×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام مھدی (ع) کی آمد پر تمام فرقے متفق

مرداد 09, 1393 453

مھدویت  تاریخ اسلام اور دور حاضر کا ایک اہم موضوع ہے  اور امام مھدی پر شیعہ اور سنی دونوں ہی  ایمان رکھتے ہیں ۔  حضرت مہدی علیہ السلام

کی آمد پر تمام اسلامی فقہوں سے تعلق رکھنے  والے افراد یقین رکھتے ہیں ۔ سب کے سب یہ بھی مانتے ہیں کہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے ہو گا ،ان کے ہم نام ہوں گے اور علی و فاطمہ علیھما السلام کی نسل مبارک سے ہوں گے اور جب ظہور فرمائیں گے تو وہ دنیا کہ جو ظلم و جور سے پر ہو چکی ہو گی اسے عدل و انصاف سے پر کریں گے اور اسلامی مفکرین اور دانشوروں کا یہ اتفاق اس بنا پر ہے کہ امام مہدی (عج) کے حوالے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ سے احادیث متواتر بلکہ ان سے بڑھ کر احادیث وارد ہوئی ہیں ۔
اہل مطالعہ و تحقیق جانتے ہیں کہ کتب اہل سنت میں احادیث ظہور حضرت مہدی(عج) اتنی زیادہ ہیں کہ جو بھی غیر جانب دارانہ اورانصاف کے ساتھ ان کی طرف رجوع کرے گا اسے اس بات کا یقین حاصل ہو جائے گا کہ ان سب کی دلالت اس بات پر ہے کہ وجود مہدی(عج) اسلام ومسلمین کے ان مسلم عقاید وموضوعات میں ہے کہ جن کا بیچ خود حضور پاک(ص) نے بویا، اورآئمہ علیہم السلام اور اصحاب کرام نے ان کی آبیاری کی ہے ، لہذا یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وجود ظہور حضرت امام مہدی(عج) کے بارے میں متون اسلامی میں جتنی حدیثیں وارد ہوئیں ہیں اتنی احادیث کسی اورموضوع کے بارے میں وارد نہیں ہوئیں ہیں ، واضح رہے ابتداءبعثت سے حجة الوادع تک پیغمبر اکرم(ص) نے سینکڑوں مرتبہ حضرت مہدی (عج) کے بارے میں گفتگو کی ہے ، اورعہد رسول اکرم(عج) سے ہی لوگ ان کے انتظار میں دن گنتے تھے یہاں تک کہ کبھی تو بعض لوگ کسی کو اس کا حقیقی مصداق سمجھ بیٹھے تھے، ان سے متعلق شیعہ وسنی دونوں راویوں نے احادیث نقل کی ہے، ان کے رایوں میں عرب، عجم ، مکی ومدنی ،کوفی بغدادی، بصری، قمی ، کرخی، بلخی ، خراسانی ، وغیرہم شامل ہیں ، کیا ان ہزاروں سے زائد احادیث کے باوجود کوئی مسلمان وجود مہدی(عج) کے بارے میں شک کرے گا اوریہ کہے گا کہ یہ احادیث متعصب شیعوں نے جعل کرکے پیغمبراکرم(عج) کی طرف منسوب کر دیں ہیں ؟

Login to post comments