×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

’’تقیہ‘‘ قرآن و سنت كے آئینہ میں

مرداد 04, 1393 580

دوسرا مسئلہ جس پر ہمیشہ ہمارے متعصب مخالفین اور بہانہ تلاش كرنے والے افراد، مكتب اہلبیت كے پیروكاروں پر تشنیع كرتے ہیں ،’’تقیہ‘‘

كا مسئلہ ہے ۔
وہ كہتے ہیں تم كیوں تقیہ كرتے ہو؟كیا تقیہ ایك قسم كا نفاق نہیں ہے ؟
یہ لوگ اس مسئلہ كو اتنا بڑھا چڑھا كر پیش كرتے ہیں كہ گویا تقیہ كوئی حرام كام یا گناہ كبیرہ یا اس سے بھى بڑھ كر كوئی گناہ ہے ۔یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں كہ قرآن مجید نے متعدد آیات میں تقیہ كو مخصوص شرائط كے ساتھ جائز شمار كیا ہے ۔اور خود انكے اپنے مصادر میں منقول روایات اس بات كى تائید كرتى ہیں ۔اور اس سے بڑھ كر تقیہ (اپنى مخصوص شرائط كے ساتھ)ایك واضح عقلى فیصلہ ہے ۔خود ان كے بہت سے لوگوں نے اپنى ذاتى زندگى میں اس كا تجربہ كیا ہے اور اس پر عمل كرتے ہیں ۔
اس بات كى وضاحت كے لیے چند نكات كى طرف توجہ ضرورى ہے ۔
1۔ تقیہ كیا ہے ؟
تقیہ یہ ہے كہ انسان اپنے مذہبى عقیدہ كو شدید اور متعصب مخالفین كے سامنے كہ جو اس كے لئے خطرہ ایجاد كرسكتے ہوں چھپا لے۔ مثال كے طور پر اگر ایك موحّد مسلمان،ہٹ دھرم بت پرستوں كے چنگل میں پھنس جائے، اب اگر وہ اسلام اور توحید كا اظہار كرتا ہے تو وہ اس كا خون بہا دیں گے یا اسے جان ،مال یا ناموس كے اعتبار سے شدید نقصان پہنچائیں گے ۔ اس حالت میں مسلمان اپنے عقیدہ كو ان سے پنہاں كر لیتا ہے تاكہ انكے گزند سے امان میں رہے یا مثلا،اگر ایك شیعہ مسلمان كسى بیابان میں ایك ھٹ دھرم وہابى كے ہاتھوں گرفتار ہو جائے جو شیعوں كا خون بہانا مباح سمجھتا ہے ۔ اس حالت میں وہ مومن اگر اپنى جان،مال اور ناموس كى حفاظت كے لئے اُس وہابى سے اپنا عقیدہ چھپا لیتا ہے تو ہر عاقل اس بات كى تصدیق كرتا ہے كہ ایسى حالت میں یہ كام مكمل طور پر منطقى ہے اور عقل بھى یہاں یہى حكم لگاتى تھے۔كیونكہ خواہ مخواہ اپنى جان كو متعصب لوگوں كى نذرنہیں كرنا چاہیئے ۔
2۔تقیہ اور نفاق كا فرق:
نفاق بالكلتقیہ كے مقابلے میں ہے۔ منافق وہ ہوتا ہے جو باطن میں اسلامى قوانین پر عقیدہ نہ ركھتا ہو یا انكے بارے میں شك ركھتا ہو لیكن مسلمانوں كے در میان اسلام كا اظہار كرتا ہو۔
جس تقیہ كے ہم قائل ہیں وہ یہ ہے كہ انسان باطن میں صحیح اسلامى عقیدہ ركھتا ہو، البتہ صرف ان شدت پسند وہابیوں كا پیروكارو نہیں ہے جو اپنے علاوہ تمام مسلمانوں كو كافر سمجھتے ہیں اور انكے لیے كفر كا خط كھینچ دیتے ہیں اور انہیں دھمكیاں دیتے ہیں۔ جب بھى ایسا با ایمان شخص اپنى جان،مال یا ناموس كى حفاظت كے لئے اس متعصب ٹولے سے اپنا عقیدہ چھپا لے اس كو تقیہ كہتے ہیں اور اسكے مقابل والا نكتہ نفاق ہے۔
