×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

علت ختم نبوت

مرداد 10, 1393 423

کیوں گذشتہ زمانوں میں انبیاء یکے بعد دیگرے بھیجے جاتے تھے اور سلسلہ نبوت ختم نہیں ہوتا تھا لیکن حضرت محمد مصطفےٰ

صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا؟ ا س سوال کے جواب کے لئے تین نکتوں کی طرف اشارہ ضروری ہے۔
(1) زمانہ قدیم کا بشر اپنے عدم رشد اور عدم ارتقائے فکر کی وجہ سے آسمانی کتاب کی حفاظت نھیں کرسکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ گذشتہ آسمانی کتابیں یا تو بالکل ہی غائب ہو جاتی تھیں یا اس میں تحریف وتبدیلی ہوجاتی تھی۔ اس صورت میں ایک بارپھر ایک نئے پیغام و پیغامبر کی ضرورت ہوتی تھی لیکن رسول اکرم کی بعثت کے بعد بشریت اپنے طفلگی کے حدود سے باہر نکل کر رشد و ارتقائے فکری کے اس مقام تک دسترسی حاصل کرچکی تھی کہ اپنی علمی ودینی میراث کی محافظت کرسکے۔ اسی بنا پر، فقط قرآن مجید ایسی آسمانی کتاب ہے جس میں کسی بھی قسم کی تحریف یا تبدّل وتغیّر نھیں ہوسکا ہے۔
(2) زمانہ قدیم کے بشر میں اس قدر صلاحیت و قدرت نھیں تھی کہ وہ اپنے سفر زندگی کا ایک کلی خاکہ بنا سکے اور اس خاکے کی مدد سے اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ اس لئے ضروری تھا کہ بتدریج اور مرحلہ بہ مرحلہ بشر کی راہنمائی کی جائے۔لیکن بعثت رسو ل خدا کے ساتھ وہ وقت بھی آگیا جب بشر اپنے اس نقص پر قابو پاچکا تھا۔
(3) خدا کی طرف سے ہدایت بشر کے لئے بھیجے جانے والے انبیاء میں سے بعض نئی شریعت لے کر آئے تھے اور بعض کوئی نئی شریعت لے کر نھیں آئے تھے بلکہ اپنے سے پہلے والے نبی کی شریعت کی ہی تبلیغ و ترویج کیا کرتے تھے۔ اس طرح، انبیاء دو طرح کے ہوتے ہیں:
1۔ صاحب شریعت
2۔ وہ انبیاء جو شریعت تو لے کرنہیں آتے مگر گذشتہ نبی کی شریعت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر انبیاء صاحب شریعت نہیں ہوتے تھے اور اگر صاحب شریعت انبیاء کو شمار کیا جائے تو ان کی تعداد شاید دس سے بھی آگے نہ بڑھ سکے۔ غیر صاحب شریعت انبیاء کی ذمہ داری یہ ہوتی تھی کہ وہ اس شریعت کی ترویج ، تبلیغ وتفسیر اور اجراء کریں جوان کے زمانے میں پائی جاتی تھی۔
مذکورہ بالا نکات کے پیش نظر کھا جاسکتا ہے کہ ختم نبوت کی علت، بشرکے رشد وارتقائے فکری میں پوشیدہ ہے کیونکہ بعثت رسول خدا کے وقت بشر اس مقام تک پہونچ گیاتھا کہ:
1) اپنی آسمانی کتاب کوہر قسم کے نقصان یا تحریف سے محفوظ رکھ سکے۔
2) اپنی ھدایت، سعادت وکمال کا دستورالعمل یکجا طور پر حاصل کرسکے۔
3) ترویج و تبلیغ دین، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کوخود ادا کرسکے یعنی اس ذمہ داری کو قوم کے علماء اورصلحاء انجام دیں سکیں۔
4) اجتھاد کی روشنی میں کلیات وحی کی تفسیر وتشریح کرسکے اور ہر زمانے کے مختلف شرائط کے تحت اصل کی طرف رجوع کرکے ہر مسئلے کا حل پیش کرسکے۔ یہ ذمہ داری بھی علماء کی ہے۔
حوالہ:
1۔سورہ آل عمران/19۔
2۔سورہ آل عمران/ 81۔
3۔ سورہ احزاب /40۔

Login to post comments