×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام مہدی (عج) کا انکار کفر ہے

مرداد 06, 1393 534

مذکورہ بالا صحابہ اور غیر مذکور صحابہ اور ان کے بعد تابعین سے اتنی روایتیں مروی ہیں کہ ان سے علم قطعی حاصل ہوجاتا ہے۔ لہذا ظہور مہدی

پر ایمان لانا واجب ہے جیسا کہ اہل علم کے نزدیک ثابت شدہ ہے اور اہل سنت والجماعت کے عقائد میں مدوّن و مرتب ہے۔
پہلی حدیث:
قال رسول الله(ص) {من انکر المهدی فقد کفر}۔
یہ حدیث شیعہ اور سنی مکاتب کی مشہورترین اور معتبرترین حدیث ہے۔
سنی منابع میں:
عن جابر بن عبد الله رضی الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله علیه وسلم: {من کذب بالدجال فقد کفر، ومن کذب بالمهدی فقد کفر}۔ (1)
جس نے دجال کے وجود اور خروج کو جھٹلایا وه کافر ہے اور جس نے مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہے۔
{من انکر خروج المهدی فقد کفر}۔ (2)
جس نے قیام مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہوا۔
عن جابر رضی الله عنه رفعه {من أنکر خروج المهدى فقد کفر بما انزل على محمد}۔ (3)
جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے روایت مرفوعہ ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ و آله وسلم نے فرمایا: جس نے قیام مہدی (عج) کا انکار کیا وه ان تمام چیزوں پر کافر ہوا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی ہیں۔
اس حوالے سے متعدد حدیثیں شیعہ اور سنی منابع و مصادر سے وارد ہوئی ہیں کہ امام مہدی (عج) کا منکر کافر ہے۔
اہل سنت ہی کی کتابوں میں تصریح ہوئی ہے که امام مہدی علیہ السلام کے قیام کے اثبات کے حوالے سے وارد ہونے والی تمام حدیثیں صحیح ہیں اور یہ حدیثیں ابوداؤد ، ترمذی و احمد و دیگر نے ابن مسعود و دیگر سےنقل کی ہیں ۔
حدیث مستند ہے اور کفر کا معیار بھی واضح ہے۔۔۔ چنانچہ کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ کسی پر کفر کا الزام لگائے ہاں مگر وہ لوگ جو مہدی (ع) کے منکر ہیں؛ ان کو ہم نہیں رسول اللہ (ص) کافر قرادے چکے ہیں۔
حوالہ جات:
1۔ عقد الدرر فی اخبار المنتظر، ج1، ص36۔
2۔ فرائد السمطین، ج2، ص334۔
3۔ لسان المیزان، ابن حجر، ج 5، ص 130۔

Login to post comments