Print this page

دربار شام میں امام سجاد (ع) کا تاریخی خطبہ

مرداد 09, 1393 958
Rate this item
(0 votes)

امام سجاد (ع) خاندان رسالت (ص) کے دوسرے افراد کے ہمراہ کوفہ اور شام لے جائے جاتے ہیں اور اپنی پھوپھی محترمہ سیدہ زینب (س) کے

ہمراہ فاسد و بدعنوان اموی خاندان کی حقیقت بےنقاب اور ثاراللہ (ع) کے مقدس مشن کو صحیح اور سیدھے راستے کے طور پر متعارف کرکے حسینی مشن کی تکمیل کا اہتمام کیا۔
امام سجاد (ع) نے کوفہ اور شام میں بھی اور کوفہ سے شام کے راستے میں بھی، اپنے افشاء کر دینے والے خطبوں کے ذریعے قیام حسینی (ع) کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا جبکہ حضرت زینب (س) اور فاطمہ صغری (س) کے خطبے بھی امام سجاد (ع) کے زیر نگرانی و ہوا کرتے تھے۔
امام سجاد (ع) نے ہر موقع اور مناسبت سے فائدہ اٹھا کر تحریک عاشورا کو زندہ رکھنے کی کامیاب کوشش کی؛ جب پانی لایا جاتا آپ (ع) اپنے والد ماجد کو یاد کرتے اور جب چچا ابوالفضل (ع) کے بچوں کو دیکھتے، آنسو بہاتے اور جب کوئی بکرا یا دنبہ ذبح کرتا تو آپ (ع) پوچھتے: کیا تم نے اس کو پانی پلایا ہے؟ جب وہ ہاں میں جواب دیتے تو آپ (ع) فرماتے: لیکن دشمنوں نے میرے بابا حسین (ع) کو پیاسا شہید کیا؛ اور آپ (ع) کے یہ اقدامات امام حسین (ع) کی الہی تحریک کو فراموش نہیں ہونے دیتے تھے۔
دو صفر سنہ 61 ہجری کے دن خاندان رسالت (ص) کو ایسے حال میں شام میں داخل کیا گیا کہ عرصہ چالیس سال سے اس سرزمین پر امیرالمومنین (علیہ السلام) اور اس خاندان کے خلاف زہریلی تشہیری مہم چلائی گئی تھی اور معاویہ نے زرپرست کرائے کے خطیبوں کو مامور کیا تھا کہ منبر رسول (ص) پر بیٹھ کر رسول اللہ (ص) کے بھائی امیرالمومنین (ع) کو برا بھلا کہا جائے اور آپ (ع) کے خلاف دشنام طرازی کریں۔
حوالہ جات:
1۔ بحار الانوار ـ ج 45 ص 139۔
اس عرصے میں اہل شام نے اسلام کو امویوں کی آنکھ سے دیکھا تھا اور معاویہ کی جھوٹی تشہیری مہم کی وجہ سے وہ امویوں کو رسول اللہ (ص) کے پسماندگان اور اہل خاندان کے طور پر جانتے تھے۔ انہیں رسول اللہ (ص) کے دیدار کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا اور انہیں امویوں نے بتایا تھا اور صرف یہی جانتے تھے کہ ایک "خارجی" کو قتل کیا گیا ہے جس نے "امیر مومنین یزید بن معاویہ کے خلاف خروج کیا تھا" اور اب اس کے خاندان کو قید کرکے شام لایا جارہا ہے؛ جبکہ کوفیوں کو معلوم تھا کہ قتل اور اسیر کئے جانے والے افراد کون ہیں اور کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ شامیوں نے "اس فتح کے شکرانے کے طور پر (!) شہر کی تزئین و آرائش کی تھی اور جشن منارہے تھے۔
امام سجاد (ع) کا موثر ترین اور حساس ترین خطبہ وہی تھا جو آپ (ع) نے دمشق کی مسجد میں دیا اور اس کی وجہ سے شام کے عوام نے معاویہ کے زمانے سے لے کر یزید کے زمانے تک ہونے والی یزیدی تشہیر کی حقیقت کو سمجھ لیا اور خاندان ابوسفیان کے سلسلے میں عوام کی نگاہ بالکل بدل گئی۔
اس مجلس میں یزید نے اپنے ایک درباری خطیب کو حکم دیا کہ علی اور آل علی (علیہم السلام) کی مذمت اور المیۂ کربلا کی توجیہ اور یزید کی تعریف کرے۔
خطیب منبر پر چڑھ گیا اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد امیرالمومنین اور امام حسین (علیہما السلام) کی بدگوئی اور معاویہ اور یزید کی تمجید و تعریف میں مبالغہ کیا اور طویل خطبہ دیا۔ اسی حال میں امام سجاد (علیہ السلام) نے کرائے کے خطیب سے مخاطب ہو کر بآواز بلند فرمایا: اے خطیب! وائے ہو تم پر کہ تم نے مخلوق کی خوشنودی کے وسیلے سے خالق کا غضب خرید لیا۔ اب تم دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں اپنا ٹھکانہ تیار سمجھو اورخود کو اس کے لئے تیار کرو۔ اور پھر یزید سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اجازت دو گے کہ میں بھی لوگوں سے بات کروں؟
حولہ جات:
1۔ بحار الانوار ـ ج 45 ص 139۔
یزید امام (ع) کے رسوا کردینے والے کلام سے خوفزدہ تھا چنانچہ اس نے اجازت نہیں دی۔ مگر یزید کے بیٹے معاویہ نے اپنے باپ سے کہا: اس مرد کا خطبہ کتنا موثر ہوگا! کہنے دو جو وہ کہنا چاہتا ہے!
یزید نے جواب دیا: تم اس خاندان کی صلاحیتوں سے بےخبر ہو انہیں علم و فصاحت ایک دوسرے سے ورثے میں ملتی ہے، مجھے خوف ہے کہ اس کا خطبہ شہر میں فتنہ انگیزی کا سبب بنے اور ہمارا گریبان بھی پکڑ لے۔
تاہم عوام نے بھی اصرار کیا کہ امام سجاد (ع) کو منبر پر بیٹھنے دیا جائے۔
یزید نے کہا: وہ منبر پر بیٹھے گا تو نیچے نہیں اترے گا جب تک مجھے اور خاندان ابوسفیان کو رسوا نہ کردے۔
آخر کار شامیوں کے اصرار پر یزید نے اتفاق کیا کہ امام (ع) منبر پر رونق افروز ہوں۔
آپ (ع) نے منبر پر بیٹھ کر ایسا خطبہ دیا کہ کہ لوگ کی آنکھیں اشک بار ہوئیں اور ان کے قلب خوف و وحشت سے بھر گئے۔
امام سجاد (علیہ السلام) نے فرمایا:
فرمایا: اے لوگو! خداوند متعال نے ہم خاندان رسول (ص) کو چھ خصلتوں سے نوازا اور سات خصوصیات کی بنا پر ہمیں دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی؛ ہماری چھ خصلتیں: علم، حلم، بخشش و سخاوت، فصاحت اور شجاعت، اور مومنین کے دل میں ودیعت کردہ محبت سے عبارت ہیں اور ہمیں برتری عطا کی سات خصوصیات کی بنا پر: خدا کے برگزیدہ پیغمبر حضرت محمد (ص)، صدیق اکبر (امیرالمومنین علی) جعفر طیار، شیر خدا اور شیر رسول خدا حمزہ سیدالشہداء، اس امت کے دو سبط حسن و حسین (ع)، زہرائے بتول اور مہدی امت (علیہم السلام) ہم سے ہیں۔
لوگو! [اس مختصر تعارف کے بعد] جو مجھے جانتا ہے سو جانتا ہے اور جو مجھے نہیں جانتا میں اپنے خاندان اور آباء و اجداد کو متعارف کرواکر اپنا تعارف کراتا ہوں۔
لوگو! میں مکہ و مِنٰی کا بیٹا ہوں، میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں، میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جس نے حجرالاسود کو اپنی عبا کے پلو سے اٹھاکر اپنے مقام پر نصب کیا، میں بہترینِ عالم کا بیٹا ہوں، میں بہترین طواف کرنے والوں اور بہترین لبیک کہنے والوں کا بیٹا ہوں؛ میں اس کا بیٹا ہوں جو براق پر سوار ہوئے، میں اس کا بیٹا ہوں جس نے ایک ہی شب مسجدالحرام سے مسجدالاقصٰی کی طرف سیر کی، میں اس کا بیٹا ہوں جس کو جیرائیل سدرۃالمنتہی تک لے گیا، میں اس کا بیٹا ہوں جو زیادہ قریب ہوئے اور زیادہ قریب ہوئے تو وہ تھے دو کمان یا اس سے کم تر کے فاصلے پر؛ میں اس کا بیٹا ہوں جس نے آسمان کے فرشتوں کے ساتھ نماز ادا کی؛ میں اس رسول (ص) کا بیٹا ہوں جس کو خدائے بزرگ و برتر نے وحی بھیجی؛ میں محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور علی مرتضی (علیہ السلام) کا بیٹا ہوں۔
حوالہ جات:
1۔ بحار الانوار ـ ج 45 ص 139۔
میں اس کا بیٹا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سامنے اور آپ (ص) کے رکاب میں دو تلواروں اور دو نیزوں سے جہاد کیا اور دوبار ہجرت کی اور دوبار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ہاتھ پر بیعت کی اور بدر و حنین میں کفار کے خلاف شجاعانہ جہاد کیا اور لمحہ بھر کفر نہیں برتا؛ میں اس کا بیٹا ہوں جو مومنین میں سب سے زیادہ نیک و صالح، انبیاء (علیہم السلام) کا وارث، ملحدین کا قلع قمع کرنے والا، مسلمانوں کا امیر، مجاہدوں کا روشن چراغ، عبادت کرنے والوں کی زینت، خوف خدا سے گریہ و بکاء کرنے والوں کا افتخار ہے، میں سب سے زیادہ صبر و استقامت کرنے والے اور آل یسین (یعنی آل محمد (ص)) میں سب زیادہ قیام و عبادت کرنے والے والے کا بیٹا ہوں۔ میں اس کا بیٹا ہوں جس کو جبرائیل (ع) کی تائید و حمایت اور میکائیل (ع) کی مدد و نصرت حاصل تھی، میں مسلمانوں کی ناموس کے محافظ و پاسدار کا بیٹا ہوں۔ میں اس کا بیٹا ہوں جو مارقین (جنگ نہروان میں خوارج)، ناکثین (پیمان شکنوں اور اہل جمل) اور قاسطین (صفین میں معاویہ اور اس کے انصار) کے خلاف لڑا اور اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا۔
میں تمام قریش کے بہترین فرد کا بیٹا ہو، میں اولین مومن کا بیٹا ہوں جس نے خدا اور رسول (ص) کی دعوت پر لبیک کہا اور سابقین میں سب سے اول، متجاوزین اور جارحین کو توڑ کر رکھنے والا، مشرکین کو نیست و نابود کرنے والا تھا اور منافقین کے لئے خدا کے تیروں میں سے ایک تیر کی مانند تھا، خدا کے بندوں کے لئے زبان حکمت، دین خدا کی مدد کرنے والا اور اس کے امور کا ولی اور حکمت خدا کے کا بوستان اور علم الہی کا حامل تھا۔
وہ جوانمرد، سخی، حسین چہرے کے مالک، تمام نیکیوں اور اچھائیوں کے جامع، سید و سرور، پاک و طاہر، بزرگوار، ابطحی، اللہ کی مشیت پر بہت زیادہ راضی، دشواریوں میں پیش قدم، صابر و با استقامت، ہمیشہ روزہ رکھنے والے، ہر آلودگی سے پاک، بہت زیادہ نمازگزار اور بہت زیادہ قیام کرنے والے تھے؛ انھوں نے دشمنان اسلام کی کمر توڑ دی، اور کفر کی جماعتوں کا شیرازہ بکھیر دیا؛ وہ قلب ثابت و قوی اور محکم ارادے اور عزم راسخ کے مالک تھے؛ اور شیر دلاور کی طرح، جب جنگ کے دوران نیزے آپس میں ٹکراتے اور جب فریقین کی اگلی صفیں قریب ہوجاتیں، کفار کو چکی کی مانند پیس دیتے تھے اور آندھی کی مانند منتشر کردیتے تھے۔ وہ حجاز کے شیر اور عراق کے بزرگ اور آقا و سرور ہیں۔