3۔تقیہ عقل كے ترازو میں :
تقیہ حقیقت میں ایك دفاعى ڈھال ہے۔ اسى لیے ہمارى روایات میں اسے (تُرس المومن) یعنى (باایمان لوگوں كى ڈھال)كے عنوان سے یاد كیا گیا ہے ۔كسى انسان كى عقل اجازت نہیں دیتى كہ انسان اپنے باطنى عقیدہ كا خطرناك اور غیر منطقى افراد كے سامنے اظہار كرے اور خواہ مخواہ اپنى جان، مال یا ناموس كو خطرے میں ڈالے ۔كیونكہ بلاوجہ طاقت اوروسائل كو ضائع كرنا كوئی عقلى كام نہیں ہے ۔
تقیہ:اس طریقہ كار كے مشابہہ ہے جسے تمام فوجى ،میدان جنگ میں استعمال كرتے ہیں اپنے آپ كو درختوں ،سرنگوں اور ریت كے ٹیلوں كے پیچھے چھپا لیتے ہیں اور اپنا لباس درختوں كى شاخوں كے رنگ جیسا انتخاب كرتے ہیں تا كہ بلا وجہ ان كا خون ہدر نہ جائے ۔
دنیا كے تمام عقلاء اپنى جان كى حفاظت كے لئے سخت دشمن كے مقابلے میں تقیہ والى روش سے استفادہ كرتے ہیں۔ كبھى بھى عقلائی، كسى كو ایسا طریقہ اپنا نے پر سرزنش نہیں كریں گے۔آپ دنیا میں ایك انسان بھى ایسا نہیں ڈھونڈ سكتے جو تقیہ كو اس كى شرائط كے ساتھ قبول نہ كرتا ہو۔
’’ابن سعد‘‘ مشہور مورخ كتاب طبقات میںاور طبرى ایك اور مشہور مورخ اپنى تاریخ كى كتاب میں دو خطوط كى طرف اشارہ كرتے ہیں كہ جو مامون كى طرف سے اسى مسئلہ كے بارے میں بغداد كے پولیس افسر (اسحق بن ابراہیم) كى طرف ارسال كیے گئے ۔
پہلے خط كے بارے میں ابن سعد یوں لكھتا ہے كہ مامون نے پولیس افسر كو لكھا كہ سات مشہور محدثین ( محمد بن سعد كاتب واقدى ۔ابو مسلم۔یحیى بن معین۔زہیر بن حرب۔ اسمعیل بن داوود۔ اسمعیل بن ابى مسعود۔ و احمد بن الدورقى ) كو حفاظتى اقدامات كے ساتھ میرى طرف بھیج دو۔ جب یہ افراد مامون كے پاس پہنچے تو اس نے ان سے آزمانے كے لیے سوال كیا كہ قرآن مجید كے بارے میں تمہارا عقیدہ كیا ہے؟ تو سب نے جواب دیا كہ قرآن مجید مخلوق ہے (حالانكہ اس وقت محدثین كے درمیان مشہور نظریہ اس كے برعكس تھا یعنى قرآن مجید كے قدیم ہونے كے قائل تھے اور ان محدثین كا بھى یہى عقیدہ تھا (9) ہاں انہوں نے مامون كى سخت سزاۆں كے خوف سےتقیہ كیا اور قرآن مجید كے مخلوق ہونے كا اعتراف كرلیا اور اپنى جان بچا لى ۔مامون كے دوسرے خط كے بارے میں كہ جسے طبرى نے نقل كیا ہے اور وہ بھى بغداد كے پولیس افسر كے نام تھایوں پڑھتے ہیں كہ جب مامون كا خط اس كے پاس پہنچا تو اس نے بعض محدثین كو كہ جنكى تعداد شاید 26چھبیس افراد تھى حاضر كیا اور مامون كا خط انكے سامنے پڑھا۔پھر ہر ایك كو الگ الگ پكار كر قرآن مجید كے بارے میں اُسكا عقیدہ معلوم كیا۔ ان میں سوائے چار افراد كے سب نے اعتراف كیا كہ قرآن مجید مخلوق ہے ( اور تقیہ كركے اپنى جان بچالى ) جن چار افراد نے اعتراف نہیں كیا انكے نام یہ تھے احمد ابن حنبل ، سجادہ ، القواریری، اور محمد بن نوح ۔ پولیس انسپكٹر نے حكم دیا كہ انہیں زنجیروں میں جكڑ كر زندان میں ڈال دیا جائے ۔ دوسرے دن دوبارہ ان چاروں افراد كو بلایا اور قرآن مجید كے بارے میں اپنے سوال كا تكرار كیا ۔ سجادة نے اعتراف كرلیا كہ قرآن مجید مخلوق ہے وہ آزاد ہو
گیا ۔ باقى تین نے مخالفت پر اصرار كیا ،انہیں دوبارہ زندان بھیج دیا گیا۔ اگلے دن پھر ان تین افراد كو بلایا گیا اس مرتبہ (القواریری)نے اپنا بیان واپس لے لیا اور آزاد ہوگیا۔لیكن احمد ابن حنبل اور محمد بن نوح اسى طرح اپنے عقیدہ پر مصّر رہے ۔ پولیس انسپكٹر نے انہیں (طرطوس ) (10) شہر میں جلا وطن كردیا۔
جب كچھ لوگوں نے ان تقیہ كرنے والوں پر اعتراض كیا تو انہوں نے كفار كے مقابلے میں جناب عمار یاسر كے عمل كو دلیل كے طور پر پیش كیا (11)ان موارد سے بالكل روشن ہو جاتا ہے كہ جس دقت انسان كسى چنگل میں گرفتار ہو جائے اور اس وقت ظالموں سے نجات پانے كا تنہا راستہ تقیہ ہوتو وہ یہ راستہ اختیار كر سكتا ہے خواہ یہ تقیہ كافر كے مقابلہ میں ہو یا مسلمان كے مقابلے میں ہو۔
4۔تقیہ كتاب الہى میں
قرآن مجید نے متعدد آیات میں تقیہ كو كفار اور مخالفین كے مقابلہ میں جائز قراردیا ہے ۔ مثال كے طور پر چند آیات پیش خدمت ہیں۔
الف)آل فرعون كے مومن كى داستان میں یوں بیان ہوا ہے ۔
(و قال رجل مومن من آل فرعون یكتم ایمانہ اتقتلون رجلا ان یقول ربى اللہ و قد جاء كم بالبینات ...)(1)
آل فرعون میں سے ایك باایمان مرد نے كہ جو (موسى كى شریعت پر) اپنے ایمان كو چھپاتا تھا كہا: كیا تم ایسے مرد كو قتل كرنا چاہتے ہو جو كہتا ہے كہ میرا پروردگار خدا ہے اوروہ اپنے ساتھ واضح معجزات اور روشن دلائل ركھتا ہے۔
پھر مزید مومن كہتا ہے (اسے اس كے حال پر چھوڑ دو اگر جھوٹ كہتا ہے تو اسجھوٹ كا اثر اس كے دامن گیر ہوگا اور اگر سچ كہتا ہے تو ممكن ہے بعض عذاب كى جو دھمكیاں اس نے سنائی ہیں وہ تمہارے دامن گیر ہوجائیں)پس اس طریقے سے آل فرعون كے اس مومن نے تقیہ كى حالت میں (یعنى اپنے ایمان كو مخفى ركھتے ہوئے ) اس ھٹ دھرم اور متعصب ٹولے كو كہ جو حضرت موسى (ع) كے قتل كے درپے تھا ضرورى نصیحتیں كردیں ۔
ب)قرآن مجید كے ایك دوسرے صریح فرمان میں ہم یوں پڑھتے ہیں ۔
(لایتخذ المومنون الكافرین اولیاء من دون المومنین و من یفعل ذلك فلیس من اللہ فى شئی الا ان تتقو منہم تقاة ً۔۔۔) (2)
مومنین كو نہیں چاہیے كہ كفار كو اپنا دوست بنائیں ۔ جو بھى ایسا كریگا وہ خدا سے بیگانہ ہے ہاں مگر یہ كہ تقیہ كے طور پر ایسا كیا جائے ۔
اس آیت میں دشمنان حق كى دوستى سے مكمل طور پر منع كیا گیا ہے مگر اس صورت میں اجازت ہے كہ جب ان كے ساتھ اظہار دوستى نہ كرنا مسلمان كى آزار و اذیت كا سبب بنے، اس وقت ایك دفاعى ڈھال كے طور پر ان كى دوستى سے تقیہ كى صورت میں فائدہ اٹھایا جائے۔
ج) جناب عمار یاسر اور انكے ماں ،باپ كى داستان كو تمام مفسرین نے نقل كیا ہے ۔ یہ تینوںاشخاص مشركین عرب كے چنگل میں پھنس گئے تھے ۔اور مشركین نے انہیں پیغمبر اكرم (ص) سے اظہار براء ت كرنے كوكہا ۔جناب عمار كے والدین نے اعلان لا تعلقى سے انكار كیا جس كے نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے ۔لیكن جناب عمار نے تقیہ كرتے ہوئے انكى مرضى كى بات كہہ دی۔ اور اس كے بعد جب گریہ كرتے ہوئے پیغمبر اكرم (ص) كى خدمت میں آئے تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔
(من كفر بالله من بعد ایمانہ الا من اكرہ و
قلبہ مطمئن بالایمان ...)(3)
جو لوگ ایمان لانے كے بعد كافر ہو جائیں ... انكے لئے شدید عذاب ہے مگر وہ لوگ جنہیں مجبور كیا جائے۔
پیغمبر اكرم (ص) نے جناب عمار كے والدین كو شہداء میں شمار كیا اور جناب عمار یاسر كى آنكھوں سے آنسو صاف كیے اور فرمایا تجھ پر كوئی گناہ نہیں ہے اگر پھر مشركین تمھیں مجبور كریں تو انہى كلمات كا تكرار كرنا۔تمام مسلمان مفسرین كا اس آیت كى شان نزول كے بارے میں اتفاق ہے كہ یہ آیت جناب عمار یاسر اور انكے والدین كے بارے میں نازل ہوئی اور بعد میں رسول خدا (ص) نے یہ جملات بھى ادا فرمائے۔ تو اس اتفاق سے عیاں ہوجاتا ہے كہ سب مسلمان تقیہ كے جواز كے قائل ہیں۔ ہاں یہ بات باعث تعجب ہے كہ قرآن مجید سے اتنى محكم ادلہ اور اہل سنت مفسرین كے اقوال كے با وجود شیعہ كو تقیہ كى خاطر مورد طعن قرار دیا جاتا ہے۔
جى ہاں نہ تو جناب عمار منافق تھے نہ ہى آل فرعون كا وہ مومن منافق تھا بلكہ تقیہ كے دستور الہى سے انہوں نے فائدہ اٹھایا۔
5۔تقیہ اسلامى روایات میں
اسلامى روایات میں بھى تقیہ كاكثرت سے ذكر ملتا ہے۔مثال كے طور پر مسند ابى شیبہ اہل سنت كى معروف مسند ہے ۔اس میں (مسیلمہ كذاب) كى داستان میں نقل ہوا ہے كہ مسیلمہ كذاب نے رسول خدا (ص) كے دو اصحاب كو اپنے اثر و رسوخ والے علاقے میں گرفتار كر لیا اور دونوں سے سوال كیا كہ كیا تم گواہى دیتے ہو كہ میں خدا كا نمائندہ ہوں؟ ایك نے گواہى دے كر اپنى جان بچا لى اور دوسرے نے گواہى نہیں دى تو اسكى گردن اڑادى گئی۔ جب یہ خبر رسول خدا (ص) تك پہنچى تو آپ(ص) نے فرمایا جو قتل ہو گیا اس نے صداقت كے راستے پر قدم اٹھایا اور دوسرے نے رخصت الہى كو قبول كرلیا اوراس پر كوئی گناہ نہیں ہے (4)
ائمہ اہل بیت كى احادیث میں بھى بالخصوص ان ائمہ كے كلمات میں كہ جو بنوعباس اور بنو اُمیّہ كى حكومت كے زمانہ میں زندگى بسر كرتے تھے اور اس دور میں جہاں كہیں محب على ملتا اسے قتل كردیا جاتا تھا۔تقیہ كا حكم كثرت سے ملتا ہے ۔ كیونكہ وہ مامور تھے كہ ظالم اور بے رحم دشمنوں سے اپنى جان بچانے كے لئے تقیہ كى ڈھال سے استفادہ كریں۔
6۔كیا تقیہ صرف كفار كے مقابلے میں ہے؟
ہمارے بعض مخالفین جب ان واضح آیات اور مندرجہ بالاروایات كا سامنا كرتے ہیں تو اسلام میں تقیہ كے جواز كو قبول كرنے كے علاوہ انكے پاس كوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اس وقت وہ یوں راہ فرار تلاش كرتے ہیں كہ تقیہ تو صرف كفار كے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ مسلمانوں كے مقابلے میں تقیہ جائز نہیں ہے ۔ حالانكہ مندرجہ بالا ادلہ كى روشنى میں بالكل واضح ہے كہ ان دو موارد میں كوئی فرق نہیں ہے۔
1۔ اگر تقیہ كا مفہوم متعصب اور خطرناك افراد كے مقابلے میں اپنى جان ،مال اور ناموس كى حفاظت كرنا ہے، اور حقیقت میں بھى یو نہى ہے، تو پھر نا آگاہ اور متعصب مسلمان اور كافركے درمیان كیا فرق ہے ؟ اگر عقل و خرد یہ حكم لگاتى ہے كہ ان امور كى حفاظت ضرورى ہے اور انہیں بیہودہ طور پر ضائع كرنا مناسب نہیں ہے تو پھر ان دومقامات میں كیا فرق ہے۔
دنیا میں ایسے افراد بھى موجود ہیں جو انتہائی جہالت اور غلط پروپیگنڈہ كى وجہ سے كہتے ہیں كہ شیعہ كا خون بہانا قربت الہى كا ذریعہ بنتا ہے ۔ اب اگر كوئی مخلص شیعہ جو امیر المومنین ۔ كا حقیقى پیرو كار ہو اور اس جنایت كارٹولے كے ہاتھوں گرفتار ہوجائے اور وہ اس سے پوچھیں كہ بتا تیرا مذہب كیا ہے ؟ اب اگر یہ شخص واضح بتا دے كہ میں شیعہ ہوں تو یہ خواہ مخواہ اپنى گردن كو جہالت كى تلوار كے سپرد كرنے كے علاوہ كوئی اور چیزہے؟ كوئی بھى صاحب عقل و خرد یہ حكم لگا سكتا ہے ؟
باالفاظ دیگر جو كام مشركین عرب نے جناب عمار و یاسریا مسیلمہ كذاب كے پیروكاروں نے دو اصحاب رسول خدا كے ساتھ كیا اگر وہى كام بنو امیہ اور بنو عباس كے خلفاء اور جاہل مسلمان، شیعوں كے ساتھ انجام دیں تو كیا ہم تقیہ كو حرام كہیں اور اہل بیتكے سینكڑوں بلكہ ہزاروں مخلص پیروكاروں كى نابودى كے اسباب فراہم كریں صرف اس خاطر كہ یہ حاكم بظاہر مسلمان تھے ؟
اگر ائمہ اہل بیت تقیہ كے مسئلہ پربہت زیادہ تاكید نہ كرتے یہاں تك كہ فرمایا ہے ۔
(تسعة اعشار الدین التقیہ) دس میں سے نو حصے دین تقیہ ہے ۔(5)
تو بنو امیہ اور بنو عباس كے دور میں شیعوں كے مقتولین كى تعداد شاید لاكھوں بلكہ كروڑوں تك پہنچ جاتى ۔ یعنى انكى بے رحمانہ اوروحشیانہ قتل و غارت دسیوں گنا زیادہ ہوجاتی۔
آیا ان شرائط میں تقیہ كى مشروعیت كے بارے میں ذرہ برابر شك رہ جاتا ہے ؟ہم یہ بات فراموش نہیں كرسكتے كہ جب اہل سنت بھى سالہا سال مذہبى اختلافات كى خاطر ایك دوسرے سے تقیہ كرتے تھے ۔ من جملہ قرآن مجید كے حادث یا قدیم ہونے پر انكا شدید اختلاف تھا اور اس راہ میں بہت ساروں كا خون بہایا گیا (وہى نزاع كہ جو آج محققین كى نظر میں بالكل بیہودہ اوربے معنى نزاع ہے )كیا جو گروہ اپنے آپ كو حق پر سمجھتا تھا اگر ان میں سے كوئی شخص مخالفین كے چنگل میں گرفتار ہوجاتا تو كیا اسے صراحت كے ساتھ كہہ دینا چاہیے كہ میرا یہ عقیدہ ہے چاہے اس كا خون بہہ جائے اور اس كے خون بہنے كا نہ كوئی فائدہ ہو اور نہ كوئی تاثیر؟
