Print this page

عزاداری میں جزع اور بے چینی

مرداد 10, 1393 422
Rate this item
(0 votes)

سوال:عزاداری میں جزع اور بے چینی کا کیا حکم ہے؟جواب: جزع اور بے قراری و بےچینی در حقیقت ہماری متعدد روایات و احادیث میں وارد ہوئی ہے۔

ابتدا میں کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
روایت ہے کہ امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
{إِنَّ الْبُكاءَ وَ الْجَزَعَ مَكرُوهٌ لِلْعَبْدِ فِی كلِّ مَا جَزِعَ مَا خَلَا الْبُكاءَ عَلَى الْحُسَینِ بْنِ عَلِی علیه‏ السلام فَإِنَّهُ فِیهِ مَأْجُورٌ}۔ (1)
بندگان خدا کے لئے ہر مصیبت پر جزع کرنا اور گریہ اور بےچینی کرنا مکروہ ہے سوائے اس جزع اور بےچینی کے جس کا اظہار امام حسین بن علی (علیہما السلام) کی مصیبت میں کیا جاتا ہے؛ پس بےشک بےچینی اور جزع کرنے والے کو اس صورت میں اجر و انعام ملے گا۔
ایک دوسری روایت میں امیرالمومنین (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے جسد نورانی کو غسل دیتے وقت فرماتے ہیں:
{وَلَوْ لا أَنكَ أمَرْتَ بِالصَّبْرِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْجَزَعِ لَأَنفَدْنا عَلَیْكَ ماءَ الشُوُونِ، وَلَكانَ الدّاءُ مُماطِلاً، وَالْكَمَدُ مُحالِفا، وَقَلاًّ لَكَ}۔ (2)
"اگر آپ نے ہمیں صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور بے تابی اور بےچینی سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم اس قدر گریہ و زاری کرتے کہ ہمارے آنسو ختم ہوجاتے؛ آپ کی جدائی کا دکھ رخصت نہیں ہوتا بلکہ رکا ہوا ہے اور آپ کے فراق کا حزن و غم قسم خوردہ حلیف کی طرح مسلسل ہمارے ساتھ ہے؛ آپ کے سوگ میں ہم جتنی بھی بےچینی کا اظہار کریں پھر بھی کم ہے۔
حوالہ جات:
1۔ بحار الانوار الجامعة لدرر أخبار الائمة الاطهار، العلامة الحجة فخر الامة المولى الشیخ محمد باقر المجلسی (قدس الله سره) ج 45، ص 313۔
2۔ نهج البلاغه، امیر المومنین (علیہ السلام) خطبه 226۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments