×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

منکرین عقیدہ مہدویت

مرداد 10, 1393 494

اپنی اس تحریر میں ہم امام مھدی علیہ السلام کے منکرین کی طرف سے پیش کی جانے والی چند ضعیف دلیلوں کی طرف اشارہ کریں گے

تاکہ قارئین کو یہ سمجھنے اور باور کرنے میں آسانی ہو جائے کہ امام زمانہ کے منکر  ان کی ذات کےخلاف کیسی ناپاک سازشوں میں مصروف ہیں:
ماضی اور عصر حاضر کے بعض علمائے اھل سنت نے امام مھدی علیہ السلام کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھیں ھیں جیسے ابونعیم اصفھانی نے ”‌مجموعہ الاربعین (چالیس حدیث)، اور سیوطی نے کتاب ”‌العرف الوردی فی اخبار المھدی علیہ السلام“ ۔
بعض علمائے اھل سنت نے عقیدہ مھدویت کے دفاع اور اس عقیدہ کے منکرین کی ردّ میں علمی بیانات اور احادیث کی روشنی میں امام مھدی علیہ السلام کے واقعہ کو یقینی اور غیر قابل انکار مسائل میں شمار کیا ہے جیسے ”‌محمد صدیق مغربی“ کہ جنھوں نے ”‌ابن خلدون“ کی ردّ میں ایک کتاب لکھی اور اس کی باتوں کا دنداں شکن جواب دیاہے۔
پہلا سبب عبداللہ بن سبا
کچھ اہل سنت کے نام نہاد لوگوں نے اپنی معتبر حدیثوں کی کتب میں امام مہدی (عج) پر سینکڑوں احادیث اور باب المہدی یا کتاب المہدی جیسے عناوین کو نظر انداز کرتے ہویے ڈھٹایی سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ عقیدہ مہدویت صرف شیعہ عقاید میں سے ہے اور انہوں نے اس عقیدے کو دوسرے مذاہب خصوصاً یہودیوں سے لیا ہے، یعنی صدر اسلام میں مادی فوائد کے حصول اوراسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی غرض سے یہودیوں کی ایک جماعت نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مخصوص مکر وفریب سے مسلمانوں کے درمیان مقام بنا لیا تھا، جس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اندازی اپنے عقاید کی اشاعت اورمسلمانوں کے استحصال کے علاوہ کچھ اورنہ تھا ، ان ہی میں سے ایک ”‌عبداللہ بن سبا“ ہے جس کوان کا نمایاں فرد تصور کرنا چاہے ،پس اس عقیدے کی ترقی کے دو سبب ہیں ۔ 1۔ بیرونی سبب 2۔ اندرونی سبب ۔ چنانچہ المہدی فی الاسلام کے مصنف لکھتے ہیں :
”‌ کانت الشیعہ الفرق الاسلامیہ الی التعلیق بہٰذہ الاسطورة الّتی ترتکز فی وجود ہا عاملین ، خارجیّ یہودی وقد دخل ہذا العامل الیہودی البیئة الاسلامیہ علی ید عبداللہ بن سبا“( المہدیہ فی الاسلام سعد حسن ، ص 48۔ 60 الشیعہ والتشیع احسان ظہیر الہی، ص 378 کے بعد)
آخر الزمان میں منجی بشریت اور دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے والے کے ظھور کا عقیدہ ایک عالمی اور سبھی کے نزدیک مقبول عقیدہ ہے، اور سچے آسمانی ادیان کے سبھی ماننے والے اپنی کتابوں کی تعلیمات کی بنیاد پر اس قائم کے منتظر ہیں۔ کتاب مقدس زبور، توریت اور انجیل نیز ہندووں، آتش پرستوں اور ”‌برہمن“ کی کتابوں میں بھی اس منجی بشریت کے ظہور کی طرف اشارہ ہوا ہے، البتہ ہر قوم و ملت نے اس کو الگ الگ لقب سے یاد کیا ہے۔ آتش پرستوں نے اس کو ”‌سوشیانس“ (یعنی دنیا کو نجات دینے والے) ، عیسائیوں نے اس کو ”‌مسیح موعود“ اور یہودیوں نے اس کو ”‌سرور میکائلی“ کے نام یاد کیا ہے ۔
آتش پرستوں کی مقدس کتاب ”‌جاما سب نامہ“ کی تحریر کچھ اس طرح ہے:
”‌عرب کا پیغمبر آخری پیغمبر ہوگا جو مکہ کی پہاڑوں کے درمیان پیدا ہوگا۔۔۔ اپنے غلاموں کے ساتھ متواضع اور غلاموں کی طرح نشست و برخاست کرے گا۔۔۔ اس کا دین سبھی ادیان سے بہتر ھو گا، اس کی کتاب تمام کتابوں کو باطل کرنے والی ہو گی۔۔۔ اس پیغمبر کی بیٹی (جس کا نام خورشید جہان اور شاہ زمان ہوگا) کی نسل سے خدا کے حکم سے اس دنیا میں ایک ایسا بادشاہ ھو گا جو اس پیغمبر کا آخری جانشین ھو گا، جس کی حکومت قیامت سے متصل ہوگی“ ( ادیان و مھدویت، ص 21)
منکرین عقیدہ مہدویت کے دعوے کی صرف ایک ہی دلیل ہے اور وہ ایک ضعیف تاریخی روایت ہے جس کو جناب” طبری “نے سب سے پہلے اپنی تاریخ میں نقل کیا اور ان کے بعد آنے والے تمام مورخین نے اس بے بنیاد مجعول شدہ روایت کو جناب طبری پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی کتب تاریخی میں نقل کیا ہے ۔
اورشیعہ دشمن عناصر نے متعدد مقامات پر اس سے استفادہ کرتے ہوئے ان کو شیعہ مذہب کا بانی اور موجد قرار دیتے ہوئے بہت سے اسلامی عقاید کو مخدوش بنانے کی کوشش کی ہے ، ان میں سے ایک ” عقیدة مہدویت“ ہے ، تمام مغرضین اور منحرفین نے اسی روایت سے تمسک کیا ہے اور عبداللہ بن سبا کے یہودی ہونے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔
لہذا اس تاریخی روایت کو قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اہل سنت کی کتب ”‌رجالی“کی روشنی میں اس روایت میں موجود افراد ، یعنی رجال کے بارے میں مختصر سی گفتگو کرتے ہیں ، تاکہ عبداللہ بن سبا کی حقیقت اور اس کی حیثیت سے قارئین محترم کاملاً آشنا ہو سکیں روایت یہ ہے :
”‌کتب الی السّری عن شیعب عن سیف عن عطیّہ ، عن یزید الفقسعی کان عبداللہ بن سبا یہودیاً من اہل صنعا امہ سوداء، فاسلم زمان عثمان ثم تنتقل فی بلدان المسلمین یحاول ضلالتہم ۔“ (۔تاریخ طبری ، ج2، ص 622، باب ذکر حوادث 35ھ ۔)
سری نے شعیب سے انہوں ے سیف سے انہوں نے عطیہ سے انہوں نے یزید فقسعی سے روایت نقل کی ہے کہ عبداللہ بن سباء یہودی تھا صنعا کا رہنے والا تھا، حضرت عثمان کے زمانے میں مسلمان ہوا اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

Login to post comments