×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

آخر الزمان سے کیا مراد ہے؟

مرداد 09, 1393 527

بےشک ہر آغاز کا ایک سرانجام بھی ہے اور ہر شروع کا ایک اختتام؛ سوائے ذات باری تعالی کے جو آغاز بھی ہے اور انجام بھی؛ اور وقت بھی

اسی نے پیدا کیا ہے اور اس قانون سے خارج نہیں ہے چنانچہ زمین میں کتاب زندگی کے آخری اوراق کو آخرالزمان کہتے ہیں۔ (1)
قرآن کریم نے متعدد آیات میں دورہ آخرالزمان کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسلامی معارف میں بھی بارہا "آخر الزمان" کی اصطلاح کو دو معانی میں استعمال کیا گیا ہے (2):  
1۔ وہ زمانہ جو پیغمبر خدا (ص) کی ولادت سے شروع ہوکر عظیم رستاخیز یا آخرت کے آغاز پر اختتام پذیر ہوگا، اسی بنا پر رسول اللہ (ص) کو نبی آخر الزمان کا لقب ملا ہے۔
2۔ وہ زمانہ جو حضرت مہدی (عج) کے ظہور سے شروع ہوتا ہے اور عصر غیبت و ظہور کے تمام واقعات کو اپنے بطن میں لے کر، قیامت کے آغاز پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اور اس زمانے میں "آخرالزمان" سے یہی مراد لی جاتی ہے اور اس لفظ کے یہی معنی ہیں؛ آخرالزمان کی اس قسم کے بھی دو مرحلے ہیں:
الف۔ پہلا دور، جب انسان اخلاقی زوال کے آخری مراحل تک پہنچتا ہے، اخلاقی برائیاں اور ظلم و ستم تمام انسانی معاشروں میں پھیل جاتا ہے اور بروایتے دنیا ظلم و جور سے بھر جاتی ہے۔
ب۔ دوسرا دور، جب اللہ کا وعدہ پورا ہوگا اور نجات دہندہ ظہور کریں گے اور عالمی حکومت تشکیل دیں گے اور کفر و ظلم کے خلاف جدوجہد کریں گے اور عالم وجود کو عدل و انصاف سے مالامال کریں گے۔ امام رضا (ع) فرماتے ہیں:
"خداوند متعال قائم (عج) کے ہاتھوں سے زمین کو ہر ظلم و ستم سے پاک کرے گا اور لوگوں کے درمیان میزان عدل رکھیں گے"۔ (3)
وقت کا یہ حصہ ـ جو آخرالزمان کہلاتا ہے ـ بعض علائم اور نشانیوں کا حامل ہے جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔
 حوالہ جات:
1۔ آسمانی اور غیرآسمانی ادیان نے بھی آخرالزمان کی پیشن گوئیاں کی ہیں: انجیل میں ہے کہ "۔۔۔ اور جان لو کہ آخرالزمان میں دشوار حالات آئیں گے کیونکہ وہ لوگ خودپرست، زرپرست، مغرور و متکبر، کفر گو، والدین کے نافرمان، حق ناشناس اور بےدین ہونگے ..."۔ كتاب مقدس، حواری پولس کا خط پوپ سوئم تیموئیوس، کے نام۔
2۔ دایرة المعارف بزرگ اسلامی، ج2، ص 134ـ136۔
3۔ كمال الدین وتمام النعمة (مجلد واحد) ص 372۔
واضح رہے کہ ان خصوصیات کا تعلق آخر الزمان کے پہلے مرحلے سے تعلق رکھتا ہے جس میں انسان اخلاقی زوال اور فساد و برائی کے آخری مراحل تک پہنچتا ہے:
1۔ منفعت طلبانہ اور استحصالی روابط:
انسان دوسرے انسان کے ساتھ تعلق میں منافع اور سرمائے کو مطمع نظر فرار دیتا ہے اور اسی محرک کی روشنی میں معاشرتی روابط و تعلقات کی طرف گامزن ہوتا ہے۔
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "... آخر الزمان میں بعض اقوام مسلمانوں پر غالب ہونگی اور جب مسلمان بولنے کے لئے منہ کھولیں گے، انہیں قتل کرتے ہیں اور اگر منہ بند رکھیں تو ان کا خون مباح سمجھتے ہیں تا کہ ان (مسلمانوں) کی آمدنی کے وسائل پر قبضہ کریں۔۔۔"۔ (4)
2۔ دین سے فرار:
رسول اللہ (ص) نے اس دور کے انسانوں کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"لوگوں پر ایسا دور آئے گا جب ان کا دین ان کی ذاتی خواہشات سے وابستہ ہوگا، ان کی ہمت ان کے پیٹ تک محدود ہوگی، ان کی عورتیں ان کا قبلہ ہونگی، سونے اور چاندی کے لئے رکوع و سجود کریں گے، وہ ہر وقت حیرت زدہ اور مست و غافل ہونگے نہ وہ مسلمانی کے مذہب پر ہونگے اور نہ نصرانیت پر"۔ (5)
3. دنیا پرستی:
رسول خدا (ص) نے فرمایا: "میری امت پر ایسا دور آئے گا جب لوگوں کا باطن پلید ہوجائے گا لیکن ان کی ظاہری صورت مال اور دنیا کی لالچ کی خاطر آراستہ ہوگی؛ وہ ان چیزوں سے دل بستہ نہ ہونگے جو اللہ کے پاس ہے، ان کا کام ریا اور دکھاوا ہے؛ خوف خدا ان کے دل میں داخل نہ ہوگا اور خداوند متعال انہیں عذاب سے دوچار کرے گا۔ وہ ڈوبنے والوں کی طرح خدا کو پکارتے ہیں لیکن خداوند ان کی دعا مستجاب نہیں کرے گا"۔ (6)
4۔ بڑی آزمائشیں:  
آخرالزمان کی خصوصیات میں سے ایک وہ امتحانات اور آزمائشات ہیں جو انسانوں کو درپیش ہیں۔ امام علی (ع) فرماتے ہیں: "اور یہ وہ زمانہ ہے جب فتنوں سے نجات نہ پائیں گے سوائے وہ مومنین ـ جو بے نام و نشان ہیں ـ اگر حاضر ہوں تو انجانے ہیں اور غائب ہوں تو کوئی ان کا پتہ نہیں پوچھتا، وہ معاشروں کی ظلمانی رات میں سیر کرنے والوں کے لئے چراغ ہدایت اور روشن نشان ہیں، نہ تو فساد اور برائی کے خواہاں ہیں اور فتنہ انگیز ہیں، نہ فحشاء اور بدکاری کو رواج دینے والے ہیں اور نہ ہی نادان اور بیہودہ گو ہیں! یہ وہی لوگ ہیں جن کے لئے خدا اپنی رحمت کے دورازے کھول دیتا ہے اور سختیوں اور مشکلات کو ان سے دور کرتا ہے"۔  (7)
حوالہ جات:
4۔ وہی ماخذ بحوالہ منتخب الاثر، ص 432۔
5۔ مستدرك الوسایل، محدث نوری، ج11، ص 379۔
6۔ الکلینی۔ الکافی، ج 8، ص 306۔
7۔ نهج البلاغه، خطبه 103۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments