Print this page

کیا اہل بیت (ع) کے زمانے میں قمہ زنی را‏ئج تھی؟

مرداد 10, 1393 487
Rate this item
(0 votes)

سوال:کیا اہل بیت (ع) کے زمانے میں قمہ زنی را‏ئج تھی؟جواب: ہمارے کسی بھی امام سے ایسی کوئی روایت وارد نہیں ہوئی جس میں

انہوں نے اپنے پیروکاروں کو ان اعمال کی اجازت دی ہو یا انہوں نے خود ایسے اعمال سرانجام دیئے ہوں یا ان کے زمانے میں کسی نے خفیہ یا اعلانیہ طور پر ایسے اعمال کا اہتمام کیا ہو اور لوگوں نے جلوس نکال کر اسلام اور تشیع کی حرمت و آبرو کو مخدوش کردیا ہو۔ ہرگز! ہرگز! حتی شیعیان اہل بیت (ع) کی آزادی اور تقیہ کے عوامل و اسباب کے خاتمے کے دور میں بھی ۔ جبکہ (بنوعباس کے ابتدائی دور میں اور مأمون کی سلطنت کے دوران) اہل تشیع کو اپنے اعمال و عبادات کی بجاآوری میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ تھا ۔ ایسے اعمال دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔ «ہزار اگر کے ساتھ» اگر فرض کریں کہ یہ اعمال حرام بھی نہ ہوں بلاشک ان چیزوں میں سے ہیں جو مذہب کے لئے باعث شرم و عار ہیں اور دنیا کے لوگوں کو دین اسلام سے بیزار کرتے ہیں اور قطعی طور پر دین اسلام کے خلاف مخالفین کی بدگوئی اور بدزبانی کے اسباب فراہم کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اعمال، یہ جلوس، یہ سروں پر ضربیں لگانا، یا قمہ کشیاں کرنا اور وہ بھی لوگوں اور مجمع کے سامنے (اور اس زمانے میں دنیا کے نظروں کے سامنے) (1) یہ تمام اعمال، جن پر خدا اور پیغمبر اسلام (ص) اور ائمۂ طاہرین (ع) ہرگز راضی نہیں ہیں اور ان سب سے بدتر ان امور کو ان بزرگ ہستیوں سے منسوب کرنا ہے جو بدترین گناہ اور شدید ترین خیانتوں اور شدید ترین عذاب و عقاب کا سبب بننے والے گناہوں کے زمرے میں آتا ہے۔ (2)
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

Login to post comments