×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

خرافہ کیا ہے؟

مرداد 09, 1393 546

سوال:خرافہ کیا ہے، اور ہم خرافات کے مصادیق کو کیونکر پہچان سکتے ہیں؟جواب: دوسری طرف سے واضح ہے کہ اسلامی شریعت میں تمام

انسانوں کو شرعی احکام کا خطاب سارے انسانوں سے ہے اور ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ ہم کہیں کہ ہمارے پاس ایسے احکام ہیں جن کا خطاب صرف علماء سے ہے یا مثلا ایسے احکام ہوں جن کا خطاب جاہل افراد سے ہو؛ اور صورت حال ایسی ہو کہ بعض احکام علماء کے لئے ہوں اور بعض دیگر احکام جہلاء کے لئے ہوں یا مثلا کوئی ایک حکم آبرومند انسانوں کے لئے ہو اور ایک خاص حکم پست اور حقیر انسانوں کے لئے ہو ... پس کہنا پڑتا ہے کہ تمام شرعی احکام میں تمام مسلمان شریک ہیں؛ چاہے یہ احکام واجب ہوں یا مستحب ہوں. اگر ہمارا مطلوبہ حکم مستحب ہو تو سب کے لئے مستحب ہوگا چاہے وہ عالم ہوں یا عام لوگ ہوں. تاہم ہم نے پوری تاریخ میں ایم بھی عالم دین نھیں دیکھا جس نے یہ اعمال انجام دئے ہوں اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ علماء ان اعمال کو مستحب نہیں سمجھتے تھے اور انہیں قربت الہی کا سبب نہیں گردانتے تھے اور میں بھی ابھی تک کسی بھی ایسے عالم کو نہیں جانتا جو عزاداری کی ان صورتوں پر اصرار کررہا ہو اور میں نی کبھی بھی نہیں دیکھا کہ مثلا کوئی عالم قمہ زنی کی رسم بجالایا ہو. پس اگر (ان حقائق کے باوجود) ایسا کوئی عالم ہے جو ان اعمال پر اصرار کرتا ہے اور انہیں مستحب سمجھتا ہے میرا اعتقاد یہ ہے کہ سب سے پہلے خود اسی کو قمہ زنی کرنی چاہئے اور پھر اس عمل کو ہمیشہ جاری رکھنا چاہئے تا کہ لوگ بھی اس کی اقتدا کریں اور میں خود اس امر کا عینی شاہد رہا ہوں کہ مرجع کبیر آیت اللہ العظمی سید محسن حکیم تسلسل کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ «بے شک قمہ زنی وہ غم و اندوہ ہے جو ہمارے گلے میں اٹکا ہوا ہے» پس مرحوم حکیم قمہ زنی کے بارے میں آیت اللہ العظمی حکیم کی رائے یہ تھی، مگر جب ان سے پوچھا جاتا تو جواب میں تحریر فرماتے کہ: اگر قمہ زنی جسمانی نقصان اور مذہب اہل بیت (ع) اور اہل تشیع کے ہتک حرمت کا باعث ہو تو حرام ہے.
 (شعائر الحسینیة بین الوعی والخرافة، ص119۔127 )
حوالہ جات:
1۔ مقالہ " شیعہ میڈیا"؛ ایران میں مجالس و رسوم عزاداری کا تاریخی سفر، محسن حسام مظاہری – مجلہ اخبار ادیان – شمارہ 7 اپریل 1979۔
2۔ صوبہ سمنان کے علماء سے رہبر مسلمین کا خطاب. 8/11/2006۔
ترجمہ: فرجت حسین مہدوی

Login to post comments