×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

لطم اور قمہ زنی

مرداد 06, 1393 839

سوال:گریبان چاک کرنے اور منہ پر طمانچے مارنے کے حوالے سے واردہ روایت کی علمی حیثیت کیا ہے؟جواب: قمہ زنی کے حامی اس روایت کو

اپنے عمل کو جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں؛ حالانکہ بہت سے علماء کے نزدیک یہ روایت سند کے لحاظ سے بہت ضعیف ہے-
شہید ثانی:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس میں خالد بن سدیر غیر موثق ہے-  (2)
شیخ صدوق لکھتے ہیں: ان کی کتاب کی روایتین جعلی ہیں- (3)
شیخ طوسی و علی بن بابویہ قمی نے بھی ان کی روایات کو قابل قبول نہیں سمجھا ہے- (4)
عظیم محقق آقا رضا ہمدانی لکھتے ہیں:
یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف  ہے اور اصحاب (علماء امامیہ) نے اس سے اعراض و اجتناب کیا ہے چنانچہ اس سے استناد نہیں کیا جاسکتا- (5)
اس روایت کے سلسلۂ سند میں ایک "محمدبن عیسی" ہے جس کو شیخ طوسی نے غالیوں کے فرقے کا فرد گردانا ہے اور شیخ صدوق، علی بن بابویہ اور بہت سے دیگر علماء ان کی منقولات و روایات کو قابل اعتماد نہیں سمجھتے- (6)
دوسری بات یہ ہے کہ مفہوم اور دلیل کے لحاظ سے اس روایت اور دیگر مستند اور صحیح روایات کے درمیان تضادات ہیں-
آیت اللہ سید احمد خوانساری لکھتے ہیں:
اس روایت کی ابتداء اس کی انتہا سے متصادم ہے؛ اگر اس طرح کے اعمال امام صادق (ع) کی نظر مبارک میں حرام ہیں - جن کی حرمت آپ (ع) سے منقولہ دیگر روایات سے بھی ثابت ہے - تو پھر روایت کے آخر میں فاطمیات کے عمل کی طرف اشارے کی ضرورت نہیں تھی- (7)
آیت اللہ العظمی گلپایگانی (رح) لکھتے ہیں:
لطم اور گریبان چاک کرنے جیسے اعمال کے جواز کو امام حسین (ع) کی عزاداری سے مختص کرنا بعید از قیاس ہے؛ کیونکہ یہ دو فعل اسلام میں حرام ہیں تو تحقیقاً فاطمی خواتین نے بھی یہ اعمال انجام نہیں دیئے ہیں؛ خواہ یہ اعمال حضرت امام حسین (ع) کے لئے جائز ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ یہ اعمال لوگوں کی نفرت اور بیزاری کا سبب بنتے ہیں- (8)  
اور اگر ہم مذکورہ دو شبہات کو نظر انداز بھی کریں نتیجہ یہ ہوگا کہ صحرائے کربلا میں سیدانیوں نے اپنے چہروں اور بدن پر طمانچے رسید کئے لیکن لطم کا قمہ‏زنی یا زنجیرزنی اور دیگر مشابہ اعمال سے کوئی بھی ربط و تعلق نہیں بنتا-
حوالہ جات:
1- وسائل الشیعہ، ج3، ص 402؛ تهذیب الاحکام، ج8، ص 325-
2- مسالک الافهام، ج10، ص27-
3- مصباح الفقیه، ج 1، ص430-
4- مصباح بحوالہ الفہرست-
5- مصباح الفقیه، ج 1، ص430
6- الفهرست، ص 140-
7- جامع المدارک، ج 5، ص14-
8- کتاب الطهارہ الاول، ص 218-
سوال:
لطم کے بارے میں وارد ہونے والی روایت کے بارے میں علماء کی رائے کیا ہے؟
جواب:
آیت اللہ کاشف الغطاء (رح) فرماتے ہیں:
فقہی قواعد اور شرعی استنباط کے ضوابط اور اصولوں کے مطابق چہرے پر لطمہ مارنے اور قمہ زنی، زنجیرزنی وغیرہ کے بارے میں رائے دیتے وقت، حرمت کے علاوہ کوئی دوسرا حکم نظر نہیں آتا اور حرمت و ممنوعیت کا فتوی دینے کے سوا چارہ نہیں ہے- کیونکہ: شریعت میں جسم کو ایذا رسانی اور جان کو خطرے میں ڈالنے کا عام حکم، حرمت ہے اور اس کی عمومیت کے لئے کوئی مُخَصِّص موجود نہیں ہے یعنی ایسی دلیل موجود نہیں ہے جو اس حکم میں استثناء کی بنیاد بن سکے) اور قمہ زنی اور زنجیر زنی کو حرمت کے حکم سے خارج کر سکے--- اور پھر اس قسم کے اعمال انجام دینے والے افراد کی اکثریت کا محرک دکھاوا یا پھر تعصب اور چاپلوسی ہے، بغیر اس کے کہ ان کی نیت درست اور قصد و ارادہ نیک ہو- چنانچہ اس لحاظ سے بھی یہ اعمال بےعیب نہیں ہیں بلکہ ان کی حرمت بعض عصری اور جغرافیائی دلائل کی بنا پر دو گنا ہو چکی ہے- (1)
