس اگر شیعہ زمین پر سجدہ كرنے كے پابند اور قالین و غیرہ پر سجدہ كو جائز نہیں سمجھتے تو یہ كوئی غلط كام نہیں كرتے بلكہ رسول خدا(ص) كے دستور پر عمل كرتے ہیں۔
حوالہ جات :
1) صحیح بخارى جلد 1، ص 91و سنن بیہقی، جلد 2۔ ص 433 (اور بہت سى دوسروى كتابوں میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے)۔
 متعدّد روایات سے استفادہ ہوتا ہے كہ پیغمبر اكرم(ص) بھى زمین پر سجدہ كرتے تھے، كپڑے یا قالین و غیرہ پر سجدہ نہیں كرتے تھے۔
ابوہریرہ كى ایك حدیث میں یوں نقل ہوا ہے وہ كہتا ہے ’’ سجد رسول الله (ص) فى یوم مطیر حتى أنّى لانظر الى أثر ذلك فى جبہتہ و ارنبتہ‘‘ میں نے رسولخدا(ص) كو ایك بارانى دن زمین پر سجدہ كرتے ہوئے دیكھا ۔ سجدہ كے آثار آپ كى پیشانى اور ناك پر نمایاں تھے۔(1)
اگر سجدہ كپڑے یا درى و غیرہ پر جائز ہوتا تو ضرورت نہیں تھى كہ آنحضرت(ص) بارش كے دن بھى زمین پر سجدہ كریں۔
حضرت عائشہ نیز فرماتى ہیں ’’ ما رأیتُ رسول الله متقیاً وجہہ بشیئ‘‘میں نے كبھى نہیں دیكھا كہ آنحضرت(ص) ( سجدہ كے وقت ) اپنى پیشانى كسى چیز سے ڈھانپ لیتے ہوں۔(2)
ابن حجر اسى حدیث كی تشریح میں كہتے ہیں: كہ یہ حدیث اس بات كی طرف اشارہ ہے كہ سجدہ میں اصل یہ ہے كہ پیشانى زمین پر لگے لیكن اگر قدرت نہ ہو تو پھر یہ واجب نہیں ہے۔(3)
ایك دوسرى روایت میں جناب میمونہ ( رسول اكرم(ص) كى ایك دوسرى زوجہ) سے یوں نقل ہوا ہے كہ ’’و رسول الله یصّلى على الخُمرة فیسجد‘‘ پیغمبر اكرم حصیر (چٹائی) پر نماز پڑھتے اور اس پرسجدہ كرتے تھے۔
اہلسنت كى معروف كتب میں متعدّد روایات نقل ہوئی ہیں كہ پیغمبر اكرم(ص) ’’ خمرہ‘‘ پر نماز پڑھتے تھے ( خُمرہ اس چھوٹے سے مصلى یا حصیر كو كہتے ہیں جو كجھور كے پتوں سے بنایا جاتا تھا)تعجب یہ ہے كہ اگر شیعہ اسى طرح عمل كریں اور نماز پڑھتے وقت كوئی مصلى بچھا لیں تو ان پر بعض متعصب لوگوں كى طرف سے بدعت كى تہمت لگائی جاتى ہے۔ اور غصے كے ساتھ انہیں دیكھا جاتا ہے۔
حالانكہ یہ احادیث بتاتى ہیں كہ یہ كام پیغمبر اكرم(ص) كى سنت ہے۔
كتنے افسوس كا مقام ہے كہ سنّت كو بدعت شمار كیا جائے
مجھے نہیں بھولتا كہ ایك مرتبہ حج كے موقع پر مدینہ میں، میں مسجد نبوی(ص) میں ایك چھوٹى سى چٹائی پر نماز پڑھنا چاہتا تھا تو ایك متعصّب وہابى عالم دین آیا اور اس نے بڑے غصّے كے ساتھ چٹائی اٹھا كر كونے میں پھینك دى گویا وہ بھى اس سنت كو بدعت سمجھتا تھا۔
حوالہ جات :
1) مجمع الزوائد، جلد 2، ص 126۔
2) مصنف ابن ابى شیبہ ، جلد 1 ، ص 397۔
3) فتح البارى ، جلد1، ص 404۔

Login to post comments