×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

آخرالزمان رسول خدا (ص) کی نظر میں

مرداد 09, 1393 554

رسول اللہ(ص) نے فرمایا:"اسلام غربت و تنہائی کی حالت میں طلوع کیا اور آخرالزمان میں بھی تنہا او غریب ہوگا۔۔۔"۔ (1) "۔۔۔ لوگوں کا پیٹ

ان کا معبود ہوگا، ان کی عورتیں ان کی قبلہ گاہ ہونگی اور ان کا پیسہ ان کا دین ہوگا۔۔۔ [یہ وہ زمانہ ہے جب] خدا انہیں چار بلاؤں سے دوچار کرےگا:
اول: ان کی ناموس پر حملہ ہوگا؛
دوئم: طاقتور اور صاحب مال لوگ عوام کا ہتک کرینگے؛
سوم: خشکسالی ہوگی؛
چہارم: حکام اور قاضی ظلم و ستم اپنا پیشہ بنائینگے۔
اصحاب نے آنحضور(ص) کے کلام سے حیرت زدہ ہوکر پوچھا: یا رسول اللہ(ص)! کیا وہ لوگ بت پرست ہونگے؟
فرمایا: "ہاں! ہر درہم اور ہر پیسہ ان کے ہاں ایک بت ہے جن سے وہ پرستش کی حد تک تعلق خاطر رکھتے ہیں"۔ (2)
"۔۔۔ وہ علماء کو دیکھ کر بدکتے اور بھاگتے ہیں جس طرح کہ بھیڑ بھیڑیئے سے بدکتی اور بھاگتی ہے؛ اس زمانے میں خداوند متعال انہیں تین بلاؤں سے دوچار کرےگا:
1۔ ان کے مال سے برکت اٹھائےگا؛
2۔ ظالموں کو ان پر مسلط کرےگا؛ اور
3۔ وہ دنیا سے بےایمانی کی حالت میں رخصت ہونگے"۔
ایک صحابی نے رسول خدا (ص) سے پوچھا: لوگوں کے دین کا حال کیا ہوگا؟
فرمایا: "لوگوں پر ایسا وقت آئےگا جب ہر کوئی دین کے تحفظ میں دشواریوں کا سامنا کرےگا، ان کی دینداری اس شخص کی مانند ہے جو آگ ہاتھ میں اٹھا لے"۔ (3)
"۔۔۔ مسلمانوں کے پاس قرآن کا صرف رسم الخط اور اسلام کا صرف نام، رہےگا، ایسے افراد کو دین کے نام سے پکارا جائےگا جن کا دین سے دور کا واسطہ بھی نہیں؛ ان کی مساجد عمارت کے لحاظ سے آباد اور ہدایت کے لحاظ سے ویران ہونگی؛ لوگوں کے درمیان قرآن اور اہل قرآن کی اقلیت ہوگی؛ ان کے مومنین لوگوں کے درمیان ہونگے لیکن ان میں نہیں ہونگے، ساتھ ہونگے لیکن حقیقتاً ساتھ نہیں ہونگے، کیونکہ ہدایت ضلالت کے ساتھ نہیں ہوسکتی خواہ وہ ساتھ ساتھ ہی کیوں نہ ہوں"۔ (4)
"۔۔۔ انسانی اخلاق ان سے چل بسےگا، اگر کسی کا نام سنو تو اس کو دیکھنے سے بہتر ہوگا اور اگر کسی کو دیکھو تو یہ اس کو آزمانے سے بہتر ہوگا کیونکہ اگر اس کو آزماؤں تو ایسے کریہ اور ناروا حالات اس سے مشاہدہ کروگے؛ ان کا دین پیسہ ہوگا اور قبلہ عورتیں ہونگی، تھوڑی سی روٹی کے حصول کے لئے ہر کسی کے سامنے کرنش (رکوع) کرینگے، نہ اپنے آپ کو اسلام کی پناہ میں سمجھینگے ہیں اور نہ ہی وہ نصرانیوں کے دین پر ہونگے؛ کاروباری لوگ سودخور اور دھوکےباز ہونگے اور ان کی عورتوں نامحرموں کے لئے بناؤ سنگھار کریں گی۔ اس زمانے میں ان کے شرپسند افراد ان پر مسلط ہونگے اور جتنی بھی دعا کرینگے قبول نہ ہوگی"۔ (5)
حوالہ جات:
1۔ بحارالانوار ج 51 ص 366۔
2۔ جامع الاخبار ج 1 ص 355۔
3۔ وہی ماخذ ص 356۔
4۔ بحارالانوار، ج 52، ص190۔
5۔ وہی ماخذ، ج 77، ص369۔
"لوگوں پر ایسا وقت آئےگا جب کسی بھی دیندار شخص کا دین محفوظ نہ رہےگا مگر یہ کہ کسی پہاڑ کی چوٹی پار کرکے بھاگ جائے یا ایک سوراخ سے دوسرے سوراخ میں پناہ لے، جیسا کہ لومڑی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہے؛ اور یہی آخرالزمان ہوگا"۔ (6)
"۔۔۔ کنواراپن حلال ہوجائےگا، مرد اپنے والدین کے ہاتھوں تباہ اور گمراہ ہوگا، اگر اس کے والدین نہ ہوں تو بیوی بچوں کے ہاتھوں ہلاکت میں پڑےگا اور اگر اس کے بیوی بچے نہ ہوں تو عین ممکن ہے کہ اس کی تباہی اور ہلاکت اقارب اور پڑوسیوں کے ہاتھوں ہو جو غربت اور تہیدستی کی بنا پر اس پر لعنت ملامت کرینگے اور اس کو خوفزدہ کرینگے اور اس پر ایسی ذمہ داریاں ڈالینگے جن سے وہ عہدہ برآ نہیں ہوسکےگا اس وقت تک جب وہ ہلاکت کے گڑھے میں سقوط کرکے نابود ہوجائے"۔  (7)
"۔۔۔ فریبی اور دغاباز لوگ آکر نئی تمہارے دین کے بارے میں نئی روایات اور حدیثیں تمہارے لئے پڑھینگے، کہ ایسی حدیثیں تم اور تمہارے باپ دادا نے نہ سنی ہونگی؛ پس ان سے دوری اختیار کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی مکاری کے جال میں پھنس جاؤ"۔ (8)
"یہ دین ہمیشہ کے لئے قائم و دائم رہےگا اور مسلمانوں کی ایک جماعت پیوستہ اس کا دفاع و تحفظ کرے گی اور اسلام کے پہلو میں لڑتے رہینگے"۔ اور فرمایا: "ہر عصر و زمانے میں میری امت کی ایک جماعت احکام الہی کے مدافع ہوگی جو مخالفین سے ہرگز خوفزدہ نہ ہوگی"۔ (9) نیز فرمایا: "آخرالزمان میں جب تمہارا دین مختلف قسم کے افکار کا شکار ہوجائے تو بادیہ نشینوں اور عورتوں کی مانند دینداری کرو  جو دل سے دیندار ہیں اور ان کا دین ہر قسم کی آلا‏ئش اور ملاوٹ سے محفوظ ہے"۔ (10)
حوالہ جات:
6۔ کنزالاعمال، ج11 ح 31008۔
7۔ کنزالعمال ج 11 ص 154۔
8۔ کنزالاعمال، حدیث 290324۔
9۔ کنزالاعمال، ح 34499 و34500۔
10۔ بحارالانوار، ج 52، ص111۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments