×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

آنجناب کا انتظار!

مرداد 10, 1393 437

انسان اپنی زندگی میں انتظار کا مرہون منت ہے اور اگر انتظار سے باہر نکلے اور مستقبل کے بارے میں پر امید نہ ہو تو زندگی بےمقصد ہوگی؛

انتظار اور حرکت یا تحرک ساتھ ساتھ چلتے ہیں، جس چیز کا انتظار کیا جاتا ہے، جس قدر وہ مقدس اور قابل قدر ہو انتظار بھی اسی قدر مقدس اور اعلی ہوگا اور ہم لوگوں کے انتظار کی قدر و قیمت یوں معلوم کرتے ہیں:
* کوئی سال کے آخر میں تنخواہ میں اضافے کا انتظار کرتا ہے؛
* کوئی تعلیم کے آخری سال اور سرٹیفکیٹ اور ڈگری کا منتظر ہے جس کے ذریعے وہ روزگار کی تلاش میں نکلے گا؛
* کوئی معاشی صورت حال کی بہتری کا منتظر ہے تاکہ شادی کرے اور تنہائی سے خلاصی پائے؛
* کوئی آمدنی میں اضافے کا منتظر ہے تاکہ ذاتی مکان اور گاڑی خرید لے اور اگر زیادہ بلند ہمت ہو تو اسپتال، مسجد، اسکول یا کتب خانہ تعمیر کرے؛
* کوئی کسی نیلامی یا ٹھیکہ جیتنے کا انتظار کرتا ہے؛
* کوئی معیشت کی بہتری کا منتظر ہے تاکہ حج و زیارت پر جائے اور کوئی ۔۔۔
مختصر یہ کہ سب منتظر ہیں، تاجر و صنعتکار، باغدار و کاشتکار، شاگرد و استاد، والدین اور بچے سب منتظر ہیں بلکہ تمام قومیں اور معاشرے اور حکومتیں بھی...
** سرمایہ دارانہ نظام سے وابستہ حکومتیں مزید طاقت اور دنیا کو زیر تسلط لانے اور قوموں کا استحصال کرنے کے کے منتظر ہیں؛
** کمیونسٹ حکومتیں کو انتظار ہوتا تھا کہ مزید ممالک کو زیر تسلط لائیں اور قوموں کی کمزوری اور غربت کمیونسٹ انقلابات کے لئے راستہ ہموار کرے۔
چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے: "کہہ دیجئے کہ ہر ایک انتظار کرنے والا ہے لہٰذا تم بھی منتظر رہو"۔ (1)
اگر انسان سے انتظار چھین لیا جائے تو زندگی جاری رکھنا بےمعنی ہوگا، انتظار زندگی کو لذت بخش بناتا ہے اور انتظار کی بنا پر انسان زندگی سے محبت کرتا ہے اور زندگی کو روح و معنی بخشتا اور انسان کو زندگی کی طرف مائل کرتا ہے پس پوری دنیا اور تمام معاشرے اور افراد جب تک فناء اور موت سے دوچار نہیں ہوئے ہیں، منتظر رہتے ہیں اور انہیں منتظر رہنا چاہئے۔
اسلام اور انتظار:
اسلام، جس کی تعلیمات و ہدایات عمیق اور صحیح معاشرتی اور حقیقی فلسفے پر استوار ہیں، انتظار اور مستقبل کی طرف نگاہ کو اسلامی معاشرے کی بقاء کی بنیاد قرار دیتا ہے جو جذبات کو متحرک کرتا ہے اور روح کو وجد کی نعمت سے نوازتا ہے اور بہت مستقبل اور فتح و فراخی و فَرَج کو برترین اور بہترین عمل سمجھتا ہے اور اسلام کے رہبر عظیم الشان (ص) نے فرمایا ہے کہ "انتظار فَرَج میری امت کے بہترین اعمال میں سے ہے۔ (2)
حوالہ جات:
1۔ {قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوا} سوره طه ، آیه 135۔  
2۔ قال رسول الله (صلی الله علیه وآله): {افضل اعمال امتی انتظار الفرج}۔ تحف العقول، صفحه 37۔
چنانچہ مسلمان بالعموم اور شیعہ بالخصوص منتظر ہیں کہ پوری دنیا میں عدل و علم و توحید و ایمان و مساوات و اخوت قائم ہو اور بےشمار آیات کریمہ اور احادیث شریفہ کا موعود پیشوا ظہور کرے اور اسلام کے توحیدی آئین کو شرق و غرب عالم میں نافذ کرے اور امت واحدہ، حکومت واحدہ، قانون واحد، نظام واحد کو قائم کرکے افراد بشر کو متحد، یک صدا، ہم قدم اور بہم پیوستہ بنا دے۔
تاریخ، فلسفۂ ادیان اور قرآن و احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظار تمام ادیان میں آب حیات کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور سب کی بقاء کا راز ہے۔ اور آج بھی یہ اسلامی معاشرے کی بقاء کا عامل ہے۔
ایک وسیع نگاہ:
انتظار کی شیعی اور اسلامی نوعیت مسلمانوں اور شیعیان آل رسول (ص) کی نگاہ کی بلندی کا ثبوت ہے جبکہ دوسری قومیں منتظر ہیں کہ دوسری قوموں پر تسلط جمائیں، ان کی رقیب قومیں نیست و نابود ہوجائیں اور یہ ان کے وسائل کا استحصال کریں اور دنیا ان کے ہوٰی و ہوس کے زیر تسلط آئے؛ ان کی بڑی کمپنیاں دوسری قوموں کی منڈی اور تجارت پر مسلط ہونے اور ان کو غلام بنانے کے منتظر ہیں؛ آج کی بےمقصد دنیا میں کلبوں اور برائی کے مراکز کے سامنے درجنوں افراد افراد ان مراکز کا دروازہ کھلنے کے منتظر ہیں؛ ان ہی حالات میں ایک مسلمان اس دن کا انتظار کررہا ہے جب دنیا حق و عدل و توحید اور اسلامی کی عالمی حکومت کے پرچم تلے متحد ہو اور تمام ناانصافیوں کا خاتمہ ہو اور یہ بے معنی فاصلے خلق خدا کے بیچ سے رخت سفر باندھ لیں۔
مسلمان اس روز کے منتظر ہیں جب دنیا بھر میں غربت اور بدبختی اور جہل و نادانی کی بیخ کنی ہوگی اور معاشروں کی بصیرت کامل ہوگی اور صالح و منصف افراد ان کی باگ ڈور سنبھالیں گے؛ جغرافیائی، قومی اور دینی اختلافات اور باطل سیاستیں، حکومتیں اور مسالک کا خاتمہ ہوگا۔
یہی انتظار پوری انسانیت کے لئے خیر و سعادت اور آزادی و مساوات اور آسائش و رفاہ و علم و ترقی اور عدل و نیک بختی کے اسباب فراہم کرتا ہے۔ یہ انتظار انسان کو محکم و با استقامت، با ارادہ اور تسلط ناپذیر، مستقل اور شجاع اور بلند ہمت بناتا ہے۔
یہ انتظار ایک لفظ نہیں بلکہ عمل و حرکت و تحریک و جہاد ہے، صبر و استقامت ہے۔  
منبع: "امامت و مهدویت" ، تألیف: آیت الله العظمی صافی گلپایگانی۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments