×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

انتظار مہدی اور حکومت نبوی!

مرداد 10, 1393 381

سوال یہ ہے کہ شر اور پلیدی سے انسان کی نجات اور مصلح حقیقی کا انتظار رسول اللہ (ص) کی حکومت کے ایام کی مانند ہے یا اس سے

بھی بہتر و بالاتر ہے؟ اگر ایسا ہے تو حضرت رسول (ص) کے زمانے میں اسلامی معاشرہ اس سطح پر کیوں نہیں پہنچا؟
جواب:
بے شک اس خاندان پاک سے محبت اور قربت ان کی تعلیمات سے بہرہ مندی اور سعادت کا سبب ہے؛ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ رسول خدا (ص) نے اپنے بعد اپنی عترت کی پیروی اور محبت و مودت کی بہت سفارش کی اور خداوند متعال نے بھی یہی حکم دیا (1) اور رسول اللہ (ص) نے حدیث ثقلین (2) میں قرآن و اہل بیت (ع) کو قرین قرار دیا اور ان دونوں کی پیروی کو گمراہی سے نجات کی ضمانت قرار دیا؛ اور مستدرک الصحیحین سمیت متعدد سنی کتب اور 110 صحابہ کی گواہی کے مطابق امیرالمومنین (ع) کی حکومت کا اعلان کیا اور اصحاب نے غدیر میں بیعت کی لیکن امتیوں نے بہت جلد خاندان رسالت کو معاشرتی امور سے الگ کردیا اور انہیں مکمل بےرخی کا سامنا کرنا پڑا؛ یہیں سے اس سوال کا جواب واضح ہوتا ہے کہ اسلام رسول اللہ (ص) کے زمانے میں کیوں اس سطح پر نہ پہنچ سکا جس کا اللہ نے وعدہ دیا تھا۔ بےشک اس نورس پودے کو باغبان سے الگ کردیا گیا اور اس کشتی کو کشتی بان سے محروم کردیا گیا چنانچہ یہ مسلسل ساحل سے دور اور دورتر ہوئی۔
رسول اللہ (ص) کے ایام حیات دوسروں کی ہدایت اور انہیں کفار و مشرکین کے خلاف جہاد پر آمادہ کرنے میں گذری اور وہ اپنے الہی اور قرآنی اہداف تک نہ پہنچ سکے اور آپ (ص) کے وصال کے بعد اسلام کی باگ ڈور ان برگزیدگان کے سپرد نہ کی گئی جنہیں اللہ نے یہ عہدہ سونپا تھا۔  چنانچہ حضرت مہدی (عج) کے ظہور کے ساتھ ہی رسول اللہ (ص) کی حقیقی حکومت قائم ہوگی، محرومین چھٹکارا پائیں گے۔
حوالہ جات:
1۔ سورہ شوری آیت 23۔
2۔ مستدرک الصحیحین ج 3 ص 109۔
امام موسی کاظم (ع) فرماتے ہیں:
"خوش نصیبی ہے ہمارے پیروکاروں کے لئے جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانے میں ہماری محبت اور پیروی پر استوار اور ثابت قدم اور ہمارے دشمنوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان سے ہیں اور وہ ہم سے ہیں؛ انھوں نے ہمیں اپنے امام کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے اور ہم نے انہیں اپنے شیعوں اور پیروکاروں کی حیثیت سے قبول کیا ہے؛ خوش نصیبی ہے ان کے لئے پھر بھی خوش نصیبی ہے ان کے لئے؛ اور خدا کی قسم! کہ قیامت میں وہ ہمارے ہم رتبہ ہونگے"۔ (3)
امام موسی کاظم اور امام رضا (ع) نے فرمایا:
"۔۔۔ خداوند متعال ان (مہدی (عج)) کے ذریعے زمین کو ظلم و ستم سے پاک کرے گا اور ہر ظلم سے منزہ کرے گا اور یہی وہ امام (ع) ہیں جن کے پیروکار ان کی ولایت میں متردد ہونگے اور ظہور سے قبل غائب ہونگے اور جب ظاہر ہونگے تو زمین کو روشنی ملے گی اور عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا اور کوئی بھی دوسرے پر ظلم روا نہیں رکھے گا۔۔۔"۔ (4)
اور ظہور مہدی (عج) کے بعد بعض انبیاء اور ا‏ئمہ (ع) رجعت کریں گے اور حکومت کریں گے جن میں رسول اللہ الاعظم (ص) اور امیرالمومنین و امام حسن و امام حسین (ع) شامل ہیں؛ اور یہ سب اس لئے ہوگا کہ لوگوں کے ایمان اور فہم و دانش کی سطح بہت بلند ہوچکی ہوگی۔
ہمیں بھی وہ روز دیکھنے کی امید ہے اور اللہ کی بارگاہ میں عاجزانہ التجا کرتے ہیں کہ ظہور امام مہدی (عج) میں تعجیل فرما کر اہل اسلام کے مسائل کو جلد از جلد حل فرمائے ـ آمین۔
حوالہ جات:
3۔ کشف الغمہ ـ العلامة المحقق أبی الحسن على بن عیسى بن أبی الفتح الاربلی (رح) المتوفى سنة 693 ه ‍ ط دار الاضواء بیروت ـ ج 3 ص 331۔
4۔ وہی ماخذ ص 332۔

Login to post comments