اس روایت سے اپنے دعووں کے اثبات کی غرض سے استفادہ کرنے والوں کو امام (ع) کی ہدایات اور وصایا سے رجوع کرنا چاہئے:
امام (ع) نے شب عاشورا سیدانیوں سے فرمایا: "بہن ام کلثوم، اور آپ میری بہن زینب! اور تم اے رباب! – میری شہادت پر گریبان چاک مت کرنا، چہرے مت خراشنا اور ناروا باتیں زبان پر جاری نہ کرنا"- (2)
امام باقر (ع) فرماتے ہیں: امام حسین (ع) مدینہ سے روانہ ہوئے تو ہاشمی خواتین نوحہ سرائی میں مصروف ہوئیں، حتی کہ امام (ع) نے فرمایا: "تمہیں خدا کی قسم دلاتا ہوں کہ کہیں تمہارے یہ اعمال خدا اور رسول (ص) کی نافرمانی کے زمرے میں نہ آئیں"- (3)  
یہاں امام (ع) کے فرمان کا مطلب کم از کم یہی ہے کہ قمہ زنی اور زنجیرزنی تور درکنار، خدش و خراش اور خمش و لطم اور گریبان چاک کرنا بھی، جائز نہیں ہے-
صاحب "جواہرالکلام"، خالد بن سدیر کی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:
"فاطمی خواتین کے بارے میں منقولہ روایت سے استناد اس امر پر موقوف ہے کہ ان کا فعل باپ اور بھائی کے سوا کسی اور کے لئے ہو- اور اس قول کا سہارا لینا اور اسے قبول کرنا ـ کہ امام سجاد (ع) ان کے فعل سے آگاہ تھے تاہم خاموش رہے اور اس خاموشی کا مطلب یہ تھا کہ آپ (ع) ان کے اس فعل سے راضی تھے ـ صحرا کے کانٹوں کو ہاتھ لگانے سے بھی زیادہ مشکل ہے"- (4)
حوالہ جات:
1- الفردوس الأعلاء، ص 22-19-
2- اللہوف، ص 141-140-
3- کامل الزیارات، ص195، ح275-
4- جواہر الکلام، ج 4، ص371-
سوال:
لطم کے معنی کیا ہیں اور کیا یہ لفظ لغت و شریعت کے لحاظ سے قمہ‏زنی یا زنجیرزنی پر دلالت کرتا ہے؟
جواب:
لطم ثُلاثی مجرد کا مصدر ہے جس کے ماضی کا صیغہ لَطَمَ بنتا ہے - عربی لغات کی کتابوں میں لطم کے بارے میں آیا ہے کہ اس کے معنی {ضربُ الخدِّ و صَفَحاتِ الجسمِ بِبَسطِ الیدِ او بِالكفِّ مَفتوحةً}- (1) ہیں"لطم یعنی ضربه زدن با کف دست و سیلی زدن"- (2)؛ یعنی: رخساروں اور بدن کے مختلف حصوں پر کھلے ہاتھ اور ہتھیلی کے ساتھ طمانچے اور تھپڑ مارنا" اور اس کا مفہوم قمہ اور چاقو یا زنجیر کے ساتھ سر، سینے اور بدن پر خراش اور زخم وارد کرنا ہرگز نہیں بنتا!
اس معنی و مفہوم کو ابن سدیر کی روایت سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کیوں کہ روایت کی ابتدا میں چہرے پر خراش کے لئے کفارہ مقرر کیا گیا ہے-
اس روایت میں چہرے یا بدن پر طمانچے مارنے کے عمل کو کفارے کے دائرے سے خارج کردیا گیا ہے اور اس کے لئے استغفار کا حکم ہے- اس سے مراد یہ ہے کہ لطمہ یا طمانچہ خدش سے بالکل مختلف ہے- اور لغت عرب میں خدش کی تشریح میں آیا ہے کہ «خدش یعنی، خراش ڈالنا، پارہ پارہ کرنا، پھاڑنا، مخدوش کرنا اور زخمی کرنا- (3) چنانچہ اگر ان اعمال کے حامی افراد اپنے اعمال کے لئے سند و حدیث میں کوئی دلیل ڈھونڈنا چاہیں تو انہیں لطم کی بجائے خدش کے موضوع پر وارد ہونے والی روایات ڈھونڈنا ہوں گے- گو کہ عزاداری اور مصیبت و الم و ماتم کے اظہار پر دلالت کرنے والی کوئی بھی روایت قمہ‏زنی، زنجیرزنی اور اس قسم کے دوسرے کسی فعل و عمل کے اثبات کے لئے بروئے کار نہیں لائی جاسکتی اور ان اعمال کو ثابت نہیں کرتی- اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ اس قسم کے افعال کے لئے تاریخ اسلام میں کوئی نمونہ نہیں ملتا اور اسی سلسلے میں ہماری دینی روایات و احادیث میں ان کا کوئی بھی ثبوت میسر نہیں ہے-
حوالہ جات:
1- کتاب‏العین، ج 7، ص 433-
2- ویقال لطمت المرأة وجهها لطما من باب ضرب: ضربته بباطن کفها (لسان‏العرب، ج 12، ص 542؛ مجمع‏البحرین، ج 6، ص 162)-
3- فرہنگ فارسی عمید-
سوال:
مصیبت میں گریبان چاک کرنے اور منہ پر طمانچے مارنے کے حوالے سے وارد ہونے والی روایت کی تفصیل کیا ہے؟
جواب:
یہ خالد بن سدیر کی روایت ہے جو علماء کی نگاہ میں ایک معتبر روایت نہیں ہے اس روایت کا مکمل کچھ یوں ہے: خالد بن سدیر کہتے ہیں کہ میں نے امام (ع) سے اس مرد کے بارے میں سوال کیا جو اپنے والد یا والدہ یا بھائی یا کسی قریبی رشتہ دار کی مصیبت میں اپنا لباس پھاڑ دیتا ہے؛ میں نے پوچھا کہ کیا یہ عمل صحیح ہے؟
حنان بن سدیر کے بھائی خالد بن سدیر کہتے ہیں:
{قَالَ لَا بَأْسَ بِشَقِّ الْجُیوبِ قَدْ شَقَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ عَلَى أَخِیهِ هَارُونَ وَ لَا یشُقَّ الْوَالِدُ عَلَى وَلَدِهِ وَ لَا زَوْجٌ عَلَى امْرَأَتِهِ وَ تَشُقُّ الْمَرْأَةُ عَلَى زَوْجِهَا وَ إِذَا شَقَّ زَوْجٌ عَلَى امْرَأَتِهِ أَوْ وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ فَكفَّارَتُهُ حِنْثُ یمین وَ لَا صَلَاةَ لَهُمَا حَتَّى یكفِّرَا وَ یتُوبَا مِنْ ذَلِك وَ إِذَا خَدَشَتِ الْمَرْأَةُ وَجْهَهَا أَوْ جَزَّتْ شَعْرها أَوْ نَتَفَتْهُ فَفِی جَزِّ الشَّعْرِ عِتْقُ رَقَبَةٍ أَوْ صِیامُ شَهرین مُتَتَابِعَینِ أَوْ إِطْعَامُ سِتِّینَ مِسْكیناً وَ فِی الْخَدْشِ إِذَا دَمِیتْ وَ فِی النَّتْفِ كفَّارَةُ حِنْثِ یمین وَ لَا شَی‏ءَ فِی اللَّطْمِ عَلَى الْخُدُودِ سِوَى الِاسْتِغْفَارِ وَ التَّوْبَةِ وَ قَدْ شَقَقْنَ الْجُیوبَ وَ لَطَمْنَ الْخُدُودَ الْفَاطِمِیاتُ عَلَى الْحُسَینِ بْنِ عَلِی (ع)وَ عَلَى مِثْلِهِ تُلْطَمُ الْخُدُودُ وَ تُشَقُّ الْجُیوبُ}- (1)
امام (ع) نے فرمایا: لباس پھاڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ موسی (ع) نے اپنے بھائی ہارون کے لئے اپنا لباس پھاڑ دیا- البتہ باپ اپنے بیٹے کے لئے اور شوہر اپنی بیوی کی موت پر قمیص نہیں پھاڑ سکتا؛ جبکہ بیوی اپنے شوہر کی موت پر لباس پھاڑ سکتی ہے اور اگر باپ اپنے بیٹے کے غم میں اور مرد نے اپنی بیوی کے سوگ میں لباس پھاڑ ڈالے تو اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہے- اور ان دو کی نماز قابل قبول نہیں ہے جب تک کہ کفارہ ادا نہیں کرتے- جب عورت اپنے چہرے کو ناخنوں سے خراش دے یا اپنے بالوں کو کاٹ دے یا نوچ لے تو بال کاٹنے کے عوض اس کو ایک غلام آزاد کرنا پڑے گا یا دو ماہ تک مسلسل روزہ رکھنا پڑے گا یا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا- اگر چہرے کو خراش دے اور چہرے سے خون نکلے اور اسی طرح اگر اپنے بال نوچ لے تو اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہے لیکن اگر وہ چہرے پر لطمہ (طمانچہ) مارے تو اس کو استغفار کرنا چاہئے- اور لطم کا کوئی کفارہ نہیں ہے- اور بےشک بنی ہاشم کی سیدانیوں (فاطمیات) نے امام حسین (ع) پر کپڑے پھاڑ ڈالے اور اپنے چہروں پر تمانچے رسید کئے اور امام حسین (ع) کی مانند شخصیات پر منہ پر طمانچے رسید کئے جاتے ہیں اور گریباں چاک کئے جاتے ہیں-
حوالہ جات:
1- وسائل الشیعہ، ج 15، ص 583؛ تهذیب الاحکام، ج8، ص 325-

Login to post comments