×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام مہدی (عج) کا قرآنی تعارف

مرداد 09, 1393 423

سوال یہ ہے کہ کیا قرآن میں امام مہدی (ع) کا ذکر آیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ شخصیات کو کبھی براہ راست متعارف کرایا جاتا ہے جس طرح سورہ

آل عمران کی آیت 144 میں رسول اللہ (ص) کو متعارف کیا گیا ہے؛ کبھی اعداد کے ذریعے، جیسے سورہ مائدہ کی آیت 12 جیسے میں بارہ نقباء کو متعارف کیا گیا ہے، یا صفات و خصوصیات کے ذریعے متعارف کرایا جاتا ہے جس کی مثال سورہ اعراف کی آیت 157 ہے؛ یا سورہ مائدہ کی آیت 55 جس میں امیرالمومنین (ع) کی ولایت کا اعلان ہے لیکن یہ کام صفات و خصوصیات کے ذریعے انجام دیا گیا ہے۔
موخرالذکر روش ـ جو صفات کے ذریعے کسی شخصیت کو متعارف کرایا جاتا ہے ـ شاید بہترین اور موثرترین روش ہے۔ کیونکہ یہ روش موقع پرستوں اور منفعت پرستوں کا راستہ روک لیتی ہے؛ کیونکہ نام کو جعل کیا جاسکتا ہے لیکن کسی کو خاص صفات سے متصف کرنا اور خصوصیات کا حامل بنانا آسان نہیں ہے۔ چنانچہ خداوند متعال سورہ بقرہ کی آیت 247 میں طالوت کا تعارف نام لے کر کراتا ہے اور بعد کی آیت میں اس کی صفات اور نشانیاں بیان کرتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مہدی (ع) کا نام بھی صریحا قرآن میں ذکر نہیں ہوا ہے جس طرح کہ امیرالمومنین (ع) اور دوسرے ائمہ (ع) کے نام بھی قرآن میں صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئے ہے اور ناموں پر عدم تصریح مصلحتوں پر استوار ہے جو صرف اللہ کو معلوم ہیں؛ تاہم جان لینا چاہئے کہ نام ذکر کرنا شخصیات کے تعارف کا ذریعہ نہیں ہے اور صفات و خصوصیات سے بھی تعارف کرایا جاسکتا ہے؛ چنانچہ امیرالمومنین اور ائمہ معصومین (ع) کی طرح امام مہدی (ع) کو بھی صفات و خصوصیات کے ذریعے متعارف کرایا گیا ہے۔
قرآن میں حضرت مہدی (ع) کو بعض خصوصیات اور صفات کے ذریعے متعارف کرایا گیا ہے؛ خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے:
{وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ}۔ (1)  
"اور ہم نے ذکر (تورات) کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ اس آیت میں زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے"۔
حافظ سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی امام باقر اور امام صادق (علیہما السلام) سے نقل کرتے ہیں کہ "اس آیت میں خدا کے صالح بندوں سے مراد مہدی (عج) اور ان کے اصحاب ہیں"۔ (2)
مجموعی طور پر مہدویت کے تفکر کی جڑیں کلام الہی میں پیوست ہیں جو انسانی معاشرے کی، تمام پہلووں میں، عدل تک رسائی سے عبارت ہے۔ مہدویت کے محققین کی رائے کے مطابق قرآن کی 250 سے زائد آیات کا تعلق حضرت مہدی (ع) سے ہے اور اور رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومین (ع) سے مروی پانچ سو احادیث و روایات ان آیات کریمہ کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں۔ (3)  
لیکن ہم یہاں ان آیات کریمہ اور احادیث شریفہ کو بوجہ اختصار، ذکر کرنے سے معذور ہیں؛ شائقین ذیل کے منابع سے رجوع کرسکتے ہیں:
1۔ محمد عابدین زاده ، مهدی در قرآن، ناشر: لاهیجی، چ 1380۔
2۔ فروز رضا، مهدی در قرآن، ناشر رایحه، چ 1376۔
3۔ حسینی شیرازی، موعود قرآن، ناشر موسسه امام مهدی۔
4۔ حسینعلی سعدی، فصلنامه تخصصی انتظار، شمارة 6، نام مقاله: شناخت وصایای خورشید پنهان، ص 299۔
5۔ گوردی یزدی، انتظار، ناشر سیمای ولایت، چ 1380۔
6۔ علی اكبر تلافی، آیین انتظار، ناشر موسسه فرهنگی نبا، چ 1378
7۔ علی اكبر مغیثی پور، انتظار فرج، نشر ایستا، چ 1380۔
8۔ تحقیقات جمران، وظایف منتظران، نشر مسجد جمكران، چ 1379۔
9۔ محمد جواد مولوی نیا۔ سیمای مهدویت در قرآن، ناشر: امام عصر، چ 1381۔
مآخذ:
1۔ سورہ انبیاء (21) آیت 105۔
2۔ ینابیع المودہ ـ ج 3 ص 243۔ عقد الدرر مقدس شافعی، باب 7، ص 217۔
3۔ معجم احادیث المهدی، شیخ علی كورانی، ص 150۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments