×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شیعہ اور آخر الزمان کے فتنے

مرداد 10, 1393 405

امیرالمومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں: عنقریب خداوند متعال ایک گروہ لے کر آئے گا جنہیں خداوند متعال پسند کرتا ہے اور وہ بھی خدا سے

محبت کرتے ہیں؛ اور ایسا شخص حکومت کرے گا جو ان کے درمیان انجانا ہے اور وہ مہدی ہے۔ سرخرو اور رنگے ہوئے بالوں والے۔ وہ کسی سختی کے بغیر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیتا ہے، بچپن میں ہی اپنے والدین سے جدا ہوتا ہے اور اپنے مقام پر بہت ہی عزیز ہے، مسلمانوں کی سرزمینوں پر امن و امان کے ساتھ حکومت کرتا ہے۔ اس کا زمانہ خلوص اور یکرنگی کا زمانہ ہے، جوان اور بوڑھے اس کا کلام سنتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں، زمین کو عدل سے بھر دے گا جس طرح کہ یہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی۔ پس اس حال میں اس کی امامت کامل ہوجاتی ہے اور اس کی خلافت مستقر ہوگی اور اللہ تعالی اٹھا دے گا اہل قبور کو جبکہ ان کے گھروں سے کچھ بھی نظر نہ آئے گا۔ زمین مہدی (ع) کی برکت سے آباد اور پاک و پاکیزہ ہوگی اور اس پر کلیاں برسیں گی۔ نہریں جاری ہوجائیں گی اور فتنے اور جارحیتیں ختم ہونگی اور خیرات و برکات میں اضافہ ہوگا۔
سوال:
جابر کی حدیث میں امام زمانہ (ع) کا نام "م ح م د" ہے پس آپ (ع) کو "مہدی" کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب:
امام زمانہ (ع) عرب ہیں اور عربوں کی رسم کے مطابق آپ (ع) کا ایک نام ہے جو "م ح م د" ہے اور صفات کے لحاظ سے لقب بھی ہے جیسا کہ آپ (ع) کا لقب "مہدی" ہے۔
سوال: امام کا نام کیوں نہیں لینا چاہئے؟ اور تحریر میں آپ (ع) کا نام "م ح م د" کیوں لکھا جاتا ہے؟
جواب:
امام (ع) کا نامی گرامی زبان پر لانا یا لکھنا، بعض روایات کے مطابق آپ (ع) کے ظہور تک، حرام ہے گوکہ بعض علماء اس حرمت کے قائل نہیں ہیں۔
مآخذ: معجم احادیث الامام المهدی ج5 ص91 حدیث 1512 ۔ ینابیع المودة: ص ‍ 467۔ منتخب الاثر: ص ‍ 157 ف ‍ 1 ب ‍ 2 ح ‍ 49
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments