×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اصحاب مہدی (عج) حدیث کی روشنی میں

مرداد 10, 1393 440

احادیث کی روشنی میں مجموعی طور پر حضرت مہدی (عج) کے اوصاف و خصوصیات درج ذیل ہیں:اللہ کی گہری معرفت: امام صادق (ع):

"اصحاب مہدی کے دلوں میں خدا کی نسبت کوئی شک نہیں تردد نہیں ہے"۔ (1) اور وہ "خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں جس طرح کہ یقین کا حق ہے"۔ (2)
امام زمانہ (عج) کی معرفت:
امام سجاد (ع): "وہ ایسے لوگ ہیں جو مہدی (عج) کی امامت پر ایمان رکھتے ہیں"۔ (3)
اخلاص:  
امام جواد (ع): "جب اخلاص کے مالک 313 افراد جمع ہونگے خداوند متعال ان کا امر ظاہر فرمائے گا (اور وہ ظہور فرمائیں گے)"۔ (4)
اطاعت و فرمانبرداری:
امام صادق (ع): "امام کی نسبت ان کی اطاعت مالک کی نسبت کنیز کی اطاعت سے کہیں زیادہ ہوگی"۔ (5)
استقامت:
امام صادق (ع): "۔۔۔ ان کے دل گویا لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہیں خدا کی راہ میں کوئی بھی مشکل ان کے ارادے میں خلل نہیں ڈالتے اور وہ پتھر سے زیادہ مستحکم ہیں"۔ (6)
جان نثارى:  
امام صادق (ع): "وہ پروانہ وار امام (عج) کی شمع وجود کے گرد طواف کریں گے اور اپنی جان نچھاور کرکے امام (عج) محافظت کریں گے: {یحفون به}۔ (7)
اللہ کی تائید سے بہرہ مندی:
امیرالمومنین (ع): "۔۔۔ خداوند متعال ایک مرد (مہدی عج) کو آخرالزمان میں اٹھائے گا ۔۔۔ اپنے فرشتوں کے ذریعے اس کی تائید کرے گا اور اس کے انصار و اعوان کی حفاظت فرمائے گا"۔ (8)
حوالہ جات:
1۔ بحارالانوار، ص 317۔
2۔ بشارة الاسلام، ص 220۔
3۔ کمال الدین، ح 1، باب 31، ح 2۔
4۔ وہی ماخذ، ص 378۔377۔
5۔ بحارالانوار، ج 52، ص 308۔
6۔ وہی ماخذ 307، ح 82۔
7۔ وہی ماخذ ص 308۔
شہادت طلبى:  
امام صادق (ع): "اصحاب مہدی (ع) کی آرزو ہوگی کہ خدا کی راہ میں جام شہادت نوش کریں"۔ (9)
صبر و بردبارى؛
امیرالمومنین (ع): "اصحاب مہدی (عج) ایسی جماعت ہیں جو راہ خدا میں صبر و بردباری کے عوض اپنے امام (عج) پر احسان نہیں جتاتے اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے اپنے اوپر فخر نہیں کرتے اور تکبر نہیں کرتے"۔ (10)
دنوں کے شیر اور راتوں کے زاہد:
امام صادق (ع): "گویا میں دیکھ رہاں ہوں کہ حضرت قائم (عج) اور ان کے اصحاب کوفہ اور نجف میں ـ جبکہ ان کی جبینوں پر سجدوں کے نشان نظر آرہے ہیں ـ دنوں کے شیر اور راتوں کے زاہد و راہب ہیں"۔ (11)
یکدلی اور ہمآہنگی:
امیرالمومنین (ع): "اصحاب مہدی (عج) یک دل اور ہماہنگ ہیں"۔ (12)
برت کے خواہاں:
امام صادق (ع): "وہ اپنے گھوڑوں کی پیٹھ پر، تبرکا،ً ہاتھ امام (عج) کے زین ہاتھ کھینچتے ہیں"۔ (13)
عبادت الہی:
امام صادق (ع): "راتوں کی تاریکی میں خدا کے خوف سے، نالہ و فریاد کرتے ہیں جوان مردہ ماؤں کی طرح؛ وہ راتوں کو عبادت میں بسر کرتے ہیں اور دنوں کو روزے میں"۔ (14)
شجاعت:  
امیرالمومنین (ع): "اصحاب مہدی (عج) وہ بیشوں (جنگلوں) سے نکلے ہوئے شیر ہیں اور اگر ارادہ کریں تو پہاڑ کو بنیاد سے اکھاڑ دیتے ہیں"۔ (15)
علم و بصیرت:  
امیرالمومنین (ع): "پس ان فتنوں میں ایک جماعت کو صیقل ملتا (اور جلا ملتی) ہے جس طرح کہ لوہار تلوار کو صیقل و جلا دیتا ہے۔ ان کی نظریوں کو نور قرآن سے جلا ملی ہے اور ان کی سماعتوں میں تفسیر کی گونج ہے۔ راتوں کو انہیں جام حکمت پلایا جاتا ہے، اس جام کے بعد صبح کو بھی یہ جام انہیں نوش کرایا گیا ہوگا"۔ (16)
حمایت حق:  
امام صادق (ع): "خداوند متعال ان کے ذریعے امام حق کی امداد فرمائے گا"۔ (17)
نورانی حکمت:  
امام صادق (ع): "گویا ان کے دل نورانی مشعل ہیں: {قلوبهم القنادیل}۔ (18)
حوالہ جات:
9۔ بحارالانوار ج 52 ص 307۔
10۔ یوم الخلاص، ص 224۔
11۔ بحارالانوار، ج 52، ص 386۔
12۔ یوم الخلاص، ص 224۔
13۔ بحارالانوار، ج 52، ص 308۔
14۔ یوم الخلاص، ص 224۔
15۔ وہی ماخذ۔
16۔ بحارالانوار، ج 52، ص 334۔
17۔ وہی ماخذ، ص 308۔
18۔ وہی ماخذ۔
محمد بن ابراہیم نعمانی اپنی معتبر کتاب "الغیبہ" میں اور شیخ مفید اپنی کتاب "الاختصاص" میں ایک روایت کرتے ہیں کہ امام ابوجعفر محمد باقر (ع) نے فرمایا:
{یا جابر، الزم الأرض ولا تحرك یدا ولا رجلا حتى ترى علامات أذكرها لك إن أدركتها ... فیجمع الله علیه أصحابه ثلاثمائة وثلاثة عشر رجلا ، ویجمعهم الله له على غیر میعاد قزعا كقزع الخریف}۔ (1)
"... اے جابر! زمین سے چپک جاؤ اور ہاتھ پاؤں مت ہلاؤ حتی کہ وہ علامتیں ظاہر ہوجائیں جو میں تمہیں بتاتا ہے اگر تم یہ علامات دیکھ لو۔۔۔ پس اللہ ان کے اصحاب کو ان کے لئے جمع کریں گے؛ بغیر اس کے انہیں پیشگی وعدہ دیا گیا ہو، ان کے آنے کی کیفیت خزان کے بادلوں کی مانند ہے جو تیز رفتاری سے آتے ہیں"۔
یہ روایت سند کے لحاظ سے صحیح ہے اور اس میں کوئی نقص نہیں ہے؛ بہت سی شیعہ کتب میں بھی نقل ہوئی اور ایک معتبر روایت ہے۔
سید بن طاؤس نے اپنی کتاب "الملاحم والفتن" میں ایک حدیث کے ضمن میں امام صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے امام مہدی (عج) کے عرب صحابیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا:
"شام سے دو افراد، فلسطین سے ایک، بابل سے ایک، حلب سے چار، دمشق سے تین، بعلبک سے ایک، طرابلس سے ایک، ایلہ سے ایک، خیبر سے ایک، بدر سے ایک، مدینہ سے ایک، کوفہ سے چودہ، حیرہ سے ایک، زبیدہ سے ایک اور بصرہ سے تین اور ۔۔۔ (2)
حوالہ جات:
1۔ كتاب الغیبة، محمد بن إبراهیم النعمانی، ص 288 و 291۔ الاختصاص، الشیخ المفید، ص 257 و... ۔
2۔ الملاحم و الفتن فی ظهور الغائب المنتظر، عجّل اللَّه تعالی فَرَجَهُ الشَّریف، ص 185 و 186، موسسة الاعلمی۔

Login to post comments