2۔جناب فخر رازى اس آیت (الا ان تتقوا منہم تقاة )(6)كى تفسیر میں كہتے ہیں كہ آیت كا ظہور یہ ہے كہ تقیہ غالب كافروں كے مقابلے میں جائزہے ( الا ان مذہب الشافعى ۔رض۔ان الحالة بین المسلمین اذا شاكلت الحالة بین المسلمین و المشركین حلّت التقیہ محاماة على النفس ) لیكن مذہب شافعى یہ ہے كہ اگر مسلمانوں كى كیفیت بھى ایك دوسرے كے ساتھ مسلمین و كفار جیسى ہوجائے تو اپنى جان كى حفاظت كے لئے تقیہ جائزہے ۔
اس كے بعد حفظ مال كى خاطر تقیہ كے جواز پر دلیل پیش كرتے ہیںكہ حدیث نبوى ہے (حرمة مال المسلم كحرمة دمہ ) مسلمان كے مال كا احترام اس كے خون كى مانند ہے ) اور اسى طرح دوسرى حدیث میں ہے (من قتل دون مالہ فہو شہید) جو اپنے مال كى حفاظت كرتے ہوئے ماراجائے وہ شہید ہے (7)۔
تفسیر نیشاپورى میں كہ جو تفسیر طبرى كے حاشیہ پر لكھى گئی ہے یوں بیان كیا گیا ہے كہ قال الامام الشافعى :
(تجوز التقیہ بین المسلمین كما تجوز بین الكافرین محاماة عن النفس ) (8)
امام شافعى فرماتے ہیں كہ جان كى حفاظت كى خاطر مسلمانوں سے تقیہ كرنا بھى جائز ہے ۔ جس طرح كفار سے تقیہ كرنا جائز ہے ۔
3۔دلچسب بات یہ ہے كہ بنى عباس كى خلافت كے دور میں بعض اہل سنت محدثین (قرآن مجید كے قدیم ہونے ) پر عقیدہ ركھنے كیوجہ سے بنو عباس كے حكّام كى طرف سے دباؤ كا شكار ہوئے انہوں نے تقیہ كرتے ہوئے اعتراف كر لیا كہ قرآن مجید حادث ہے اوراس طرح انہوں نے اپنى جان بچا لى ۔
’’ابن سعد‘‘ مشہور مورخ كتاب طبقات میںاور طبرى ایك اور مشہور مورخ اپنى تاریخ كى كتاب میں دو خطوط كى طرف اشارہ كرتے ہیں كہ جو مامون كى طرف سے اسى مسئلہ كے بارے میں بغداد كے پولیس افسر (اسحق بن ابراہیم) كى طرف ارسال كیے گئے ۔
7) حرام تقیہ:
بعض موارد میں تقیہ حرام ہے اور یہ اس وقت ہے كہ جب ایك فرد یا گروہ كے تقیہ كرنے اور اپنا مذہبى عقیدہ چھپا نے سے اسلام كى بنیاد كو خطرہ لاحق ہوتا ہو یا مسلمانوں كو شدید نقصان ہوتا ہو۔ اس وقت اپنے حقیقى عقیدہ كو ظاہر كرنا چاہیے، چاہے ان كے لئے خطرے كا باعث ہى كیوں نہ ہو ۔اور جو لوگ خیال كرتے ہیں كہ یہ اپنے آپ كو ہلاكت میں ڈالنا ہے اور قرآن مجید نے صراحت كے ساتھ اس سے منع فرمایا ہے ( ولا تلقو بایدیكم الى التہلكة) یہ لوگ سخت خطاء سے دوچار ہیں كیونكہ اس كا لازمہ یہ ہے كہ میدان جہاد میں حاضر ہونا بھى حرام ہو حالانكہ كوئی بھى عاقل ایسى بات نہیں كرتا ہے ۔یہاں سے واضح ہوتا ہے كہ یزید كے مقابلے میں امام حسین ۔ كا قیام یقینا ایك دینى فریضہ تھا ۔ اسى لئے امام ۔ تقیہ كے طور پر بھى یزیدیوں اور بنو امیہ كے غاصب خلفاء كے ساتھ كسى قسم كى نرمى دكھانے پر راضى نہ ہوئے۔ كیونكہ وہ جانتے تھے كہ ایسا كرنے سے اسلام كى بنیاد كو شدید دھچكا لگے گا۔ آپ (ع) كا قیام اور آپكى شہادت مسلمانوں كى بیدارى اور اسلام كو جاہلیت كے چنگل سے نجات دلانے كا باعث نبی۔