حوالہ جات:
1۔ بحار الانوار ـ ج 45 ص 139۔
وہ حجاز کے شیر اور عراق کے سید و آقا ہیں جو مکی و مدنی و خیفی و عقبی، بدری و اُحُدی و شجری اور مہاجری ہیں جو تمام میدانوں میں حاضر رہے اور وہ سیدالعرب ہیں، میدان جنگ کے شیر دلاور، اور دو مشعروں کے وارث (اس امت کے دو) سبطین "حسن و حسین (ع)" کے والد ہیں؛ ہاں! یہ میرے دادا علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔
اور پھر فرمایا: میں دو جہانوں کی سیدہ فاطمہ زہراء (علیہا السلام) کا بیٹا ہوں۔۔۔
حضرت سجاد نے یہ مفاخرہ آمیز کلام اس قدر جاری رکھا کہ لوگوں کی آوازیں آہ و بکاء سے بلند ہوئیں۔ یزید شدید خوف میں مبتلا ہوا کہ کہیں اہل شام اس کے خلاف اٹھ نہ کھڑے ہوں چنانچہ اس نے مؤذن کو حکم دیا کہ اٹھ کر اذان دے اور امام سجاد (ع) کے کلام کو قطع کردیا۔
جب مؤذن نے کہا:
اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ
حضرت سجاد (ع) نے فرمایا: کوئی چیز خدا سے بڑی نہیں ہے۔
جب مؤذن نے کہا:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
علی بن الحسین (ع) فرمایا: میرے بال، میری جلد، میرا گوشت اور میرا خون سب اللہ کی وحدانیت پر گواہی دیتے ہیں۔
مؤذن نے کہا:
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ
تو امام (ع) نے سر سے عمامہ اتارا اور مؤذن سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے مؤذن! تمہیں اسی محمد (ص) کا واسطہ، یہیں رک جاؤ ، تا کہ میں ایک بات کہہ دوں؛ اور پھر منبر کے اوپر سے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اے یزید! کیا یہ محمد (ص) میرے نانا ہیں یا تمہارے؟ اگر کہوگے کہ تمہارے نانا ہیں تو جھوٹ بولوگے اور کافر ہوجاؤگے اور اگر سمجھتے ہو کہ میرے نانا ہیں تو بتاؤ کہ تم نے کیوں ان کی عترت اور خاندان کو ظلم کے ساتھ قتل کیا، ان کے اموال کو لوٹ لیا اور ان کے خاندان کو اسیر بنایا؟! امام سجاد (ع) نے یہ جملے ادا کئے اور اپنے گریبان کو چاک کیا اور روئے اور فرمایا:
خدا کی قسم! اگر اس دنیا میں کوئی ہو جس کا جدّ رسول اللہ ہو وہ صرف میں ہوں؛ پس تم نے میرے باپ کو کیوں قتل کیا اور ہمیں رومیوں کی طرح قید کیوں کیا۔ اور فرمایا: اے یزید تم اس عظیم جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد بھی کہتے ہو کہ "محمد (ص) رسول خدا ہیں؟! اور قبلہ رخ ہوکر کھڑے ہوتے ہو؟! واے ہو تم پر! قیامت کے روز میرے جد (رسول اللہ اور امیرالمومنین) اور میرے والد (امام حسین) تمہارے دشمن ہیں۔
یزید نے چلا کر مؤذن سے اقامہ کہنے کو کہا اور لوگوں کے درمیان شور اٹھا اور بعض نے نماز ادا کی اور بعض نے مسجد ترک کردی اور منتشر ہوئے۔
امام سجاد علیہ السلام نے اپنا بلیغ خطبہ مکمل کیا مسجد میں موجود لوگوں کو سخت متاثر کیا اور ان کو بیدار کردیا اور انہیں تنقید و احتجاج کی جرات ملی۔
حوالہ جات:
1۔ بحار الانوار ـ ج 45 ص 139۔

Login to post comments