(مصلحت آمیز ) تقیّہ: یہ تقیہ كى ایك دوسرى قسم ہے اور اس سے مراد یہ ہے كہ ایك مذہب والے ،مسلمانوں كى صفوں میں وحدت برقرار ركھنے كے لئے ان باتوں میں جن سے دین و مذہب كى بنیادكو كوئی نقصان نہیں پہنچتا، دوسرے تمام فرقوں كے ساتھ ہماہنگى اور یكجہتى كا ثبوت دیتے ہیں ۔ مثلا مكتب اہل بیت كے پیرو كار یہ عقیدہ ركھتے ہیں كہ كپڑے اور قالین پر سجدہ نہیں ہوتا اور پتھریا مٹى و غیرہ پر سجدہ كرنا ضرورى ہے ۔اور پیغمبر اكرم (ص) كى اس مشہور حدیث (جعلت لى الارض مسجداً و طہورا)(12) ’’زمین كو میرے لئے محل سجدہ اور وسیلہ تیمّم قرار دیا گیا ہے ‘‘ كو اپنى دلیل قرار دیتے ہیں اب اگر وہ وحدت برقرار ركھنے كیلئے دیگر مسلمانوں كى صفوں میں انكى مساجد میںیامسجد الحرام اور مسجد نبوى میں جب نماز پرھتے ہیں تو ناگزیر كپڑے پر سجدہ كرتے ہیں ۔ یہ كام جائز ہے اور ایسى نماز ہمارے عقیدہ كے مطابق درست ہے اور اسے ہم مدارا كرنے والا ( مصلحت آمیز )تقیہ كہتے ہیں ۔كیونكہ اس میں جان و مال كا خوف دركار نہیں ہے بلكہ اس میں تمام اسلامى فرقوں كے ساتھ مدارا كرنے اورحسن معاشرت كا عنوان در پیش ہے ۔تقیہ كى بحث كا ایك بزرگ عالم دین كے كلام كے ساتھ اختتام كرتے ہیں ۔
ایك شیعہ عالم دین كى مصر میں الازہر كے ایك بزرگ استاد سے ملاقات ہوئی اس نے شیعہ عالم كو سرزنش كرتے ہوئے كہا۔میں نے سنا ہے تم لوگ تقیہ كرتے ہو؟ شیعہ عالم دین نے جواب میں كہا( لعن الله من حملنا على التقیة ) رحمت الہى سے دور ہوں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں تقیہ پر مجبور كیا (13) (ختم شد)
حوالہ جات :
1)سورہ غافر آیت 28۔
2)سورہ آل عمران آیت 28۔
3) سورة النحل آیت 106۔
4) مسند ابى شیبہ ، ج12 ص 358۔
5) بحارالانوار ، جلد 109، ص 254۔
6) سورة آل عمران آیة 28۔
7) تفسیر كبیر فخر رازی، جلد 8 ص 13۔
8) تفسیر نیشابورى (تفسیر الطبرى كے حاشیہ پر) جلد 3، ص 118۔
9) طبقات ابن سعد، جلد 7،ص 167، چاپ بیروت۔
10) یہ شام میں دریا كے كنارے ایك شہر ہے (معجم البلدان جلد4، ص 30)۔
11) تاریخ طبرى جلد 7، ص 197۔
12)صحیح بخارى جلد 1 ص 91و سنن بیہقى ،جلد 2 ص 433(اور بھى بہت سى كتب میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے )۔
13) یعنى اگر دشمنوں كى طرف سے ہمارى جان و مال كو خطرہ نہ ہوتا تو ہم كبھى بھى تقیہ نہ كرتے (مترجم)

Login to post comments